ہندوستان
ہندوستان میں بچوں کی شادی کی شرح میں حیرت انگیز کمی: جے آر سی رپورٹ
نئی دہلی، ہندوستان میں بچوں کی شادی کی شرح میں حیرت انگیز کمی کا مشاہد ہ کیا گیا ہے جسٹ رائٹس فار چلڈرن (جے آر سی) کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیقی رپورٹ”ٹپنگ پوائنٹ ٹو زیرو: ایویڈنس ٹووارڈز چائلڈ میرج فری انڈیا“ کے مطابق لڑکیوں کی بچپن کی شادی کی شرح میں 69 فی صد کی کمی دیکھنے کو ملی ہے، جب کہ لڑکوں میں یہ شرح 72 فی صد تھی۔ رپورٹ کے مطابق بچپن کی شادی کو روکنے میں گرفتاریاں اور ایف آئی آر جیسے قانونی اقدامات انتہائی مفید ثابت ہوئے۔
یہ رپورٹ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک الگ تقریب میں جسٹ رائٹس فار چلڈرن کی طرف سے جاری کی گئی۔ جسٹ رائٹس فار چلڈرن کی پہل پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقد ہونے والی اس اعلیٰ سطحی تقریب کا آغاز سیرا لیون جمہوریہ کی خاتون اول اوراو اے ایف ایل ڈی کی چیئرپرسن فاطمہ مادا بایو اور حکومت کینیا نے ورلڈ جیورسٹ ایسوسی ایشن اور جیورسٹ فار ورلڈ وائیڈ کے تعاون سے کیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسام میں لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کی شرح میں سب سے زیادہ یعنی 84فی صدکمی دیکھنے کو ملی۔ مہاراشٹر اور بہار (دونوں 70 فی صد)، بعد ازاں،راجستھان اور کرناٹک میں بالترتیب 66 اور 55 فی صد کی کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بچپن کی شادی کی شرح میں یہ غیرمعمولی کمی گزشتہ تین برس کے دوران مرکزی اور ریاستی حکومتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کی مربوط کاوشوں کی بدولت ممکن ہوسکی۔ سروے میں حصہ لینے والے 99 فی صد جواب دہندگان نے کہا کہ انہوں نے حکومت ہند کی چائلڈ میرج فری انڈیا مہم کے بارے میں بنیادی طور پر غیر سرکاری تنظیموں، اسکولوں اور پنچایتوں کی بیداری مہم کے توسط سے سنا ہے یامعلوم ہواہے۔
بچوں کے خلاف اس جرم کے خاتمہ کے لیے تمام فریقوں کے مابین ہم آہنگی، تعاون اور قانون کے سخت نفاذ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جسٹ رائٹس فار چلڈرن کے بانی بھوون ریبھو نے کہا کہ آج ہندوستان بچپن کی شادی کو ختم کرنے کی را ہ پر گامزن ہے اور یہ صرف پائیدار ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنے سے متعلق نہیں ہے۔ ہم نے دنیا کے سامنے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کا خاتمہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ یقینا اس کا خاتمہ ہوگا۔ کامیابی کا فارمولہ واضح ہے: تحفظ سے پہلے روک تھام، مقدمہ چلانے سے پہلے تحفظ اور تدارکی اقدامات کے طور پراستغاثہ۔ یہ صرف ہندوستان کی فتح نہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک خاکہ ہے۔ حکومت کا مضبوط عزم، مستحکم شراکت داری، سماجی تحفظ تک رسائی اور قانون کی حکمرانی پر سختی سے عمل درآمد ہو توبچپن کی شادی سے پاک عالم ہماری رسائی میں ہوگا۔
جسٹ رائٹس فار چلڈرن نے پچپن کی شادی کو روکنے میں آسام کی شاندار کامیابیوں کے اعتراف میں وہاں کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کو ’چمپئنز آف چینج‘ایوارڈ سے سرفراز کیا۔
مذکورہ رپورٹ سنٹر فار لیگل ایکشن اینڈ بیہیویرل چینج فار چلڈرن (سی-لیب) نے تیار کی ہے، جو انڈیا چائلڈ پرو ٹیکشن کی ریسرچ ونگ جے آر سی کی ایک شریک تنظیم ہے۔ جسٹ رائٹس فار چلڈرن(جے آرسی) تحفظ حقوق اطفال اوران کی بحالی کے لیے کام کرنے والی 250 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں کا ملک کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے
