ہندوستان
ہندوستان میں بچوں کی شادی کی شرح میں حیرت انگیز کمی: جے آر سی رپورٹ
نئی دہلی، ہندوستان میں بچوں کی شادی کی شرح میں حیرت انگیز کمی کا مشاہد ہ کیا گیا ہے جسٹ رائٹس فار چلڈرن (جے آر سی) کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیقی رپورٹ”ٹپنگ پوائنٹ ٹو زیرو: ایویڈنس ٹووارڈز چائلڈ میرج فری انڈیا“ کے مطابق لڑکیوں کی بچپن کی شادی کی شرح میں 69 فی صد کی کمی دیکھنے کو ملی ہے، جب کہ لڑکوں میں یہ شرح 72 فی صد تھی۔ رپورٹ کے مطابق بچپن کی شادی کو روکنے میں گرفتاریاں اور ایف آئی آر جیسے قانونی اقدامات انتہائی مفید ثابت ہوئے۔
یہ رپورٹ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک الگ تقریب میں جسٹ رائٹس فار چلڈرن کی طرف سے جاری کی گئی۔ جسٹ رائٹس فار چلڈرن کی پہل پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقد ہونے والی اس اعلیٰ سطحی تقریب کا آغاز سیرا لیون جمہوریہ کی خاتون اول اوراو اے ایف ایل ڈی کی چیئرپرسن فاطمہ مادا بایو اور حکومت کینیا نے ورلڈ جیورسٹ ایسوسی ایشن اور جیورسٹ فار ورلڈ وائیڈ کے تعاون سے کیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسام میں لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کی شرح میں سب سے زیادہ یعنی 84فی صدکمی دیکھنے کو ملی۔ مہاراشٹر اور بہار (دونوں 70 فی صد)، بعد ازاں،راجستھان اور کرناٹک میں بالترتیب 66 اور 55 فی صد کی کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بچپن کی شادی کی شرح میں یہ غیرمعمولی کمی گزشتہ تین برس کے دوران مرکزی اور ریاستی حکومتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کی مربوط کاوشوں کی بدولت ممکن ہوسکی۔ سروے میں حصہ لینے والے 99 فی صد جواب دہندگان نے کہا کہ انہوں نے حکومت ہند کی چائلڈ میرج فری انڈیا مہم کے بارے میں بنیادی طور پر غیر سرکاری تنظیموں، اسکولوں اور پنچایتوں کی بیداری مہم کے توسط سے سنا ہے یامعلوم ہواہے۔
بچوں کے خلاف اس جرم کے خاتمہ کے لیے تمام فریقوں کے مابین ہم آہنگی، تعاون اور قانون کے سخت نفاذ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جسٹ رائٹس فار چلڈرن کے بانی بھوون ریبھو نے کہا کہ آج ہندوستان بچپن کی شادی کو ختم کرنے کی را ہ پر گامزن ہے اور یہ صرف پائیدار ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنے سے متعلق نہیں ہے۔ ہم نے دنیا کے سامنے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کا خاتمہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ یقینا اس کا خاتمہ ہوگا۔ کامیابی کا فارمولہ واضح ہے: تحفظ سے پہلے روک تھام، مقدمہ چلانے سے پہلے تحفظ اور تدارکی اقدامات کے طور پراستغاثہ۔ یہ صرف ہندوستان کی فتح نہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک خاکہ ہے۔ حکومت کا مضبوط عزم، مستحکم شراکت داری، سماجی تحفظ تک رسائی اور قانون کی حکمرانی پر سختی سے عمل درآمد ہو توبچپن کی شادی سے پاک عالم ہماری رسائی میں ہوگا۔
جسٹ رائٹس فار چلڈرن نے پچپن کی شادی کو روکنے میں آسام کی شاندار کامیابیوں کے اعتراف میں وہاں کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کو ’چمپئنز آف چینج‘ایوارڈ سے سرفراز کیا۔
مذکورہ رپورٹ سنٹر فار لیگل ایکشن اینڈ بیہیویرل چینج فار چلڈرن (سی-لیب) نے تیار کی ہے، جو انڈیا چائلڈ پرو ٹیکشن کی ریسرچ ونگ جے آر سی کی ایک شریک تنظیم ہے۔ جسٹ رائٹس فار چلڈرن(جے آرسی) تحفظ حقوق اطفال اوران کی بحالی کے لیے کام کرنے والی 250 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں کا ملک کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے
