تجزیہ
خصوصی مضمونایران کے نئے سپریم لیڈر – مجتبیٰ خامنہ ای
اسد مرزا
ایران نے پیر کو مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے شہید والد علی خامنہ ای کی جگہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر منتخب کرلیا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ موجودہ ایرانی حکومت مضبوطی سے اقتدار میں قائم رہے گی ، ایرانی مذہبی اداروں اور سیاست دانوں نے وزارت خارجہ سے لے کر قانون سازوں تک، ملک کے نئے سپریم لیڈر کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے بیانات جاری کیے ہیں ،جب کہ جنگ اپنے 10ویں دن میں داخل ہو گئی ہے اور تازہ میزائل اور ڈرون حملے پورے مشرق وسطیٰ میں گونج رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ بھی نکلا جاسکتاہے کہ مغربی ممالک ایران میں موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے میں ناکام رہے ہیں۔
برسوں سے مغرب ایران میں اسلام پسندوں کی زیر قیادت حکومت کو تبدیل کرنے کی بھرپور کوشش کر تارہا ہے۔ اسلام مخالف اور شیعہ مخالف موقف کو فروغ دینے کے لیے اس نے ملک میں جمہوریت کے خاتمے ، خواتین کے خلاف جبر، سماجی جمود اور معاشی زوال پر تشویش کا اظہار ہمیشہ جاری رکھا۔ لیکن ان کی حکمت عملی کا بنیادی عنصر ہمیشہ رہا ہے اور ابھی بھی ہے کہ ایران کی تیل اور معدنی دولت کو کس طرح کنٹرول کیا جائے اور ملک کو سرمایہ دارانہ نظریے کے سامنے کیسے جھکایا جائے۔
موجودہ امریکی ۔اسرائیلی مداخلت کی قیادت ریاستہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو دونوں کی طرف سے ایک بیان بازی کی مہم کے ذریعے کی گئی تھی جس میں ایرانیوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ “اٹھیں”۔ آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ سطحی ایرانی حکام کی شہادت کو اتحاد کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر منایا گیا۔
جرمنی کی Philipps-Universität Marburg میں مشرق وسطیٰ کے معاشیات کے پروفیسر محمد رضا فرزانیگن کا خیال ہے کہ یہ مفروضہ کہ ایک مرکزی شخصیت کو ہٹانے سے ایک “مختصر اور فیصلہ کن ٹوٹ پھوٹ” ہو جائے گی جس کے بعد ایران میں موجودہ حکومت کے خلاف راہ ہموار ہوجائے گی ۔ لیکن درحقیقت، آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ایران شاید وہ وہ ملک نہیں بن سکا ہے جو مداخلت کے حامی دیکھنا چاہتے ہیں۔
اگر ہم مشرق وسطیٰ پر ایک وسیع نظر ڈالیں، تو ہم تین ممالک کی نشاندہی کر سکیں گے، جہاں حکومت کی تبدیلی میں بیرونی مداخلت کے نتیجے میں ہموار منتقلی اور استحکام نہیں ہوا ہے۔ عراق، شام اور لیبیا نے صرف افراتفری دیکھی ہے استحکام نہیں۔
جبکہ خطے کا چوتھا ملک، جس کے بارے میں سب سے زیادہ منفی خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے، ان مفروضوں کی نفی کرنے میں کامیاب رہےہیں اور طالبان نے ملک میں اپنا کنٹرول مضبوط کیا ہے۔
عراق نے 2003 میں امریکی حملے کے بعد مختلف شورشیں اور خانہ جنگی دیکھی ہے۔ جمہوریت سازی کی کوششوں کے باوجود، ملک اب بھی 2003 سے پہلے کے استحکام کی طرف لوٹنے سے قاصر ہے۔
2011 میں نیٹو کی زیرقیادت مداخلت کے بعد لیبیا کے خاتمے کے نتیجے میں قابل ذکر بحالی نظر نہیں آئی۔ ملک بدستور حکومت کے دو مراکز – طرابلس اور بن غازی کے درمیان تقسیم ہے۔
بشار الاسد کے خاتمے اور ملک کے سیاسی منظر نامے پر الشرع کے ابھرنے کے بعد شام عوام کی نئی فلاحی حکومت کو فروغ دینے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے لیکن اس نے الشرع کو امریکی انتظامیہ کی مدد کرتےدیکھا جاسکتا ہے۔
لیکن ایران کا معاملہ ان ممالک سے کئی لحاظ سے مختلف ہے۔ مزید یہ کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا گہرا اثر ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں ریاست کا خاتمہ ہونے کے بجائے ایران اور مضبوط ہوکر ابھرے ۔
