جموں و کشمیر
چنار بک فیسٹیول کے پانچویں دن بھی کثیر تعداد میں شائقینِ کتب کی شرکت، تین ادبی و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد
سری نگر / نئی دہلی، نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا اور قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام نو روزہ چنار بک فیسٹیول میں 200 سے زائد کتب فروش اورناشرین شرکت کر رہے ہیں اور شائقین کتب کثیر تعداد میں اس فیسٹیول کے تئیں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور کتابیں خرید رہے ہیں این سی پی یو ایل کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق فیسٹیول میں روزانہ مختلف النوع ادبی و ثقافتی پروگراموں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ آج بھی قومی اردو کونسل اور شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی کے اشتراک سے دو اہم ادبی مذاکرے ’ثقافتی مکالمہ:اردو تراجم کی روشنی میں‘اور’لسانی روابط:اردو پر سنسکرت، فارسی اور کشمیری کے اثرات‘کے عنوان سے آتھر کارنر میں منعقد ہوئے جبکہ ایک اور مذاکرہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور خسرو فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام’اردو اور فارسی ادب میں صنفی مساوات کی وکالت‘کے عنوان سے منعقد ہوا۔
‘ثقافتی مکالمہ:اردو تراجم کی روشنی میں ‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر محمد زماں آزردہ(سابق صدر شعبہ اردو وڈین اسکول آف آرٹس، لینگویجز و لٹریچر،کشمیر یونیور سٹی) نے ترجمے کی اہمیت اور اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ترجمے میں بنیادی طور پر دو زبانیں شامل ہوتی ہیں اور ہرزبان اپنے ساتھ ایک مخصوص ثقافت،اسلوب اور طرز فکر لے کر آتی ہے،اس لیے کسی بھی ترجمے کے دوران صرف لفظی ترجمہ کافی نہیں بلکہ اس لفظ کے پس منظر کو سمجھنا اور جاننا ضروری ہوتا ہے جس سے یہ لفظ وجود میں آیاہے،تبھی ترجمہ بہتر اور اچھا ہوگا۔انھوں نے مزید کہاکہ علمی نثر کا ترجمہ ادبی نثر کے مقابلے میں آسان ہوتاہے اس لیے کہ علمی نثر میں عام طور پر تکنیکی اصطلاحات کا چیلنج درپیش ہوتاہے مگر ادبی ترجمہ ایک پیچیدہ عمل ہے کہ اس میں صرف ایک زبان سے دوسری زبان میں مواد کو ہی منتقل نہیں کیا جاتا بلکہ ایک زبان کی تہذیب و ثقافت بھی دوسری زبان میں منتقل کی جاتی ہے۔
پروفیسرڈاکٹر شاد رمضان(سابق صدر شعبہ کشمیری،کشمیر یونیور سٹی)نے کہا کہ ہر زبان کا ایک محاوراتی نظام ہوتاہے، اگر مترجم اس سے واقف نہ ہو تو وہ کبھی بھی مو?ثر اور بامعنی ترجمہ نہیں کرسکتا۔انھوں نے مزید کہاکہ کشمیر میں ترجمے کی روایت بہت پرانی ہے،کشمیر ی زبان میں لکھی گئی کتابوں اور تحریروں کا ترجمہ دوسری زبانوں میں صدیوں سے ہوتا آرہاہے، یہ تراجم نہ صرف علم و ادب کے تبادلے کا ذریعہ بنے بلکہ انھوں نے مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے درمیان پل کا کام بھی کیاہے۔ پروفیسر شمس کمال انجم(ڈین وصدر،اسکول آف اسلامک اسٹڈیز،بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی) نے گفتگوکرتے ہوئے عربی زبان سے اردو میں جو تراجم ہوئے ہیں ان پر تفصیلی روشنی ڈالی اورکہاکہ امرؤ القیس اور متنبی وغیرہ کا ترجمہ اردو زبان کے ساتھ ساتھ دنیا کی مختلف زبانوں میں ہوا ہے جس کی وجہ سے عربی زبان کی خوب صورتی اور اس کے ادب سے دنیا بھر کے لوگ واقف ہوئے۔انھوں نے مزید کہاکہ اگر ترجمے کا عمل نہ ہوتا اور مترجم نہ ہوتے تو ہم بہت سی علمی،فکری اور ادبی چیزوں سے ناواقف رہ جاتے۔ اس مذاکرے کی نظامت ڈاکٹر محمد الطاف آہنگر (ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹینس ایجوکیشن،کشمیر یونیورسٹی) نے کی۔
دوسرا مذاکرہ ’لسانی روابط:اردو پر سنسکرت،فارسی اور کشمیری کے اثرات‘کے عنوان سے منعقد ہوا،جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر نذیر احمد ملک(سابق صدر شعبہ اردو وڈین اسکول آف آرٹس،لینگویجز و لٹریچر،کشمیر یونیورسٹی)نے کہاکہ جب کسی علاقے یا خطے میں دو یا دوسے زائد زبانیں ایک دوسرے کے ربط میں آتی ہیں تو ان کے الفاظ، اسلوب وغیرہ میں لازمی طورپر تبدیلیاں ہوتی ہیں۔انھوں نے مزید کہاکہ اردو زبان پر بہت سی زبانوں کے اثرات ہیں لیکن سنسکرت اور فارسی کے اثرات زیادہ ہیں۔پروفیسر اعجاز محمد شیخ (ماہر لسانیات و صدر شعبہ اردو وڈین اسکول آف آرٹس،لینگویجز و لٹریچر،کشمیر یونیور سٹی) نے کہا کہ اردو زبان پر دیگر زبانوں کے علاوہ کشمیری زبان کے اثرات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں،کشمیری زبان کے مخصوص الفاظ اور لہجے وغیرہ اردو کی بول چال اور ادب میں شامل ہوچکے ہیں اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ کشمیر کے لوگ اردو بولتے،لکھتے،پڑھتے ہیں اور یہاں کے اخباروں کی زبان بھی اردو ہی ہے۔
ڈاکٹر جہانگیر اقبال (صدر شعبہ فارسی،کشمیر یونیور سٹی) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اردو برصغیر کی صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب و ثقافت ہے اور کشمیرمیں اردو کا مستقبل روشن اور درخشندہ ہے اس لیے کہ تقریبا ہرگھر میں بچے کشمیری کے بجائے اردو بولتے ہیں۔ اس پروگرام کی نظامت ڈاکٹر صائمہ جان نے کی۔
تیسرا مذاکرہ بعنوان ’اردو اور فارسی ادب میں صنفی مساوات کی وکالت‘ تھا۔اس مذاکرے میں ڈاکٹر سید مبین زہرا (ایسوسی ایٹ پروفیسر،دہلی یونیورسٹی) اور معروف ادبیہ و شاعرہ نسرین حمزہ علی نے موضوع سے متعلق اہم گفتگو کی اور کہاکہ اردو اور فارسی ادب میں خواتین کے مسائل، حقوق اور مساوات کے حوالے سے اچھا خاصا مواد موجود ہے۔اس ضمن میں عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر وغیرہ نے کھل کر اپنی بات رکھی ہے اور مساوات، صنفی تفریق اور سماجی رویوں پر کھل کر لکھاہے۔ اس مذاکرے کی نظامت جناب نذیر گنائی نے کی۔ مذاکرے کے آخر میں نسرین حمزہ کی کتاب ‘راکھ میں دبی چنگاری’ اور طہ نسیم کی کتاب ‘ترنگا آنچل’ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمن (کنوینر. خسرو فاؤنڈیشن) نے شکریے کی رسم ادا کی. ان پروگراموں میں طلبہ،اساتذہ اور اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
