ہندوستان
ہند- فلپائن تہذیبی روابط قدیم زمانے سے ہیں:وزیر اعظم
فلپائن کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس بیان کے دوران وزیر اعظم کا پریس بیان
نئی دہلی، رواں سال ہندستان اور فلپائن اپنے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں- اس پس منظر میں فلپائن کے صدر کا یہ دورہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ہمارے سفارتی تعلقات اگرچہ نسبتاً نئے ہیں، لیکن ہماری تہذیبوں کے روابط قدیم زمانے سے ہیں۔ فلپائن کی رامائن – ‘‘مہاراڈیا لوانا’’ – ہمارے صدیوں پرانے ثقافتی رشتوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ حال ہی میں جاری کیے گئے ڈاک ٹکٹ، جن پر دونوں ممالک کے قومی پھول دکھائے گئے ہیں، ہماری دوستی کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نےفلپائن کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس بیان کے دوران کیا-
وزیر اعظم نے کہاکہ ہر سطح پر بات چیت ہر شعبے میں تعاون، طویل عرصے سے ہمارے تعلقات کی شناخت رہا ہے۔آج میری اور صدر محترم کی باہمی تعاون، علاقائی معاملات، اور بین الاقوامی حالات پر تفصیل سے بات چیت ہوئی۔یہ خوشی کی بات ہے کہ آج ہم نے اپنے تعلقات کو اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس پارٹنرشپ کی طاقت کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع ایکشن پلان بھی تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا دوطرفہ تجارتی حجم مسلسل بڑھ رہا ہے اور تین بلین ڈالر کا ہندسہ عبور کر چکا ہے۔اسے مزید مضبوط کرنے کے لیےانڈیا-آسیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے جائزے کو جلد مکمل کرنا ہماری ترجیح ہے۔اسی کے ساتھ، ہم نے دوطرفہ ترجیحی تجارتی معاہدہ پر کام کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔انفارمیشن اینڈ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت، آٹوموبائل، انفرااسٹرکچر، معدنیات، ہر شعبے میں ہماری کمپنیاں سرگرمِ عمل ہیں۔سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں وائرولوجی سے لے کر آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ایڈیٹیو مینوفیکچرنگ تک مشترکہ تحقیق جاری ہے۔آج طے پانے والاسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوآپریشن پلان اس میں مزید رفتار لے کر آئے گا۔
وارانسی میں قائم انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا علاقائی مرکز،انتہائی کم گلائیسیمک انڈیکس والے چاول پر تحقیق کر رہا ہے۔یعنی ہم مل کر ذائقے اور صحت دونوں پر کام کر رہے ہیں!مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ڈیولپمنٹ پارٹنرشپ کے تحت ہم فلپائن میں کوئک امپیکٹ پروجیکٹ کی تعداد بڑھائیں گےاور فلپائن میں سوورن ڈیٹا کلاؤڈ انفرااسٹرکچر کی ترقی میں بھی تعاون کریں گے۔
زمین پر تو ہماری شراکت داری مضبوط ہے ہی، اب ہم نے خلا کے لیے بھی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس مقصد کے لیے آج ایک معاہدہ بھی طے پایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط ہوتے ہوئے دفاعی تعلقات ہمارے باہمی اعتماد کی گہری علامت ہیں۔ بحری ممالک کی حیثیت سے، دونوں ملکوں کے درمیان بحری تعاون فطری بھی ہے اور ضروری بھی۔ انسانی ہمدردی کی امداد، قدرتی آفات میں مدد اور تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہم مل کر کام کرتے رہے ہیں۔ آج جب صدرِ محترم ہندستان میں موجود ہیں، ہندوستانی بحریہ کے تین جہاز پہلی بار فلپائن میں بحری مشق میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہندوستان کا ہائیڈروگرافی جہاز بھی اس میں شامل ہے۔
وزیر اعظم نے کہاکہ ہند بحرالکاہل خطے کے لیے ہندوستان میں قائم کیے گئے انٹرنیشنل فیوژن سینٹر سے جُڑنے کے لیے ہم فلپائنز کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ پہلگام دہشت گرد انہ حملے کی سخت مذمت کرنے اور دہشت گردی کے خلاف ہماری جدوجہد میں ہمارے ساتھ کھڑے ہونے پر ہم فلپائنز کی حکومت اور صدرِ محترم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔باہمی قانونی امداد اور قیدیوں کی منتقلی کے موضوعات پر آج طے پائے معاہدے ہماری سیکورٹی پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کریں گے۔
اپنی مرضی سےہندوستان اور فلپائن دوست ہیں اور اپنی تقدیر سے شراکت دار ہیں۔ بحرہند سے لے کر پیسفک تک، ہم مشترکہ اقدار سے جُڑے ہیں۔ ہماری دوستی صرف ماضی کا حصہ نہیں بلکہ مستقبل کا ایک عہد ہے۔
ہندوستانی سیاحوں کو ویزا فری انٹری دینے کے فلپائن کے فیصلے کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہندوستان نے بھی فلپائنز کے سیاحوں کو فری ای ویزا سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سال دہلی اور منیلا کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کے لیے بھی کام کیا جائے گا۔آج مکمل کیے گئے کلچرل ایکسچینج پروگرام سے ہمارے تاریخی ثقافتی روابط کو فروغ ملے گا۔
وزیر اعظم نے کہاکہ ہماری ‘مشرق نواز پالیسی’ اور ‘‘مہا ساگر وژن’’ میں فلپائن ایک اہم شراکت دار ہے۔ ہند بحرالکاہل خطے میں امن، سلامتی، خوشحالی اور اصولوں پر مبنی نظام کے لیے ہم پرعزم ہیں۔ ہم بین الاقوامی قوانین کے مطابق فریڈم آف نویگیشن کی حمایت کرتے ہیں۔آئندہ سال فلپائنز آسیان کی صدارت کرے گا۔ اس کی کامیابی کے لیے ہم بھرپور تعاون فراہم کریں گے۔
یواین آئی۔ ظ ا- م ا
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