ایران کے لیے اب بڑا سوال یہ ہے کہ انتظامی ہم آہنگی اور علاقائی سالمیت کو بر کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اس کا حصول بنیادی طور پر “گہری ریاست” کی بقا پر منحصر ہے، لچکدار سول بیوروکریسی اور ٹیکنوکریٹک طبقے جو ملک کی مالی اور پروفیسر فرزانیگن کا مزید کہنا ہے کہ ضروری خدمات کا انتظام کرتے ہیں ، ان کے درمیان ہم آہنگی اور متعینہ مقصد کے تحت کام کرنا شامل ہے۔ مزید برآں، علاقائی سالمیت باقاعدہ فوج (آرش) اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے درمیان مسلسل اتحاد پر منحصر ہے۔
لیکن یہاں ناقدین بھول جاتے ہیں کہ ایران میں نسلی اور لسانی تنوع کی سطح مشرق وسطیٰ کے اوسط ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔
بدترین صورت حال میں، اندرونی انتشار کا موجودہ خلا میں عمل پیرا ہونے کا امکان ہوسکتا ہے۔ سرحدی علاقوں میں، بلوچ، کرد اور عرب آبادیوں کے درمیان طویل عرصے سے ابلتی شورشیں مرکزی کنٹرول میں کمی کے ساتھ بڑے پیمانے پر علیحدگی پسند تنازعات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ماضی میں ان عناصر کی حمایت مغربی مہم کا ایک حصہ رہی ہے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں اور حالیہ دنوں میں محض کچھ اکا دکا کارروائیوں کی رپورٹ شام میں آئی ہیں۔ لیکن فی الوقت کسی بڑی باغی کارروائی کا کوئی اندیشہ نہیں لگتا۔
حالیہ ہفتوں میں، کچھ لوگوں نے ایران میں غیر ملکی فوجی مداخلت کا جواز پیش کرنے کے لیے کہا ہے کہ “ایک تلخ انجام نہ ختم ہونے والی تلخی سے بہتر ہے”۔ اس طرح کے تاثرات اس یقین پر قائم ہیں کہ فوجی ذرائع سے فوری حل نکالا جاسکتا ہے۔
ایرانی عوام کے لیے، کسی حکومت کا “تلخ خاتمہ” ان کے مصائب کا آخری عمل نہیں ہو سکتا، لیکن “نہ ختم ہونے والی تلخی” کے نئے، ساختی طور پر جڑے ہوئے دور کا افتتاحی باب ہے جو آنے والی دہائیوں تک خطے میں معاملات کو کشیدہ رکھ سکتا ہے۔
جہاں تک ایران میں اکثریتی شیعہ اور اقلیتی سنیوں کے درمیان پیدا ہونے والی دراڑوں کا تعلق ہے، یہ بھی قابل فہم نہیں لگتا۔ حال ہی میں 5 مارچ کو ایران کے سیستان اور بلوچستان میں سیکڑوں سنی علماء نے جاری کشیدگی کے درمیان ایران کی مسلح افواج کی حمایت کرتے ہوئے صیہونی وجود اور اس کے حامیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں 660 سنی علماء کے ایک گروپ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں جاری امریکی اسرائیل جارحیت کی مذمت کی گئی ہے اور اس کے خلاف مزاحمت پر زور دیا گیا ہے۔
علمائے کرام نے کہا کہ مذہبی اور تاریخی فریضہ کا تقاضا ہے کہ وہ ملک کے خلاف جارحیت کے خلاف خاموش نہ رہیں۔ انہوں نے بھی فتوے جاری کئے ہیں جن میں اعلان کیا گیا کہ “مجرم صہیونی وجود اور اس کے استکباری پشت پناہوں کے خلاف جہاد ایک بڑا فریضہ ہے۔”
بیان میں صوبے کے باشندوں سے بھی ہوشیار رہنے اور ملک کی سلامتی کے دفاع میں ایران کی مسلح افواج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے، علماء نے دشمن گروہوں اور پہلوی خاندان کے حامیوں کی سازشوں اور فتنہ کے شکار نہ ہونے کی تاکید کی ہے۔
شیعہ علماء نے بھی ایران پر حملے اور سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکہ اور “اسرائیل” کے خلاف جہاد کا فتویٰ دینے میں دیر نہیں کی ہے۔ان فتاوی کی توثیق کرنے والے علماء میں شیخ جوادی آملی، شیخ مکارم شیرازی، شیخ نوری ہمدانی اور عراق کے سید ہاشم الحیدری شامل تھے۔
سپریم کونسل اور IRGC کے کنٹرول کے علاوہ شیعہ اور سنی دھڑوں کا یہ اکٹھا ہونا ایران میں موجودہ حکومت کے تسلسل کو یقینی بنائے گا، جو امریکہ کی زیر قیادت مغربی طاقتوں اور صیہونی طاقتوں کے جھوٹے پروپیگنڈے اور خواہش مندانہ سوچ کو جھٹلاسکے گا ۔
یو این آئی۔ الف م۔ ع ا
تجزیہ
مصنوعی ذہانت اور ہندوستانی زراعت: موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی نئی راہیں
خصوصی مضمون: ظفراقبال
