جموں و کشمیر
کشتواڑ سانحہ: 30 ہلاک، 120 افراد کو بچا لیا گیا، درجنوں لاپتہ، راحت رسانی کا کام جاری
جموں،جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے چشوتی علاقے میں جمعرات کو شدید بادل پھٹنے کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جن میں دو سی آئی ایس ایف اہلکار بھی شامل ہیں حکام نے بتایا کہ اب تک 120 افراد کو محفوظ مقامات کی اور منتقل کیا گیا، جن میں 38 کی حالت تشویشناک ہے حادثے کے فوراً بعد مقامی انتظامیہ، پولیس، آرمی، نیشنل ڈزاسٹر ریسپانس فورس ، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور مقامی رضاکاروں نے امدادی اور ریسکیو کارروائیاں شروع کیں۔ بعد میں مزید دو این ڈی آر ایف ٹیمیں بھی امدادی کاموں میں شامل کی گئیں تاکہ مزید زندگیاں بچائی جا سکیں۔
عین شاہدین کے مطابق حادثہ چشوتی میں دوپہر 12 بجے سے 1 بجے کے درمیان پیش آیا، جو مچیل ماتا یاترا کے راستے میں آخری گاؤں ہے۔ یاترا 25 جولائی سے شروع ہوئی تھی اور 5 ستمبر تک جاری رہنے کا شیڈول تھا۔ زیارت گاہ تک پہنچنے کے لیے 8.5 کلومیٹر پیدل راستہ ہے، اور اس وقت مقامی ‘لنگر’ (کمیونٹی کچن) زائرین سے بھرا ہوا تھا، جو بادل پھٹنے کے باعث آنے والی سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے اور متعدد دکانیں اور ایک سکیورٹی پوسٹ بہہ گئی۔
کشتواڑ کے ڈپٹی کمشنر پنکج کمار شرما اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس فوراً متاثرہ مقام پر پہنچے اور ریسکیو کارروائیوں کی نگرانی شروع کی۔ فوج کی وائٹ نائٹ کور نے بھی بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
وائٹ نائٹ کور نے ایکس (سابق ٹویٹر) پر بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی ہیں، اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
مرکزی وزیر جیتن سنگھ نے ایکس پر کہا، ’چشوتی میں شدید بادل پھٹنے کے بعد فوری طور پر انتظامیہ نے کارروائی شروع کی۔ ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی ہیں۔‘
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو امدادی کارروائیوں کو مضبوط بنانے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
ادھر حزب اختلاف کے لیڈر اور بی جے پی کے سینئر رہنما سنل کمار شرما نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور علاقے میں بڑی تعداد میں لوگ یاترا میں موجود تھے۔ سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے بھی سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور حکومت سے فوری امدادی کارروائیاں کرنے اور متاثرین کو ہر ممکن علاج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کشتواڑ کے چسوتی علاقہ میں بادل پھٹنے سے پیش آئے دلدوز اور دلخراش حادثے میں انسانی جانوں کے زیاں پر گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہوئے افراد کے لواحقین کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے حادثے میں زخمی ہوئے 100سے زائد افراد کی فوری صحت یابی کیلئے بھی دعا کی اور حکومت پر زور دیا کہ وہ زخمیوں کو بہتر سے بہتر علاج و معالجہ فراہم کیا جائے اور لقمہ اجل بنے افراد کے پسماندگان کو بھر پو ایکس گریشیا ریلیف فراہم کی جائے۔
دریں اثنا مقامی انتظامیہ نے یاترا معطل کر دی ہے اور تمام دستیاب وسائل کو ریسکیو آپریشنز میں متحرک کر دیا گیا ہے۔ حکام نے عوام سے کہا ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات پر عمل کریں اور امدادی ٹیموں کے تعاون میں حصہ ڈالیں۔
یو این آئی۔ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
