جموں و کشمیر
لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے خاندان کے افراد زندہ نکلیں گے یا نہیں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ
بادل پھٹنے کے بعد سیلاب میںلاپتہ افرادکے رشتہ دارو ںکا غصہ کافی حد تک حقیقی اور قابل فہم
متاثرین کی محفوظ مقام پر منتقلی کاکوئی منصوبہ نہیں
کہا مرنے والوں کی تعدادلگ بھگ60 ، ہنوزلاپتہ افراد کی تعداد 70 سے80 کے درمیان
سری نگر:جے کے این ایس : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کو کشتواڑ ضلع کے چسوتی گاو ¿ں میں بادل پھٹنے سے آئے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔جے کے این ایس کے مطابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جاری راحت اور بچاو کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا اور فوج کے جوانوں سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔
انہوں نے تباہی کا جائزہ لینے کے لیے ورچوئل ریئلٹی (ظڑ) ہیڈسیٹ کا استعمال کیا اور کہا کہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے فوری امدادی اقدامات کیے جائیں گے۔معلوم ہواکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کو کشتواڑ ضلع میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تاکہ اس ہفتے کے شروع میں آنے والے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا سکے۔ان کا قافلہ پاڈر بلاک میں گلاب گڑھ پہنچا اور جاری راحت اور بچاو ¿ کارروائیوں کا جائزہ لینے کےلئے سب سے زیادہ متاثرہ مقامات میں سے ایک چشوتی پہنچا۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز چسوتی میں کئی مقامی لوگوں کا ان سے سامنا کرنے اور اپنی مایوسی کا اظہار کرنے کے بعد کہاکہ بادل پھٹنے کے بعد لاپتہ ہونے والے اپنے رشتہ داروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے والے لوگوں کا غصہ کافی حد تک قابل فہم ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی ریسکیو آپریشن کا فوکس ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کو تلاش کرنا ہے۔
چسوتی گاو ¿ں میں ایک مربوط ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے جہاں 70 سے 80لوگوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ان کے اہل خانہ نے دی ہے، یہاں تک کہ مقامی لوگوں اور عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ سینکڑوں لوگ سیلاب میں بہہ گئے ہوں گے اور بڑے بڑے پتھروں، لکڑی کے ٹکڑوں اور ملبے کے نیچے دب گئے ہوں گے۔عمرعبداللہ ہفتہ کہ صبح کار کے ذریعے کشتواڑ ضلع میں مچیل ماتا مندر جانے والے آخری موٹر ایبل گاو ¿ں، بادل پھٹنے سے متاثرہ چاسوتی پہنچے اور کچھ لوگوں کا سامنا کیا جو بچاو ¿ اور امدادی کوششوں سے خوش نہیں تھے۔فوج کے ایک سینئر افسر کی طرف سے بریفنگ دینے اور نقصان کا اندازہ لگانے کے بعد، وزیر اعلیٰ نے ندی کے دونوں جانب متعدد متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی، جو لاگوں سے بنے ایک عارضی پل کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔کئی سو لوگوں نے عمرعبداللہ کے سامنے اپنی مایوسی کا اظہار کیا، جنہوں نے انہیں پرسکون کرنے کی کوشش کی، اور کہا کہ وہ خود چاہتے ہیں کہ ریسکیو آپریشن جلد از جلد ختم ہو۔وزیر اعلیٰ نے ان کی شکایات سننے کے لئے انہیں قریبی خیمے میں بھی مدعو کیا، لیکن ان میں سے کچھ ہچکچا رہے تھے۔
اس کے بعد عبداللہ موقع سے چلا گیا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واپسی کے سفر پر صحافیوں کو بتایاکہ میں ان کے غصے کو سمجھ سکتا ہوں۔ وہ پچھلے دو دنوں سے اپنے لاپتہ خاندان کے افراد کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ جواب چاہتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے خاندان کے افراد زندہ نکلیں گے یا نہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کا مطالبہ ہے کہ اگر لاپتہ افراد زندہ نہیں تو آخری رسومات کے لئے لاشیں جلد از جلد ان کے حوالے کی جائیں۔عمرعبداللہ نے کہاکہاکہ ہم نے جتنے بھی دستے تعینات کیے ہیں، چاہے وہ این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، فوج، جموں و کشمیر پولیس یا سی آئی ایس ایف ہو۔ ہم پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور جہاں کوئی بچاو ¿ نہیں ہے، ہم کم از کم لاشوں کو نکال کر ان کے اہل خانہ کے حوالے کریں گے۔انہوںنے کہاکہ اس وقت، یہ واقعی کوئی امدادی کارروائی نہیں ہے۔ ہم جہاں تک ممکن ہو سکے لوگوں کو بچانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس کے بعد، مقصد یہ ہو گا کہ لاشوں کو بہترین حد تک نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد60 کے لگ بھگ ہے جب کہ لاپتہ افراد کی تعداد 70 سے80 کے درمیان ہے۔عمرعبداللہ نے کہاکہ تعداد میں تھوڑا سا اتار چڑھاو ¿ آئے گا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ تعداد500 یا 1000 تک پہنچ جائے گی جیسا کہ اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ اس وقت یہ 80 ہے جو کہ ایک بڑی تعداد ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جن لوگوں کے گھروں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہے ان میں فوری امداد تقسیم کر دی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر میں غلط نہیں ہوں تو ڈپٹی کمشنر کے پاس موجود تقریباً 36 لاکھ روپے تقسیم ہو چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہمیں نے اپنے دفتر میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری سے بات کی ہے اور انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے رقم جاری کریں تاکہ اسے ڈپٹی کمشنر کے اختیار میں رکھا جا سکے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا منصوبہ ہے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوئی منصوبہ نہیں ہے، لیکن کچھ دیہاتیوں کی طرف سے اس طرح کا مطالبہ کیا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ شفٹ کرنا ہے یا نہیں، کن حالات میں شفٹ ہونا ہے، کہاں شفٹ کرنا ہے، اس کے لیے، میرے خیال میں ماہرین کی ٹیم کو آکر ہمیں بتانا چاہیے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کیا ہوگا اگر ہم انہیں یہاں سے اٹھا کر ایسی جگہ پر رکھیں جہاں زیادہ خطرہ ہو؟ ۔انہوں نے مزید کہا کہ کیا ہم انہیں قریب میں کوئی ایسی جگہ دے سکتے ہیں جہاں وہ رہ سکیں اور خطرہ کم ہو؟ ہم ان تمام چیزوں پر غور کریں گے۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