موسمیاتی تبدیلی آج دنیا بھر میں زراعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، غیر متوقع بارش، خشک سالی، سیلاب اور پانی کی قلت نے زرعی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ ہندوستان جیسے زرعی ملک میں اس صورت حال کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں لاکھوں خاندانوں کا روزگار کھیتی باڑی سے وابستہ ہے۔ ایسے حالات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے یہ امید وابستہ کی جارہی ہے کہ وہ کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور زرعی پیداوار بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
اسی مقصد کے تحت گوگل نے حیدرآباد میں قائم انٹرنیشنل کراپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار دی سیمی اَرِڈ ٹراپکس (آئی سی آر آئی ایس اے ٹی) اور دنیا کے دیگر تحقیقی اداروں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت اور جدید سائنسی تحقیق کی مدد سے ایسی فصلوں کی تیاری کو فروغ دینا ہے جو خشک سالی اور موسمیاتی دباؤ کا بہتر مقابلہ کرسکیں۔ اس منصوبے میں جوار جیسی غذائیت سے بھرپور فصلوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
ہندوستان میں زراعت کا بڑا حصہ مون سون کی بارشوں پر منحصر ہے۔ بارشوں میں بے قاعدگی، شدید گرمی اور پانی کی کمی کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے۔ کبھی بارش وقت پر نہیں ہوتی اور کبھی مختصر مدت میں اتنی زیادہ بارش ہوجاتی ہے کہ کھیتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ اس صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر چھوٹے اور متوسط کسان ہوتے ہیں، جن کے پاس فصلوں کے نقصان کو برداشت کرنے کے لیے محدود وسائل ہوتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث روایتی زرعی طریقوں پر انحصار بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں جدید ٹیکنالوجی کسانوں کو موسم کی پیش گوئی، آب پاشی، بیجوں کے انتخاب اور فصلوں کی دیکھ بھال کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں موسمیاتی اور زرعی معلومات کا تجزیہ کرکے ان مسائل کے ممکنہ حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
گوگل اس منصوبے کے لیے اپنی مصنوعی ذہانت کی تحقیقی شاخ گوگل ڈیپ مائنڈ اور غیر منافع بخش اقدامات سے متعلق ادارے گوگل ڈاٹ آرگ کی مدد لے رہا ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں قائم آئی سی آر آئی ایس اے ٹی، ہڈسن الفا انسٹی ٹیوٹ فار بایوٹیکنالوجی اور واشنگٹن یونیورسٹی کے شعبہ جینوم سائنسز کے ساتھ بھی تعاون کیا جارہا ہے۔
اس شراکت داری کا مقصد ایسی فصلوں کی ترقی کو تیز کرنا ہے جو کم پانی اور زیادہ درجہ حرارت جیسے ناموافق حالات میں بھی بہتر طور پر نشوونما پاسکیں۔ اس کے لیے فصلوں کی جینیاتی خصوصیات کا مطالعہ اور ان اقسام کی شناخت اہم ہوگی جو موسمیاتی دباؤ برداشت کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہیں۔
گوگل انڈیا کی کنٹری منیجر پریتی لوبانا اور گوگل ڈیپ مائنڈ کی چیف اے آئی ریڈی نیس آفیسر لیلا ابراہیم کے مطابق، یہ کوشش زرعی لچک کے ایک اہم ذریعے کے طور پر جوار پر ہندوستان کی توجہ سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس طرح مقامی تحقیق کو عالمی غذائی تحفظ کے وسیع تر مقصد سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جوار ہندوستان کی ایک اہم غذائی فصل ہے، جو نسبتاً کم پانی میں بھی اگ سکتی ہے۔ اس کی یہی خصوصیت اسے خشک سالی اور پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں کے لیے مفید بناتی ہے۔ جوار میں توانائی، غذائی ریشہ اور مختلف غذائی اجزا پائے جاتے ہیں، اس لیے یہ متوازن غذا کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔
اس فصل کی اہمیت صرف انسانی خوراک تک محدود نہیں۔ اسے مویشیوں کے چارے اور بعض صنعتی مقاصد، بشمول حیاتیاتی ایندھن کی تیاری کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر سائنسی تحقیق کے ذریعے جوار کی ایسی اقسام تیار کی جاسکیں جو کم پانی میں زیادہ پیداوار دیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کو بہتر طور پر برداشت کریں تو اس سے کسانوں اور غذائی تحفظ دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
