ہندوستان
اے آئی انسانی تاریخ میں تبدیلی کا بڑا انقلاب، ہندوستان کا ‘مانو’ وژن سب کے مفاد میں: مودی
نئی دہلی وزیر اعظم نریندر مودی نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کو پوری انسانی تاریخ میں تبدیلی کا ایک بڑا انقلاب اور مثبت طاقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال انسانیت کی بھلائی کے لیے ایک نعمت ہے، لیکن اس کا غلط استعمال تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے اے آئی کے بارے میں ہندوستان کا نظریہ ‘مانو’ بھی پیش کیا جو اس کے اخلاقی، جوابدہ، خود مختار اورقانونی شکل کے خاکہ کی وضاحت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا یہ ویژن 21ویں صدی میں انسانیت کی بہبود کی اہم کڑی بنے گا۔
مسٹر مودی نے جمعرات کو یہاں ‘انڈیا اے آئی امپیکٹ’ کانفرنس میں دنیا بھر کے ممتاز اے آئی ماہرین، کئی ممالک کے سربراہان مملکت، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی تاریخ میں کچھ صدیوں کے بعد ایک فیصلہ کن موڑ آتا ہے جو تہذیب کی سمت طے کرتا ہے، جس سے سوچنے کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں اس کے اثرات کا اندازہ بھی نہیں ہوتا لیکن بعد میں یہی تہذیب کی بنیاد بنتا ہے۔
انہوں نے قدیم تاریخ کے کئی مراحل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی انسانی تاریخ میں تبدیلی کا ایک انقلاب ہے، اس سے مشینوں کو ذہین بنا کر انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قدیم مراحل کی بات کریں تو فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار تبدیلی کی رفتار اور اس کا پیمانہ غیر معمولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے دیکھتے ہوئے ہمیں وژن اور ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ادا کرنی ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ کئی بڑے سوالات ہیں جیسے آنے والی نسلوں کے ہاتھوں میں ہم اے آئی کی کیا شکل سونپ کر جائیں گے اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ موجودہ وقت میں ہم اے آئی کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے ایٹمی توانائی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس کی تباہی بھی دیکھی اور اب انسانیت کے لیے اس کا مثبت تعاون بھی دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح اے آئی بھی ایک مثبت طاقت ہے، اگر یہ سمت سے بھٹک جائے تو تباہی ہے اور اگر اسے صحیح سمت ملی تو یہ ایک نعمت ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
عالمی غیر یقینی صورتحال کے دور میں ہند-لگژمبرگ تعلقات اہم : جے شنکر
نئی دہلی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور سپلائی چینز میں رکاوٹوں کے موجودہ دور میں ہندوستان اور لگژمبرگ کے تعلقات انتہائی اہم ہیں۔
مسٹر جے شنکر نے ہندوستان کے دورے پر آئے لگژمبرگ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ زیویئر بیٹل کے ساتھ پیر کے روز یہاں بات چیت کی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپ، کلین ٹیکنالوجی، خلائی شعبہ، صحت، تعلیم اور لوگوں کے باہمی آمد و رفت سمیت دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بعد میں وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دور میں ہند-لگژمبرگ تعلقات انتہائی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا ، ” نئی دہلی میں آج لگژمبرگ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ زیویئر بیٹل کا خیرمقدم کیا۔
ہندوستان اور لگژمبرگ کے درمیان قابل اعتماد شراکت داری عالمی غیر یقینی صورتحال اور رکاوٹوں کے دور میں اہم ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپ، کلین ٹیکنالوجی، خلائی شعبہ، صحت، تعلیم اور آمد و رفت سمیت دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی پیش رفت اور کثیر جہتی تعاون پر بھی غور و خوض ہوا۔ ہند-لگژمبرگ شراکت داری اور ہندوستان-یورپی یونین تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے لگژمبرگ کے نائب وزیر اعظم کی حمایت قابل ستائش ہے۔ ” مسٹر بیٹل کا منگل کے روز چنئی جانے کا پروگرام ہے۔
یو این آئی ۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
ستیہ نکیتن عمارت حادثہ: مہلوکین کی تعداد 7 ہوئی، ایم سی ڈی کے 5 افسران معطل، مالک حراست میں
نئی دہلی، جنوب مغربی دہلی کے ستیہ نکیتن میں عمارت منہدم ہونے کے واقعہ میں مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی ہے، جبکہ 5 افراد زخمی ہیں۔
