تازہ ترین
ترال جھڑپ: مکان زمین بوس ، سی آر پی ایف اہلکار زخمی جھڑپ کی جگہ سے کوئی لاش ابھی تک برآمد نہیں کی گئی ،
خبراردو:
پلوامہ کے آری پل نامی گاؤں میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان گھماسان کی لڑائی ہوئی جس دوران آدھے دن تک طرفین کے درمیان شدید گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں سی آر پی ایف کا ایک اہلکار زخمی ہوا جسے علاج و معالجے کی خاطر فوجی ہسپتال واقع بادامی باغ منتقل کیا گیا۔ ادھر رہائشی مکان کو بعد دوپہر بارودی مواد سے زمین بوس کردینے کے بعد فورسز کو کسی بھی جنگجو کی لاش نہیں ملی تاہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق جنگجو ممکنہ طور پر جائے جھڑپ سے فورسز کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ادھر جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی خاطر آری پل اور ملحقہ دیہات سے نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز پر چہار سو پتھراؤ کیا جس کے بعد فوج و فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی خاطر پیلٹ فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔اس دوران جائے جھڑپ سے 13کلومیٹر دور شیر آباد گاؤں میں اُس وقت افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جب یہاں سے گزر رہی سی آر پی ایف کی گاڑی نے تعزیت سے واپس لوٹ رہے لوگوں پر شلنگ کی جس کے نتیجے میں یہاں 23نوجوان کے سر پر گہری چوٹ آئی۔ ادھر انتظامیہ نے ضلع میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کردیا۔ 
جنگجو مخالف آپریشنوں کو جاری رکھتے ہوئے فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ پارٹی نے جنوبی کشمیر پلوامہ کے آری پل نامی گاؤں کا علی الصبح محاصرہ عمل میں لایا جس دوران یہاں گھر گھر تلاشیوں کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔ پولیس نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی مشترکہ جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد آری پل نامی گاؤں کا علی الصبح محاصرہ کیا جس دوران یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے آپریشن شروع کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کو مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ یہاں حزب المجاہدین کے سرکردہ کمانڈر عمر فیاض ولد فیاض احمد لون عرف حماد خان ساکن سیر جاگیر ترال چھپا بیٹھا ہے جس کے بعد ہی فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی بھاری جمعیت نے گاؤں کے چاروں اطراف محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا۔
پولیس کے مطابق اس موقعے پر فورسز نے گاؤں کے اندرون و بیرون راستوں پر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کرنے کے علاوہ جگہ جگہ فوج کی بکتر بند گاڑیوں کو تعینات کیا ۔سیکورٹی فورسز نے جونہی علاقے میں تلاشی کارروائی شروع کی تو اسی دوران یہاں مکان میں پناہ لیے ہوئے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر جدید ہتھیاروں سے شدید فائرنگ شروع کردی جس کے بعد فورسز نے مورچہ سنبھالتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ مکان کے اندر سے جنگجوؤں نے وقفے وقفے سے فورسز پر فائرنگ جاری رکھی تاہم دوپہر ایک بجے کے قریب فورسز نے جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے مکان کو بارودی موادسے اُڑادیا جس کے بعد یہاں گولیوں کی گن گرج تھم گئی۔پولیس نے بتایا کہ طرفین کی شدید فائرنگ کے نتیجے میں ایک سی آر پی ایف اہلکار بھی زخمی ہوگیا جسے فوری علاج و معالجے کی خاطر فوجی ہسپتال واقع بادامی باغ سرینگر منتقل کردیا گیا۔
اس دوران سیکورٹی فورسز نے شام دیر گئے تک جائے جھڑپ پر ملبے کی تلاشی عمل میں لائی تاہم یہاں سے کسی بھی جنگجو کی لاش برآمد نہیں ہوئی۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق طرفین کی شدید گولہ باری کے بعد ہی جنگجو جائے جھڑپ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تاہم علاقے میں شام دیر گئے تک حزب المجاہدین کے سرکردہ کمانڈرحماد خان کی ہلاکت پر تذبذب برقرار تھا جبکہ پولیس نے بھی اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اس دوران جنگجوؤں مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی خاطر آری پل ، پستونہ، سیر، گلشن پورہ، لرو اور ہندورہ نامی گاؤں سے لوگوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر فورسز پر سنگ باری شروع کردی جس کے بعد یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ پولیس کے مطابق لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جنگجو مخالف کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی خاطر سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا ۔ عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی خاطر پیلٹ فائرنگ اور آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جس کے نتیجے میں یہاں قیامت صغریٰ کا ماحول پیدا ہوا۔ ادھر جائے جھڑپ سے 13کلومیٹر دور شیر آباد نامی گاؤں میں بھی اُس وقت خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوا جب یہاں ایک خاتون کو دفنانے کے بعد جنازے میں شامل لوگوں پر سی آر پی ایف اہلکاروں نے آنسو گیس کے کئی گولے داغے جس کے بعد یہاں صورتحال نے سنگین رخ اختیار کیا۔
عینی شاہدین کے مطابق سی آر پی ایف اہلکاروں نے اُس وقت آنسو گیس کے کئی گولے داغے جب یہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایک خاتون کودفنانے کے بعد واپس گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں پر نہ تو کوئی احتجاجی مظاہرہ ہورہا تھا اور نہ ہی کوئی سنگ باری مگر سی آر پی ایف نے بلاوجہ پرامن لوگوں پر تشدد ڈھایا ۔ معلوم ہوا ہے کہ سی آر پی ایف کی کارروائی کے نتیجے میں یہاں 23سالہ نوجوان سر میں شل لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوگیا ہے جسے علاج و معالجے کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا ۔ادھر جھڑپ میں مارے گئے جنگجو کی شناخت سے متعلق پولیس نے شام دیر گئے تک کوئی بھی تصدیق نہیں کی جس کے نتیجے میں پلوامہ اور مضافات میں جاں بحق جنگجو سے متعلق تذبذب کی کیفیت چھائی رہی۔ادھر ضلع انتظامیہ نے سنیچر کی صبح شروع ہوئی جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی ضلع بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو منقطع کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ ضلع بھر میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور بے لگام افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے احتیاطی طور پر موبائل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کرلیا ۔خیال رہے جمعرات کو ہی پلوامہ کے گلشن پورہ ترال میں بھی فوج اور جنگجوؤں کے مابین ایک خونین معرکہ آرائی ہوئی جس میں حز ب المجاہدین سے وابستہ 3مقامی جنگجو جاں بحق ہوگئے۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