گوگل کے منصوبے کا ایک اہم مقصد جوار کی مقامی اقسام کی جینیاتی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے ایک جینیاتی اٹلس تیار کرنا ہے۔ اس سے محققین کو مختلف اقسام کے درمیان فرق جاننے اور مفید خصوصیات کی شناخت کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
فصلوں کی نئی اور بہتر اقسام تیار کرنے کے لیے سائنس دانوں کو ان کی جینیاتی خصوصیات اور مختلف ماحول میں ان کی کارکردگی کا تفصیلی مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں موجود معلومات کا تجزیہ کرکے ان جینیاتی عوامل کی شناخت میں مدد دے سکتی ہے جو خشک سالی برداشت کرنے، بیماریوں کے خلاف مزاحمت یا بہتر پیداوار جیسی خصوصیات سے وابستہ ہوتے ہیں۔
جینیاتی اٹلس کی مدد سے محققین جوار کی مختلف اقسام کی خصوصیات کو منظم انداز میں سمجھ سکیں گے۔ اس سے مستقبل میں فصلوں کی افزائش کے لیے زیادہ مؤثر حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم یہ عمل فوری نتائج دینے والا نہیں۔ نئی اقسام کی تیاری، تجرباتی کاشت اور مختلف علاقوں میں ان کی موزونیت جانچنے کے لیے وقت اور مسلسل تحقیق درکار ہوگی۔
مصنوعی ذہانت کا استعمال موسم کی پیش گوئی، فصلوں کی بیماریوں کی شناخت اور پانی کے بہتر استعمال میں بھی مددگار ہوسکتا ہے۔ اگر ان سہولتوں کو کسانوں کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے تو زرعی نقصانات کم کرنے اور پیداوار بہتر بنانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی مشورے اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گے جب وہ کسانوں کی عملی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ کسانوں کو مقامی زبانوں میں معلومات فراہم کرنا، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی بڑھانا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت دینا ضروری ہے۔
اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ نئی ٹیکنالوجی کے فوائد صرف بڑے کسانوں تک محدود نہ رہ جائیں۔ چھوٹے کسانوں کے لیے کم خرچ اور آسانی سے دستیاب سہولتیں فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت کے مشوروں کی درستگی جانچنا اور انہیں مقامی موسمی حالات، زمین اور پانی کی دستیابی کے مطابق بنانا بھی ضروری ہے۔
روایتی زرعی علم کو نظرانداز کرنے کے بجائے اسے جدید تحقیق کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔ مقامی بیجوں اور فصلوں کے تنوع کا تحفظ بھی اہم ہے، کیونکہ یہی تنوع مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قیمتی وسائل فراہم کرسکتا ہے۔
گوگل اور تحقیقی اداروں کی شراکت داری ہندوستان میں زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ جوار جیسی فصلوں پر تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے جینیاتی معلومات کا تجزیہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے نئے امکانات پیدا کرسکتا ہے۔
تاہم اس اقدام کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب تحقیق کے نتائج کسانوں تک پہنچیں، نئی فصلیں مقامی ضروریات کے مطابق ہوں اور ان کے فوائد عام کسانوں کے لیے قابلِ حصول بنائے جائیں۔ مصنوعی ذہانت موسمیاتی تبدیلی کا مکمل حل نہیں، لیکن سائنسی تحقیق، روایتی علم اور پائیدار زرعی پالیسیوں کے ساتھ مل کر یہ ہندوستان کے غذائی تحفظ اور کسانوں کی معاشی بہتری میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
ال نینو اور سمندری حدت: تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو بڑھتا ہوا خطرہ
خصوصی مضمون: ظفراقبال