اس حقیقت کے پیش نظر کہ 2019-21 تک ملک میں ہر منٹ میں تین کم سنی کی شادیاں ہوتی تھیں،جب کہ روزانہ صرف تین معاملات کی ہی شکایات درج ہوپاتی تھی تو رپورٹ کے نتائج ملک میں تاریخی تبدیلیوں کی سمت اشارہ کرتے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آج تقریباً ہر شخص بچپن کی شادی سے متعلق قوانین سے واقف ہے، یہ ایسی تبدیلی ہے، جس کا چند سال قبل تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ رپورٹ میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ غیر سرکاری تنظیموں نے بہار، آسام اور مہاراشٹر میں 2030 تک کم عمری کی شادی کے خاتمہ کے لیے 2024 میں شروع کردہ حکومت ہند کی بچوں کی شادی سے پاک مہم کے پیغام کو عام کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ بہار میں 93فی صد، مہاراشٹر میں، 89فی صد اور آسام میں، 88فی صد نے غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے مہم کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ راجستھان اور مہاراشٹر میں اسکولوں نے اس مہم کے بارے میں بیداری پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا،جہاں بالترتیب 87فی صد اور 77فی صد افراد کہ اسکولوں سے اس سے متعلق معلومات حاصل ہوئیں۔
بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقف جسٹ رائٹس فار چلڈرن 250 سے زیادہ سول سوسائٹی تنظیموں کا نیٹ ورک، مرکزی اور ریاستی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں، کمیونٹی کارکنوں اور گرام پنچایتوں کے ساتھ مل کر 2030 تک بچوں کی شادی کے خاتمہ کے لیے کام کررہا ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ سروے میں شامل تمام ریاستوں کے 31 فی صد دیہاتوں میں 6تا18فی صدعمر کی سبھی لڑکیاں اسکول جارہی تھیں لیکن اس میں خاصا عدم مساوات دیکھنے کو ملا۔ مہاراشٹر میں 51فی صد گاؤں میں تمام لڑکیاں اسکول جاتی تھیں، جب کہ بہار میں، صرف 9فی صد گاؤں میں تمام لڑکیاں اسکول جارہی تھیں۔ سروے کرنے والوں نے غربت (88فی صد)، بنیادی ڈھانچے کی کمی (47فی صد)،تحفظ (42فی صد) اورٹرانسپورٹ کی کمی (24فی صد) کو لڑکیوں کی تعلیم میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ بتایا۔ اسی طرح 91 کے طور پر نے غربت اور 44 فی صد نے کمسنی کی شادی کا سب سے بڑا سبب تحفظ کوبتایا۔
ایک ایسے معاشرے سے، جہاں کسی زمانے میں بچپن کی شادی قابل قبول تھی اور پولیس کو اس کی اطلاع دینا ممنوع سمجھا جاتا تھا، حالیہ برسوں میں ہندوستان نے اہم تبدیلی کا مشاہدہ کیا ہے۔ سروے میں شامل 63 فی صد لوگوں نے کہا کہ وہ اب متعلقہ حکام کو بچوں کی شادی کی اطلاع دینے میں “کافی سکون” محسوس کرتے ہیں،جب کہ 33 فی صد نے کہا کہ وہ “قدرے” راحت محسوس کرتے ہیں۔
رپورٹ میں 2030 تک بچپن کی شادی کے خاتمہ کے لئے بچوں کی شادی کے قوانین، بہتر معلوماتی نظام، لازمی شادی کے رجسٹریشن اور گاؤں کی سطح پر بیداری کے پروگراموں کو سختی سے نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس میں بچوں کی شادی کے خلاف لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے چائلڈ میرج فری انڈیا کا قومی دن مقرر کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
جسٹ رائٹس فار چلڈرن نے 2023 سے تاحال صرف ہندوستان میں نصف ملین سے زائد بچوں کی معاونت کی ہے اور ہر گھنٹے 18 بچوں کی شادیوں پر قدغن لگائی ہے۔ اپریل، 2023 سے ستمبر، 2025 کے مابین اس نیٹ ورک نے 397,849 بچوں کی بچپن کی شادیاں رکوائیں، بچوں کی اسمگلنگ اور بندھوا مزدوری کے شکار109,548کو نجات دلائی، اسمگلنگ کرنے والے گروپوں کے خلاف 74,375 مقدمات درج کیے اور 32,000 جنسی استحصال کے شکار بچوں کو معاونت فراہم کی۔ جے آرسی بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے انگریزی کے3Pیعنی پروسکیوشن،پریونشن اور پروٹیکشن (استغاثہ،تدارک اور تحفظ)کو آگے بڑھانے والے سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اولین نیٹ ورک بن گیا ہے۔
یہ رپورٹ پانچ ریاستوں کے 757 گاؤں سے جمع کردہ اعدادوشمار پر مبنی ہے۔ ان ریاستوں اور دیہاتوں کو علاقائی طور پر منتخب کیا گیا تھا تاکہ ملک کے متنوع سماجی و ثقافتی سیاق و سباق کی عکاسی کی جا سکے۔ اس سروے نے ملٹی اسٹیج اسٹریٹی فائیڈ رینڈم سیمپلنگ کی بنیاد پر سب سے پہلے دیہاتوں سے فرنٹ لائن کارکنان جیسے آشا، آنگن واڑی کارکنان، اسکول ٹیچر، معاون نرسوں، دائیوں اور پنچایت ممبران سے رابطہ کرکے ڈیٹا جمع کیا۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
