تازہ ترین
حریت لیڈرشپ کیساتھ بامعنی مذاکرات شروع کئے جائیں:فاروق عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مسئلہ کشمیر کے بامعنی حل کے لیے حریت کانفرنس کے ساتھ مذاکرات کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوجی سربراہ جنرل بپن راوت طالبان جنگجوؤں کے ساتھ افہام و تفہیم کی وکالت کرسکتے ہیں تو نئی دہلی کو بلاتاخیر حریت کانفرنس کو اعتماد میں لے کر بات چیت کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔انہوں نے صاف کردیا کہ کشمیر مسئلے کو کسی بھی صورت میں فوجی ذرائع، دھونس دباؤ یا طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔
نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کولکتہ میں کشمیر سے متعلق ایک مباحثے بعنوان ’جموں وکشمیر: آگے کا راستہ‘ میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے پرامن تصفیہ اور بامعنی حل کے لیے نئی دہلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ حریت کانفرنس کے ساتھ مذاکرات شروع کرے۔ ڈاکٹر فاروق نے دیرپا امن کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بامعنی حل کے لئے کشمیری حریت رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کرے۔فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کے حالیہ بیان جس میں انہوں نے طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات کی وکالت کی تھی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر افغانستان میں مسائل کے حل کی خاطر فوجی سربراہ افہام و تفہیم کے راستے کی وکالت کرتے ہیں تو ایسے میں نئی دہلی کو بھی ٹھو س اور مؤثر اقدامات اُٹھاکر کشمیری حریت رہنماؤں کے ساتھ بات چیت شروع کرکے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہیے۔’سنٹر فار پیس اینڈ پراگریس‘ کی طرف سے منعقدہ مباحثے میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ نئی دہلی کو اپنی انا ترک کرکے حریت کانفرنس کے ساتھ تاخیر کے بغیر مذاکرات شروع کرنے چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ حریت کانفرنس سے وابستہ لیڈران اور کارکنان بھارتی پاسپورٹ رکھتے ہیں اور اس طرح وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی نے کشمیر ی حریت رہنماؤں کے ساتھ ماضی قریب میں مذاکرات کئے۔این سی صدر ڈاکٹر فاروق نے مباحثے میں واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کو فوجی ذرائع اور طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ ’کشمیر معاملے کو کسی بھی صورت میں فوجی ذرائع یا طاقت کے ساتھ حل نہیں کیا جاسکتا اور اگر خطے میں امن کو یقینی بنایا ہے تو اس کے لیے مذاکرات کا سلسلہ انتہائی ناگزیر ہے۔انہوں نے دبے الفاظ میں ملک میں براجمان بھارتیہ جنتا پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں پراُمید ہوں کہ ملک میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے اختتام تک بات چیت کے حوالے سے کوئی مثبت قدم نہیں اُٹھایا جائے گا کیوں کہ بدقسمتی سے فی الوقت ملک کا عوام یک جٹ ہونے کے بجائے مختلف سطحوں پر بٹ چکا ہے۔’ملک میں آنے والے مہینوں میں لوک سبھا انتخابات تک مسئلہ کشمیر سے متعلق کوئی بریک تھرو ملنے کی کوئی اُمید دکھائی نہیں دیتی کیوں کہ ملک کی سیاسی جماعتوں نے لوگوں کو متحد کرنے کے بجائے انہیں منتشر کردیا ہے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ لوک سبھا انتخابات ختم ہونے کے بعد ہی مسئلہ کشمیر پر کوئی سیاسی پہل ہوگی اور حریت کانفرنس کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوگا‘۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں نئی دہلی اور کشمیری عوام کے درمیان بداعتمادی کی فضا پائی جارہی ہے اور ملک کے کونے کونے میں نفرت اور عداوت کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اورپاکستان کے درمیان دشمنی اور عداوت کی جو دیوار کھڑی کی گئی تھی اس کی قیمت جموں و کشمیر کے عوام کو برداشت کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتیں ہیں جو دوونوں ممالک کو قریب نہیں آنے دیتے ہیں کیوں کہ اگر کشمیر میں امن و امان قائم ہوگیا تھا توان کی دوکانداری ختم ہوجائے گی۔ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کشمیر کے موجودہ حالات کیلئے مودی حکومت کو براہ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی پلیٹ فارم پر کشمیریوں کا دل جیتنے کی بات ضرورکرتی ہے مگر کشمیری عوام کو برابری کا درجہ دینے کو تیار نہیں ہے۔کشمیریوں کے ملک بھر میں بدسلوکی کے واقعات ہورہے ہیں،کشمیریوں کی حب الوطنی پر مسلسل سوالیہ نشان لگایا جاتاہے،کشمیریوں کوا پنا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹرفاروق عبد اللہ نے آرٹیکل370کو ختم کرنے کی وکالت کرنے والوں کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان اور کشمیر کے الحاق کی تاریخ اور اسباب کو نہیں جاننے والے ہی اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370اور 35اے کو ہندوستان کے آئین کا حصہ کشمیری مسلمانوں کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومت ہند اور جموں و کشمیر کے مہاراجہ کے درمیان معاہدہ کے وقت ہی شامل کیا گیا تھا۔خیال رہے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے گزشتہ دنوں افغانستان اور کشمیر کے حوالے سے سیاسی پہل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کا طریق کار اور پالیسی کشمیر میں عملائی نہیں جاسکتی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں مسئلہ کشمیر کے حل میں کسی تیسری فریق کی مداخلت کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مذاکرات بھارت کی طرف سے پیش کی جانے والے شرائط پر مبنی ہوں گے۔
فوجی سربراہ نے بتایا کہ جب تک نہ حریت کانفرنس تشدد کا راستہ ترک کرنے اور پاکستان کا راگ الاپنا بند نہیں کرتے تب تک بات چیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ادھر مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے سابق آرمی چیف شنکر رائے چودھری نے اپنی گفتگو میں سابق بیوروکریٹ شاہ فیصل کے استعفیٰ پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شاہ فیصل کا بیوروکریسی سے مستعفی ہونا ہمارے لیے صدمے سے کم نہیں ہے۔ انہیں بیوروکریسی کو خیرباد نہیں کہنا چاہیے تھا تاہم انہوں نے اس بات اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں سے وادی کشمیر کی نوجوان نسل آرمی میں بھرتی ہورہے ہیں جو کہ ایک خوش آئندہ بات ہے۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