سمندر زمین کے موسمیاتی نظام کا ایک اہم ستون ہیں۔ یہ نہ صرف عالمی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ بے شمار جانداروں کو پناہ فراہم کرنے، غذائی وسائل مہیا کرنے اور ساحلی آبادیوں کے معاشی استحکام میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ سمندری ماحولیاتی نظام کے اہم ترین اجزا میں مرجان کی چٹانیں شامل ہیں، جنہیں سمندر کے بارانی جنگلات بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چٹانیں اپنی غیر معمولی حیاتیاتی تنوع، قدرتی خوب صورتی اور ماحولیاتی افادیت کے باعث دنیا بھر میں اہمیت رکھتی ہیں۔ تاہم، عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور سمندری پانی کے مسلسل گرم ہونے نے ان کے وجود کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
ہندوستان کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں خلیجِ منار اور پالک بے کے علاقے مرجان کی چٹانوں کے اہم مراکز ہیں۔ یہاں موجود مرجان نہ صرف سمندری حیات کے تحفظ میں معاون ہیں بلکہ ماہی گیروں کی روزی روٹی، ساحلی تحفظ اور مقامی معیشت سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سمندری پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے اور ال نینو جیسے موسمیاتی مظاہر نے ان چٹانوں کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔
سائنس دانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2026-27 میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والا انتہائی شدید ال نینو مرجان کی وسیع پیمانے پر بلیچنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورت حال نے مرجان کے تحفظ، سائنسی نگرانی اور طویل مدتی ماحولیاتی منصوبہ بندی کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مرجان کی چٹانیں سمندر میں پائے جانے والے چھوٹے جانداروں یعنی مرجان کے پولپس کی طویل عرصے میں تشکیل پانے والی ساختیں ہیں۔ یہ جاندار کیلشیم کاربونیٹ پر مشتمل سخت ڈھانچے بناتے ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ وسیع چٹانوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کے اندر اور آس پاس مختلف اقسام کی مچھلیاں، مولسکس، کرسٹیشینز اور دیگر سمندری جاندار رہتے ہیں۔ اس طرح مرجان کی چٹانیں سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے انتہائی اہم مسکن فراہم کرتی ہیں۔
ان چٹانوں کی اہمیت صرف سمندری جانداروں تک محدود نہیں۔ یہ ساحلی علاقوں کو لہروں کی شدت سے بچانے، ساحلی کٹاؤ کم کرنے اور بعض حالات میں طوفانی لہروں کے اثرات محدود کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان سے وابستہ سمندری وسائل مقامی ماہی گیری اور سیاحت کے لیے بھی اہم ہیں۔ چنانچہ مرجان کی چٹانوں کو پہنچنے والا نقصان دراصل ایک پورے ماحولیاتی اور معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔
مرجان کی بلیچنگ اس وقت ہوتی ہے جب سمندری پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھنے کے باعث مرجان اپنے اندر رہنے والی خوردبینی کائی کو کھو دیتے ہیں یا ان کے ساتھ ان کا تعلق متاثر ہو جاتا ہے۔ ان کائی کو زوکسانتھیلی (Zooxanthellae) کہا جاتا ہے۔ یہ مرجان کو خوراک بنانے میں مدد دیتی ہیں اور انہیں ان کے مخصوص رنگ بھی فراہم کرتی ہیں۔ جب مرجان شدید حرارتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو وہ ان کائی کو خارج کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کا رنگ مدھم یا سفید پڑ جاتا ہے۔ اسی کیفیت کو بلیچنگ کہا جاتا ہے۔بلیچنگ کا مطلب لازماً مرجان کی موت نہیں ہوتا۔ اگر درجہ حرارت بروقت معمول پر آ جائے اور حرارتی دباؤ زیادہ دیر برقرار نہ رہے تو مرجان صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر پانی طویل عرصے تک گرم رہے تو مرجان کو خوراک کی کمی، بیماریوں اور دیگر ماحولیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ال نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی حصوں میں سمندر کی سطح کے پانی کے غیر معمولی طور پر گرم ہونے سے وابستہ ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے۔ یہ دنیا کے مختلف خطوں میں بارش، خشک سالی، درجہ حرارت اور ہواؤں کے معمولات کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے اثرات ہر خطے میں یکساں نہیں ہوتے، تاہم بعض حالات میں یہ پہلے سے جاری عالمی حدت کے اثرات کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔عالمی حدت کے باعث سمندر پہلے ہی اضافی حرارت جذب کر رہے ہیں۔ جب ال نینو کی کیفیت اس صورت حال کے ساتھ ملتی ہے تو بعض سمندری علاقوں میں پانی کا درجہ حرارت مرجان کی برداشت کی حد سے تجاوز کر سکتا ہے۔ نتیجتاً بلیچنگ کے وسیع واقعات رونما ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
موسمیاتی ماہرین نے 2026-27 کے دوران شدید ال نینو کے ممکنہ خطرے کی جانب توجہ دلائی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے کلائمیٹ پریڈکشن سینٹر نے اس عرصے میں انتہائی شدید ال نینو واقعے کے امکان کو 90 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ تاہم، کسی موسمیاتی پیش گوئی کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے، ال نینو کی شدت، دورانیے اور علاقائی اثرات کے بارے میں مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ اس کے باوجود ممکنہ خطرے کے پیش نظر مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔
تمل ناڈو میں خلیجِ منار اور پالک بے مرجان کی چٹانوں کے اہم علاقے ہیں۔ خلیجِ منار اپنی سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے مشہور ہے، جبکہ پالک بے بھی مرجان اور دیگر سمندری جانداروں کے لیے اہم مسکن فراہم کرتی ہے۔ ان علاقوں کی چٹانیں سمندری ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے ساتھ مقامی ماہی گیروں کی معاشی سرگرمیوں میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔تاریخی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو 1998، 2010، 2016 اور 2024 کے ال نینو سے وابستہ برسوں میں شدید بلیچنگ اور مرجان کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید یہ کہ 2005 سے گرمیوں کے دوران پانی کا درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے پر ہر سال بلیچنگ کے واقعات دیکھے گئے ہیں۔ تاہم، درجہ حرارت کم ہونے کے بعد بعض چٹانیں دوبارہ صحت یاب بھی ہوئی ہیں۔یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ مرجان کی بقا کے لیے صرف درجہ حرارت میں اضافے کا جاننا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ پانی کتنی دیر تک گرم رہتا ہے اور مرجان کو بحالی کے لیے کتنا وقت ملتا ہے۔ مختصر دورانیے کی حدت کے مقابلے میں طویل عرصے تک بلند درجہ حرارت زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
تمل ناڈو کے محکمہ جنگلات اور سگنتھی دیواداسن میرین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی ایم آر آئی) کے تعاون سے خلیجِ منار میرین نیشنل پارک کے تحت مرجان کی چٹانوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس سال 7 سے 12 مئی کے درمیان کیے گئے مشترکہ زیرِ آب سروے میں خلیجِ منار کے 12 جزیروں اور شمالی پالک بے کے مرجانی علاقوں کا جائزہ لیا گیا۔سروے کے دوران سمندری پانی کا درجہ حرارت 31.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو مرجان کی بلیچنگ کے لیے تشویش ناک حد ہے۔ تاہم، جون میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے آنے کے باعث بلیچنگ کی شدت محدود رہی اور اس کے نتیجے میں مرجان کی ہلاکت ریکارڈ نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق، خلیجِ منار میں بلیچنگ کا اوسط دائرہ 3.69 فیصد تھا، جبکہ پالک بے میں یہ شرح 13.9 فیصد رہی۔ پالک بے میں 10.8 فیصد مرجانی حصہ مکمل اور 3.1 فیصد جزوی بلیچنگ سے متاثر ہوا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں علاقوں میں بلیچنگ کی شدت مختلف رہی اور پالک بے میں صورت حال نسبتاً زیادہ تشویش ناک تھی۔ستمبر اور اکتوبر کے دوران غیر معمولی طور پر بلند درجہ حرارت نے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ اس مدت میں بلیچنگ کی اطلاع نہیں ملی، لیکن درجہ حرارت کی روزانہ نگرانی جاری ہے۔ یہ نگرانی اس لیے اہم ہے کہ بلیچنگ کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے بھی پانی کا مسلسل گرم رہنا مرجان پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے بروقت اور قابلِ اعتماد سائنسی معلومات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ خلیجِ منار میرین بایوسفیئر ریزرو کے وائلڈ لائف وارڈن اکھل تامبی کے مطابق تمل ناڈو کو طویل مدتی بنیادی معلومات اور نگرانی کے پہلے سے موجود نظام کا فائدہ حاصل ہے۔ اس نظام کی مدد سے بڑے پیمانے پر نقصان ہونے سے پہلے غیر معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔اسی طرح ایس ڈی ایم آر آئی کے ڈائریکٹر ایڈورڈ جے کے پیٹرسن نے نشاندہی کی ہے کہ نگرانی کے ذریعے قلیل مدتی حرارتی دباؤ اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی بلیچنگ کے درمیان فرق سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے محکمہ جنگلات کو مناسب وقت پر اقدامات کرنے کا موقع ملتا ہے۔نگرانی کے مؤثر نظام میں سمندری درجہ حرارت کی باقاعدہ پیمائش، مرجان کی صحت کا جائزہ، بلیچنگ کے پھیلاؤ کی نقشہ بندی اور متاثرہ علاقوں کی مسلسل جانچ شامل ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ مختلف اوقات میں حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تقابل بھی ضروری ہے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مرجان کن حالات میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور کون سے علاقے نسبتاً زیادہ حساس ہیں۔
مرجان کی چٹانوں کو پہنچنے والا نقصان صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی زندگی اور معاشی سرگرمیوں سے بھی براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ ان چٹانوں پر انحصار کرنے والی متعدد سمندری انواع کو خوراک، پناہ اور افزائش کے لیے موزوں ماحول ملتا ہے۔ اگر مرجان بڑے پیمانے پر تباہ ہو جائیں تو ان سے وابستہ جانداروں کی تعداد متاثر ہو سکتی ہے۔اس کے نتیجے میں مقامی ماہی گیروں کو مچھلیوں کی دستیابی میں کمی، ماہی گیری کے اخراجات میں اضافے اور آمدنی میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مرجان کی چٹانوں سے وابستہ سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مقامی کاروبار اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کا خدشہ ہے۔مزید برآں، مرجان کی چٹانیں ساحلی علاقوں کو لہروں کی توانائی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کی خرابی بعض مقامات پر ساحلی کٹاؤ اور طوفانی لہروں کے اثرات کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے مرجان کا تحفظ ماحولیاتی پالیسی کے ساتھ ساتھ ساحلی آبادیوں کے معاشی اور سماجی تحفظ کا بھی اہم جزو ہونا چاہیے۔
تمل ناڈو کا محکمہ جنگلات مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے طویل مدتی انتظامی منصوبہ تیار کر رہا ہے۔ ریاست کے چیف وائلڈ لائف وارڈن راکیش کمار ڈوگرا کے مطابق، ماضی میں بلیچنگ کے واقعات اور آب و ہوا سے متعلق دیگر خلل کے تجربات کو خلیجِ منار میرین نیشنل پارک اور بایوسفیئر ریزرو کے آئندہ دس سالہ انتظامی منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔یہ ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، کیونکہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے محض ہنگامی اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ ضروری ہے کہ واقعے سے پہلے اس کے دوران اور بعد میں اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی واضح ہو۔ اس میں ابتدائی انتباہ، متاثرہ علاقوں کی فوری جانچ، نقصان کی سائنسی تشخیص اور بحالی کے اقدامات شامل ہونے چاہئیں۔اس کے ساتھ مرجان کی چٹانوں پر انسانی دباؤ کم کرنا بھی ضروری ہے۔ غیر پائیدار ماہی گیری، سمندری آلودگی، پلاسٹک کے فضلے، ساحلی ترقی اور دیگر مقامی عوامل مرجان کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ان مسائل کا خاتمہ عالمی حدت کو فوری طور پر نہیں روک سکتا، لیکن ان میں کمی مرجان کی قدرتی بحالی کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