ہندوستان
مودی کل وارانسی میں گارمنٹ فیکٹری اور بھونیشور میں ریزرو بینک کے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کریں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کو اتر پردیش اور اڈیشہ کے دورے پر رہیں گے۔
وزیر اعظم وارانسی میں اَروِند لمیٹڈ کی نئی گارمنٹ مینوفیکچرنگ فیکٹری کا افتتاح کریں گے۔ اس کے بعد نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے 94ویں یومِ تاسیس کے موقع پر منعقد ہونے والے ‘ونگز اوور گنگا’ پروگرام میں ایئر فورس ڈے ایریل ڈسپلے-2026 کا مشاہدہ کریں گے۔ اڈیشہ کے بھونیشور میں وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نئے ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے اور اجتماع سے خطاب کریں گے۔
وارانسی میں قائم کی گئی نئی گارمنٹ فیکٹری کا مقصد ملک کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تیاری کے شعبے کو مضبوط بنانا اور علاقے میں صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ جدید مینوفیکچرنگ کے طریقوں پر توجہ مرکوز کرنے والا یہ ادارہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، خاص طور پر خواتین کے لیے۔ عالمی صارفین سے منسلک اس منصوبے کے ذریعے وارانسی میں تیار ہونے والی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچیں گی۔ یہ منصوبہ خواتین کی قیادت میں ترقی اور اتر پردیش میں صنعتی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
وزیر اعظم دوپہر میں وارانسی کے نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے ایریل ڈسپلے-2026 میں مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ ‘ونگز اوور گنگا’ کے موضوع پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام ہندوستانی فضائیہ کی 94ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا جائے گا۔ اس میں دیسی ساختہ لڑاکا طیارہ تیجس، ہلکا لڑاکا ہیلی کاپٹر پرچنڈ، سخوئی-30 اور رافیل لڑاکا طیاروں سمیت ٹرانسپورٹ طیارے حصہ لیں گے۔ ہندوستانی بحریہ اور فوج کے طیارے بھی مشترکہ آپریشنل صلاحیت کا مظاہرہ کریں گے۔
ایئر شو میں ہندوستانی فضائیہ کی اہم مظاہرہ کرنے والی ٹیمیں، سوریہ کرن ایروبیٹک ٹیم اور سارنگ ہیلی کاپٹر ڈسپلے ٹیم بھی حصہ لیں گی۔ مظاہرے کے دوران پرواز کی مہارت، باہمی تال میل اور آپریشنل کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
اس کے بعد مسٹر مودی اڈیشہ کے بھونیشور پہنچیں گے۔ شام کو وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نو تعمیر شدہ ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے۔ ان سہولتوں کو بینک کی کمپیوٹنگ ضروریات پوری کرنے اور بینکاری و مالیاتی شعبے کو محفوظ، مضبوط اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ڈیجیٹل ڈھانچہ فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
ڈیٹا سینٹر کمپلیکس میں چار جدید ترین ڈیٹا سینٹر ہوں گے، جہاں ادائیگی اور تصفیے کے نظام سمیت اہم ڈیجیٹل خدمات چلائی جائیں گی۔ اس سہولت کو اپ ٹائم انسٹی ٹیوٹ کے ٹیئر-4 معیار کی سند حاصل ہوئی ہے، جسے ڈیٹا سینٹر کے بنیادی ڈھانچے اور آپریشنل مضبوطی کے لیے عالمی معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبے میں دنیا کی سب سے بڑی ٹائر-4 سند یافتہ سہولتوں میں شامل ہے۔
بھونیشور میں قائم سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا مقصد سائبر سکیورٹی اور انٹرپرائز ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت، تحقیق اور ماہرین کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ ادارہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبوں سے متعلق جدید ترین ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرے گا۔ ان میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ بینک کے مطابق، یہ دونوں سہولتیں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی رسائی، کارکردگی اور قابلِ اعتماد ہونے کی صلاحیت بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے سابق وزیر اعظم اور اپنے شوہر راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا تھا اور وہ اس ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