واقعہ کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے جنوبی زون کے ڈپٹی کمشنر سمیت 5 افسران کو معطل کر دیا ہے۔ 24 گھنٹے سے زیادہ جاری رہی راحت اور بچاؤ مہم اب ختم کر دی گئی ہے۔ دہلی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ملبے میں اب کوئی شخص پھنسا ہوا نہیں ہے۔
معطل افسران میں جنوبی زون کے ڈپٹی کمشنر راکیش کمار، محکمہ تعمیرات کے ایگزیکٹو انجینئر للت کمار گوئل، اسسٹنٹ انجینئر سنیل چوہان اور جونیئر انجینئر آشیش کمار شامل ہیں۔ پانچویں معطل افسر کا نام فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکا۔
ایم سی ڈی کے ویجی لینس محکمہ نے میونسپل کمشنر سنجیو کھیروار کی ہدایت پر دہلی میونسپل کارپوریشن سروس (کنٹرول اینڈ اپیل) ضوابط، 1959 کے تحت معطلی کے احکامات جاری کیے۔ احکامات پر ویجی لینس محکمہ کے ڈپٹی لا افسر نند کشور نے دستخط کیے ہیں۔
معطل افسران کو فوری اثر سے معطل کیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ضوابط کے تحت انہیں گزارہ الاؤنس دیا جائے گا۔ اسی دوران، دہلی پولیس نے عمارت کے مالک ہری رام گپتا کو راجستھان کے بھیواڑی سے گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ گپتا کی اہلیہ ارمیلا اور بیٹے مہیش کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس ڈپٹی کمشنر ابھیمنیو پوسوال نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق پولیس نے صرف گپتا کو گرفتار کیا تھا، کیونکہ اسی کو پی جی کا مالک اور منیجر سمجھا گیا تھا۔
مزید تفتیش میں پتہ چلا کہ بجلی کا کنکشن ہری رام کے نام پر تھا، لیکن کاغذات میں جائیداد کی اصل مالکن ان کی اہلیہ ارمیلا تھیں۔ ان کا بیٹا مہیش گپتا انتظامی امور سنبھالتا تھا، جس کی وجہ سے اسے بھی گرفتار کیا گیا۔
عمارت منہدم ہونے کے بعد مبینہ طور پر رابطے سے باہر ہونے پر پولیس نے اس کے خلاف لک آؤٹ سرکلر جاری کیا تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ گپتا کو بھیواڑی میں پکڑا گیا ہے اور واقعہ کے حالات کی جانچ کے تحت اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
بی جے پی حکومت میں حادثات کے بعد بھی طے نہیں ہوتی جوابدہی: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے یہاں ستیہ نکیتن میں عمارت گرنے کے واقعے پر مرکز اور دہلی حکومت پر حادثات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پیر کو کہا کہ حادثہ کے بعد بیان بازی ہوتی ہے اور چھوٹے حکام پر ذمہ داری ڈال کر اصل ذمہ داروں کو جوابدہی سے بچایا جاتا ہے۔
مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ ستیہ نکیتن میں طلباء سے بھری عمارت کا گرنا کوئی تنہا المیہ نہیں ہے۔ گزشتہ چار مہینوں میں سید العجائب میں ایسے ہی المئے میں چھ لوگوں کی موت ہوئی، جبکہ ہوض رانی میں آگ لگنے سے 22 لوگوں کی جان چلی گئی۔ ہر بار زندگیاں، خواب اور ارمان ملبے میں دبتے ہیں، لیکن کارروائی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ جوابدہی مانگنے والوں کو وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے ‘دماغی نکسل’ اور ‘ناراض پھوپھا’ جیسے توہین آمیز تمغے دیے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد سوال پوچھنے والوں کو شرمندہ، بدنام اور خاموش کرانا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ 12 سال سے حکومت دنیا بھر کی باتیں کر کے لوگوں کو ‘گول گول گھما’ رہی ہے، لیکن اصل معاملے پر بات نہیں کرتی۔ انہوں نے سوال کیا، ”دہلی میں ‘ٹریپل انجن’ حکومت ہے، تو اب کس بات سے لاچار ہے؟“ مسٹر گاندھی نے خود ہی سوال کا جواب دیا اور کہا، ”لاچاری ہے نیت کی، کیونکہ جہاں نیت نہیں ہوتی، وہاں جوابدہی بھی نہیں ہوتی۔“
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر3 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر6 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا6 days agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کے مضافات میں پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور نے سابق فوجی کی جان لے لی
-
دنیا1 week agoایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات کے المِنہاد فضائی اڈے پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر3 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
-
دنیا6 days agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
دنیا6 days agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر7 days agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
-
ہندوستان1 week agoکاس گنج سڑک حادثہ میں چھ عقیدتمندوں کی موت، 20 زخمی
-
دنیا7 days agoنیپال اور چین میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز
