جموں و کشمیر
بسولی پینٹنگ — جموں کی ثقافتی پہچان، آرٹ، رنگوں کی چمک دمک اور جذباتی تاثر کی بدولت آج بھی زندہ و تابندہ
سری نگر، جموں و کشمیر کی سرزمین اپنی بےمثال خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اپنے شاندار آرٹ کے لئے بھی مشہور ہے اور انہی روایات میں ایک نام بسولی پینٹنگ کا بھی آتا ہے،جو جموں کے ضلع کٹھوعہ کے قصبہ بسولی سے جنم لینے والی ایک دلکش اور روحانی مصوری کی روایت ہے سترہویں صدی میں شروع ہونے والا یہ آرٹ آج بھی اپنی مخصوص پہچان، رنگوں کی چمک اور جذباتی تاثر کی بدولت زندہ و تابندہ ہے۔
بسولی پینٹنگ کی ابتدا سترہویں صدی میں ہوئی جب جموں خطے کے راج درباروں میں مصوری کو مذہبی اور ثقافتی اظہار کے طور پر فروغ دیا گیا۔ اس زمانے میں بسولی ریاست کے راجہ سنگرام پال (1635–1673 اور کِرپال پال (1678–1693( جیسے حکمرانوں نے فنونِ لطیفہ کو سرپرستی دی۔ انہی ادوار میں بسولی مصوری نے جنم لیا اور بعد میں اسے پہاڑی اسکول کا پہلا مرکز قرار دیا گیا۔
اس آرٹ کی مقبولیت نے یورپی اور ایرانی اثرات کو بھی اپنے اندر سمو لیا، جس سے یہ فن اور زیادہ متنوع ہو گیا۔
وقت کے ساتھ بہت سے روایتی فنون زوال پذیر ہو گئے، لیکن بسولی پینٹنگ آج بھی زندہ ہے۔جموں کے بازاروں میں اب بھی اس طرز کی پینٹنگز فریمز، گفٹ آئٹمز، وال ہینگنگز اور سجاوٹی بورڈز کی شکل میں دستیاب ہیں۔
سیاح ان فن پاروں کو یادگار کے طور پر خریدتے ہیں، جس سے مقامی فنکاروں کو معاشی سہارا ملتا ہے۔
سنیتا دیوی، جو بسولی کٹھوعہ کی ایک مقامی فنکارہ ہیں، نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا:’میں نے یہ ہنر اپنے خاندان سے سیکھا۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ اس آرٹ نے مجھے پہچان دی۔ آج میں آن لائن آرڈرز کے ذریعے اچھی خاصی کمائی کرتی ہوں۔ لوگ بسولی پینٹنگ کو گھر کی سجاوٹ یا تحفے کے طور پر خریدتے ہیں’۔
جب ان سے حکومت کی جانب سے ملنے والی مدد کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا: ‘بسولی پینٹنگ کو جی آئی ٹیگ تو ملا ہے، لیکن حکومت کو اس ہنر سے وابستہ فنکاروں کو مالی معاونت اور مارکیٹ کی سہولت فراہم کرنی چاہیے تاکہ یہ روایت آنے والی نسلوں تک باقی رہے’۔
موصوفہ نے کہا: ‘بسولی پینٹنگ کو اگر ہم صرف ایک آرٹ فارم کہیں تو یہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ دراصل جموں خطے کی تہذیبی روح ہے، جو سترہویں صدی کے درباروں سے ابھر کر آج کے گھروں تک پہنچی ہے۔ اُس زمانے میں جب مغل مصوری دہلی اور لاہور میں عروج پر تھی، بسولی کے مصوروں نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی — ایسی پہچان جس میں مذہب، روحانیت اور مقامی لوک کہانیاں سب ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔ ان تصویروں میں رنگ صرف سجاوٹ کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ہر رنگ کا ایک مخصوص مطلب ہے’۔
سال 2020 میں نبارڈ اور محکمہ ہینڈی کرافٹس کی مشترکہ کوشش سے بسولی پینٹنگ کو جی آئی ٹیگ فراہم کیا گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ فن خاص طور پر بسولی علاقے سے وابستہ ہے اور اس کی منفرد پہچان اسی خطے سے جڑی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ جی آئی ٹیگ نہ صرف فنکاروں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بسولی کی شناخت کو مزید مستحکم بناتا ہے۔
بسولی پینٹنگ محض مصوری نہیں بلکہ ایک روحانی تجربہ ہے۔
ہر تصویر میں عقیدت، محبت اور انسانی احساسات کی جھلک ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اکثر ’روح کی زبان میں بولتی تصویر‘ کہا جاتا ہے۔
فن کے ماہرین کے مطابق یہ آرٹ کشمیر اور جموں کے روحانی ماحول، پہاڑی ثقافت، اور انسان و فطرت کے تعلق کی ایک بصری ترجمانی ہے۔
یو این آئی۔ ارشید۔ بٹ۔ ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے فرضی ملازمت فراڈ کیس میں عادی مجرم کے خلاف فردِ جرم عائد کردی