محترمہ گاندھی نے اپنی آنے والی خودنوشت کتاب ‘بیلونگ: اے جرنی آف لو’ میں بیان کیے گئے واقعات سے متعلق ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ہفتہ کو بتایا کہ ان دنوں انگلینڈ میں انہیں کھانا بہت خراب لگتا تھا۔ اس وقت آج کی طرح اتنے ریستوراں بھی نہیں ہوا کرتے تھے، اس لیے وہ مسلسل ایسی جگہ تلاش کرتی رہتی تھیں، جہاں انہیں اپنی پسند کا کھانا، خاص طور پر اطالوی کھانا مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی تلاش کے دوران انہیں ایک یونانی ریستوراں کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں کئی طلبہ، خاص طور پر یورپی اور ہندوستانی طلبہ کھانا کھانے جایا کرتے تھے۔ اسی ریستوراں میں ان کی راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ پہلی ملاقات میں ہی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ مسٹر گاندھی ایسے شخص ہیں، جن کے ساتھ وہ زندگی گزارنا چاہیں گی۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ راجیو گاندھی نے بھی ان کے بارے میں ایسا ہی محسوس کیا تھا۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ سب سے پہلے ان دونوں کے ایک مشترکہ دوست نے ان کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد وہ دوست بن گئے اور اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹیوں میں جانے اور سیاحتی مقامات کی سیر کرنے لگے۔ محترمہ گاندھی نے ویلنٹائن پارٹی کا بھی ذکر کیا، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی تھی۔
راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہا کہ وہ بہت پرکشش شخصیت کے مالک تھے، لیکن ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی کی یہی سادگی ان کے دل کو چھو گئی تھی اور وہ ان سے اپنی پہلی ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ووٹر فہرست کی خامیوں کے لیئے سافٹ ویئرکوموردالزام ٹھہرانا ناقابل قبول: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں خامیوں کے تعلق سے الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی منظم سازش کا الزام سافٹ ویئرلگانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں ایک ووٹر کا نام ‘رام نے یادو کو مارا’ اور اس کے والد کا نام ‘مورکھ چندر یادو’ درج ہے۔ اسی طرح ایک ووٹر کے والد کا نام ‘بی کام’ اور ایک دوسرے ووٹر کا نام ‘رام نے شرما کا نام’ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کو درست کرنے کے اعلان کردہ مقصد سے شروع کیے گئے خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل نے ان فہرستوں کی ساکھ کو مزید شکوک و شبہات کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا اور ہریانہ، مہاراشٹر نیز مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں کے انتخابات میں ووٹ چوری کے حوالے سے لوگوں کے شبہات اب یقین میں بدلتے جا رہے ہیں۔ ان کی پارٹی کا واضح موقف ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملی بھگت کرکے انتخابات جیتے ہیں۔ ووٹ چوری کے معاملے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی مسٹر گاندھی پر ذاتی حملے کر رہی ہے۔
کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے، بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے چلائے جا رہے ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے، ووٹر فہرست کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے، مکمل مشین ریڈیبل ڈیٹا عام کرنے اور ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