اس حقیقت کے پیش نظر کہ 2019-21 تک ملک میں ہر منٹ میں تین کم سنی کی شادیاں ہوتی تھیں،جب کہ روزانہ صرف تین معاملات کی ہی شکایات درج ہوپاتی تھی تو رپورٹ کے نتائج ملک میں تاریخی تبدیلیوں کی سمت اشارہ کرتے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آج تقریباً ہر شخص بچپن کی شادی سے متعلق قوانین سے واقف ہے، یہ ایسی تبدیلی ہے، جس کا چند سال قبل تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ رپورٹ میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ غیر سرکاری تنظیموں نے بہار، آسام اور مہاراشٹر میں 2030 تک کم عمری کی شادی کے خاتمہ کے لیے 2024 میں شروع کردہ حکومت ہند کی بچوں کی شادی سے پاک مہم کے پیغام کو عام کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ بہار میں 93فی صد، مہاراشٹر میں، 89فی صد اور آسام میں، 88فی صد نے غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے مہم کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ راجستھان اور مہاراشٹر میں اسکولوں نے اس مہم کے بارے میں بیداری پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا،جہاں بالترتیب 87فی صد اور 77فی صد افراد کہ اسکولوں سے اس سے متعلق معلومات حاصل ہوئیں۔
بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقف جسٹ رائٹس فار چلڈرن 250 سے زیادہ سول سوسائٹی تنظیموں کا نیٹ ورک، مرکزی اور ریاستی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں، کمیونٹی کارکنوں اور گرام پنچایتوں کے ساتھ مل کر 2030 تک بچوں کی شادی کے خاتمہ کے لیے کام کررہا ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ سروے میں شامل تمام ریاستوں کے 31 فی صد دیہاتوں میں 6تا18فی صدعمر کی سبھی لڑکیاں اسکول جارہی تھیں لیکن اس میں خاصا عدم مساوات دیکھنے کو ملا۔ مہاراشٹر میں 51فی صد گاؤں میں تمام لڑکیاں اسکول جاتی تھیں، جب کہ بہار میں، صرف 9فی صد گاؤں میں تمام لڑکیاں اسکول جارہی تھیں۔ سروے کرنے والوں نے غربت (88فی صد)، بنیادی ڈھانچے کی کمی (47فی صد)،تحفظ (42فی صد) اورٹرانسپورٹ کی کمی (24فی صد) کو لڑکیوں کی تعلیم میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ بتایا۔ اسی طرح 91 کے طور پر نے غربت اور 44 فی صد نے کمسنی کی شادی کا سب سے بڑا سبب تحفظ کوبتایا۔
ایک ایسے معاشرے سے، جہاں کسی زمانے میں بچپن کی شادی قابل قبول تھی اور پولیس کو اس کی اطلاع دینا ممنوع سمجھا جاتا تھا، حالیہ برسوں میں ہندوستان نے اہم تبدیلی کا مشاہدہ کیا ہے۔ سروے میں شامل 63 فی صد لوگوں نے کہا کہ وہ اب متعلقہ حکام کو بچوں کی شادی کی اطلاع دینے میں “کافی سکون” محسوس کرتے ہیں،جب کہ 33 فی صد نے کہا کہ وہ “قدرے” راحت محسوس کرتے ہیں۔
رپورٹ میں 2030 تک بچپن کی شادی کے خاتمہ کے لئے بچوں کی شادی کے قوانین، بہتر معلوماتی نظام، لازمی شادی کے رجسٹریشن اور گاؤں کی سطح پر بیداری کے پروگراموں کو سختی سے نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس میں بچوں کی شادی کے خلاف لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے چائلڈ میرج فری انڈیا کا قومی دن مقرر کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
جسٹ رائٹس فار چلڈرن نے 2023 سے تاحال صرف ہندوستان میں نصف ملین سے زائد بچوں کی معاونت کی ہے اور ہر گھنٹے 18 بچوں کی شادیوں پر قدغن لگائی ہے۔ اپریل، 2023 سے ستمبر، 2025 کے مابین اس نیٹ ورک نے 397,849 بچوں کی بچپن کی شادیاں رکوائیں، بچوں کی اسمگلنگ اور بندھوا مزدوری کے شکار109,548کو نجات دلائی، اسمگلنگ کرنے والے گروپوں کے خلاف 74,375 مقدمات درج کیے اور 32,000 جنسی استحصال کے شکار بچوں کو معاونت فراہم کی۔ جے آرسی بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے انگریزی کے3Pیعنی پروسکیوشن،پریونشن اور پروٹیکشن (استغاثہ،تدارک اور تحفظ)کو آگے بڑھانے والے سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اولین نیٹ ورک بن گیا ہے۔
یہ رپورٹ پانچ ریاستوں کے 757 گاؤں سے جمع کردہ اعدادوشمار پر مبنی ہے۔ ان ریاستوں اور دیہاتوں کو علاقائی طور پر منتخب کیا گیا تھا تاکہ ملک کے متنوع سماجی و ثقافتی سیاق و سباق کی عکاسی کی جا سکے۔ اس سروے نے ملٹی اسٹیج اسٹریٹی فائیڈ رینڈم سیمپلنگ کی بنیاد پر سب سے پہلے دیہاتوں سے فرنٹ لائن کارکنان جیسے آشا، آنگن واڑی کارکنان، اسکول ٹیچر، معاون نرسوں، دائیوں اور پنچایت ممبران سے رابطہ کرکے ڈیٹا جمع کیا۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
