جموں و کشمیر
کولگام آپریشن آٹھویں روز بھی جاری ، رات بھر گولیوں کا تبادلہ جاری رہا
سری نگر، جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے اکھال دیوسر کے جنگلاتی علاقے میں انسداد ملی ٹنسی آپریشن جمعے کو مسلسل آٹھویں روز بھی جاری ہے اور اس دوران طرفین کے درمیان رات بھر رک رک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ذرائع کے مطابق فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ ٹیمیں علاقے میں سرچ اینڈ کارڈن آپریشن کو انتہائی منظم انداز میں انجام دے رہی ہیں، تاکہ چھپے ہوئے دہشت گردوں کو تلاش کر کیفر کر دار تک پہنچایا جا سکے۔
یہ انکاؤنٹر یکم اگست کو اس وقت شروع ہوا تھا جب سیکیورٹی فورسز کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ اکھال کے جنگلاتی علاقے میں کئی دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ اطلاع کے بعد علاقے کا محاصرے میں لے کر وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا گیا تھا اور اس دوران وہاں چھپےدہشت گردوں نے فائرنگ کی تھی۔
حکام کے مطابق اس تصادم آرائی میں اب تک دو دہشت گرد مارے گئے ہیں جن میں سے ایک مقامی بتایا جاتا ہے جبکہ سیکورٹی فورسز کے 6 جوان زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ رات بھر طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ جاری رہا تاہم گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
ادھر حکام نے اکھال علاقے کے کچھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے اور جائے تصادم آرائی پر نوڈل افسروں کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہ ایمرجنسی کی صورتحال میں وہاں کے لوگوں کی مدد کرسکیں۔وہاں نکالے جانے والے کچھ لوگوں نے بتایا کہ وہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران طرفین کے درمیان شدید گولیوں کے نتیجے میں سو نہیں سکے۔
حکام نے کہا کہ فورسز نے جدید آلات اور ڈرونز کی مدد سے علاقے کی نگرانی تیز کر دی ہے تاہم جنگلاتی زمین اور پر خطر پہاڑی راستوں پر مشتمل دشوار گزار جغرافیہ کی وجہ سے رکاوٹیں پیش آئیں جس کے باعث فورسز کو احتیاط کے ساتھ کارروائی جاری رکھنی پڑ رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ‘چونکہ انکاؤنٹر انتہائی حساس اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اس لیے جلد بازی کے بجائے حکمت عملی کے ساتھ آپریشن کو انجام دیا جا رہا ہے اور جنگل میں محصور دہشت گردوں کو مار گرانے کے لیے فورسز کی متعدد یونٹس، جن میں آرمی، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس شامل ہیں، سرگرم عمل ہیں’۔
سیکورٹی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دشوار گذار علاقہ ہونے کے باعث یہ آپریشن مزید کچھ دن جاری رہ سکتا ہے۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا: ‘سیکورٹی فورسز انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں تاکہ کوئی جانی نقصان بھی نہ پہنچے اور دہشت گردوں کو فرار ہونے کا موقع بھی نہ مل سکے’۔انہوں نے کہا کہ محاصرے کو مزید سنگین و سخت کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی کمک کو تعینات کیا گیا ہے۔
دریں اثنا اس طویل آپریشن کے بیچ فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پراتیک شرما نے جمعرات کو جنوبی کشمیر میں انسداد دہشت گردی گرڈ کا جائزہ لیا۔اس دوران انہیں سیکورٹی صورتحال، آپریشنل تیاریوں اور جاری آپریشنز کے متعلق بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ نالین پربھات اور انسپکٹر جنرل آف پولیس وی کے بردی نے بھی گذشتہ روز اس مقام کا دورہ کیا۔یہ گذشتہ دہائیوں میں طویل ترین آپریشن مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
