تازہ ترین
ترال جھڑپ: مکان زمین بوس ، سی آر پی ایف اہلکار زخمی جھڑپ کی جگہ سے کوئی لاش ابھی تک برآمد نہیں کی گئی ،
خبراردو:
پلوامہ کے آری پل نامی گاؤں میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان گھماسان کی لڑائی ہوئی جس دوران آدھے دن تک طرفین کے درمیان شدید گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں سی آر پی ایف کا ایک اہلکار زخمی ہوا جسے علاج و معالجے کی خاطر فوجی ہسپتال واقع بادامی باغ منتقل کیا گیا۔ ادھر رہائشی مکان کو بعد دوپہر بارودی مواد سے زمین بوس کردینے کے بعد فورسز کو کسی بھی جنگجو کی لاش نہیں ملی تاہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق جنگجو ممکنہ طور پر جائے جھڑپ سے فورسز کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ادھر جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی خاطر آری پل اور ملحقہ دیہات سے نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز پر چہار سو پتھراؤ کیا جس کے بعد فوج و فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی خاطر پیلٹ فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔اس دوران جائے جھڑپ سے 13کلومیٹر دور شیر آباد گاؤں میں اُس وقت افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جب یہاں سے گزر رہی سی آر پی ایف کی گاڑی نے تعزیت سے واپس لوٹ رہے لوگوں پر شلنگ کی جس کے نتیجے میں یہاں 23نوجوان کے سر پر گہری چوٹ آئی۔ ادھر انتظامیہ نے ضلع میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کردیا۔ 
جنگجو مخالف آپریشنوں کو جاری رکھتے ہوئے فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ پارٹی نے جنوبی کشمیر پلوامہ کے آری پل نامی گاؤں کا علی الصبح محاصرہ عمل میں لایا جس دوران یہاں گھر گھر تلاشیوں کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔ پولیس نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی مشترکہ جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد آری پل نامی گاؤں کا علی الصبح محاصرہ کیا جس دوران یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے آپریشن شروع کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کو مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ یہاں حزب المجاہدین کے سرکردہ کمانڈر عمر فیاض ولد فیاض احمد لون عرف حماد خان ساکن سیر جاگیر ترال چھپا بیٹھا ہے جس کے بعد ہی فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی بھاری جمعیت نے گاؤں کے چاروں اطراف محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا۔
پولیس کے مطابق اس موقعے پر فورسز نے گاؤں کے اندرون و بیرون راستوں پر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کرنے کے علاوہ جگہ جگہ فوج کی بکتر بند گاڑیوں کو تعینات کیا ۔سیکورٹی فورسز نے جونہی علاقے میں تلاشی کارروائی شروع کی تو اسی دوران یہاں مکان میں پناہ لیے ہوئے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر جدید ہتھیاروں سے شدید فائرنگ شروع کردی جس کے بعد فورسز نے مورچہ سنبھالتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ مکان کے اندر سے جنگجوؤں نے وقفے وقفے سے فورسز پر فائرنگ جاری رکھی تاہم دوپہر ایک بجے کے قریب فورسز نے جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے مکان کو بارودی موادسے اُڑادیا جس کے بعد یہاں گولیوں کی گن گرج تھم گئی۔پولیس نے بتایا کہ طرفین کی شدید فائرنگ کے نتیجے میں ایک سی آر پی ایف اہلکار بھی زخمی ہوگیا جسے فوری علاج و معالجے کی خاطر فوجی ہسپتال واقع بادامی باغ سرینگر منتقل کردیا گیا۔
اس دوران سیکورٹی فورسز نے شام دیر گئے تک جائے جھڑپ پر ملبے کی تلاشی عمل میں لائی تاہم یہاں سے کسی بھی جنگجو کی لاش برآمد نہیں ہوئی۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق طرفین کی شدید گولہ باری کے بعد ہی جنگجو جائے جھڑپ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تاہم علاقے میں شام دیر گئے تک حزب المجاہدین کے سرکردہ کمانڈرحماد خان کی ہلاکت پر تذبذب برقرار تھا جبکہ پولیس نے بھی اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اس دوران جنگجوؤں مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی خاطر آری پل ، پستونہ، سیر، گلشن پورہ، لرو اور ہندورہ نامی گاؤں سے لوگوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر فورسز پر سنگ باری شروع کردی جس کے بعد یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ پولیس کے مطابق لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جنگجو مخالف کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی خاطر سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا ۔ عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی خاطر پیلٹ فائرنگ اور آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جس کے نتیجے میں یہاں قیامت صغریٰ کا ماحول پیدا ہوا۔ ادھر جائے جھڑپ سے 13کلومیٹر دور شیر آباد نامی گاؤں میں بھی اُس وقت خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوا جب یہاں ایک خاتون کو دفنانے کے بعد جنازے میں شامل لوگوں پر سی آر پی ایف اہلکاروں نے آنسو گیس کے کئی گولے داغے جس کے بعد یہاں صورتحال نے سنگین رخ اختیار کیا۔
عینی شاہدین کے مطابق سی آر پی ایف اہلکاروں نے اُس وقت آنسو گیس کے کئی گولے داغے جب یہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایک خاتون کودفنانے کے بعد واپس گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں پر نہ تو کوئی احتجاجی مظاہرہ ہورہا تھا اور نہ ہی کوئی سنگ باری مگر سی آر پی ایف نے بلاوجہ پرامن لوگوں پر تشدد ڈھایا ۔ معلوم ہوا ہے کہ سی آر پی ایف کی کارروائی کے نتیجے میں یہاں 23سالہ نوجوان سر میں شل لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوگیا ہے جسے علاج و معالجے کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا ۔ادھر جھڑپ میں مارے گئے جنگجو کی شناخت سے متعلق پولیس نے شام دیر گئے تک کوئی بھی تصدیق نہیں کی جس کے نتیجے میں پلوامہ اور مضافات میں جاں بحق جنگجو سے متعلق تذبذب کی کیفیت چھائی رہی۔ادھر ضلع انتظامیہ نے سنیچر کی صبح شروع ہوئی جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی ضلع بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو منقطع کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ ضلع بھر میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور بے لگام افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے احتیاطی طور پر موبائل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کرلیا ۔خیال رہے جمعرات کو ہی پلوامہ کے گلشن پورہ ترال میں بھی فوج اور جنگجوؤں کے مابین ایک خونین معرکہ آرائی ہوئی جس میں حز ب المجاہدین سے وابستہ 3مقامی جنگجو جاں بحق ہوگئے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