تحفظ کی کوششوں میں مقامی ماہی گیروں، سائنس دانوں، تعلیمی اداروں اور سرکاری محکموں کی شمولیت بھی اہم ہے۔ مقامی آبادی کو مرجان کی اہمیت، بلیچنگ کی علامات اور سمندری ماحول کے تحفظ کے طریقوں سے آگاہ کر کے نگرانی اور تحفظ کے نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں پر بڑھتا ہوا خطرہ اس وسیع تر ماحولیاتی بحران کی علامت ہے جس میں عالمی حدت، سمندری درجہ حرارت میں اضافہ اور قدرتی موسمیاتی مظاہر ایک دوسرے کے اثرات کو بڑھا سکتے ہیں۔ ممکنہ شدید ال نینو کے پیش نظر خلیجِ منار اور پالک بے کی چٹانوں کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ماضی کے تجربات، حالیہ سروے کے نتائج اور سائنس دانوں کی تنبیہات واضح کرتی ہیں کہ بروقت اقدامات سے نقصان کی شدت کم کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ اس مقصد کے لیے مسلسل سائنسی نگرانی، مؤثر انتظامی منصوبہ بندی، مقامی آلودگی میں کمی، پائیدار ماہی گیری اور ساحلی آبادیوں کی شمولیت کو ترجیح دینا ہوگی۔
مرجان کی چٹانوں کا تحفظ دراصل سمندری حیاتیاتی تنوع، غذائی وسائل، ساحلی سلامتی اور انسانی روزگار کے تحفظ کی مشترکہ کوشش ہے۔ اگر تمل ناڈو میں پیشگی اقدامات کو سنجیدگی سے نافذ کیا جائے تو ممکنہ موسمیاتی بحران کے اثرات کم کرنے اور ان قیمتی قدرتی وسائل کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، طویل مدتی کامیابی کے لیے مقامی سطح کے تحفظ کے ساتھ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی بھی ناگزیر ہے، کیونکہ سمندروں کی بڑھتی ہوئی حدت کا بنیادی حل موسمیاتی تبدیلی کی رفتار کو کم کرنے میں پوشیدہ ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
کیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، جیسے جیسے برکس سربراہ اجلاس قریب آ رہا ہے، دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹ کے کھلاڑیوں سے لے کر طاقتور مرکزی بینکوں کے سربراہوں تک سبھی کی نظریں ان ابھرتی ہوئی معیشتوں کے رہنماؤں کی میٹنگ میں سامنے آنے والے کسی بھی ایسے اقدام پر ہوں گی جن سے عالمی تجارت اور مالی لین دین میں امریکی ڈالر کی برتری کو خطرہ لاحق ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ڈی ڈالرائزیشن کا عمل اپنی سست رفتاری کے باوجود اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے برکس ممالک کے گروہ کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے عالمی تجارت میں ڈالر کی برتری کو ختم کرنے کی کوشش کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔ ماسکو، نئی دہلی یا بیجنگ کے رقم اور تجارتی منڈیوں کا انتظام سنبھالنے والے تمام متعلقہ وزراء اور حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ برکس ممالک میں سے کوئی بھی ڈالر کے خلاف کسی قسم کی نظریاتی جنگ نہیں لڑ رہا ہے۔ تاہم، جغرافیائی اورسیاسی خطرات سے تجارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی پالیسیوں کا عملی اثر یقیناً اس مالیاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بین الاقوامی نظام کی بنیاد رہا ہے۔
اگرچہ رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں ڈی ڈالرائزیشن پر واضح طور پر گفتگو نہ ہو، لیکن کانفرنس کے حاشیے پر ملک بہ ملک مذاکرات میں کرنسی کی منتقلی اور تجارتی نظام کے چھائے رہنے کا قوی امکان ہے۔ اصل رکن ممالک – ہندوستان، روس، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ – کے رہنماؤں کی اپنے درمیان اور حال ہی میں برکس میں شامل ہونے والے متعدد دیگر ممالک جیسے ایران، سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور ایتھوپیا کے رہنماؤں کے ساتھ کئی اہم دوطرفہ بات چیت کی توقع ہے۔
برکس کے اندرونی ارکان کے درمیان تجارتی حجم 2024 میں 1.17 کھرب امریکی ڈالر رہنے کا تخمینہ تھا اور اس میں 13 فیصد کے سالانہ اوسط سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کل برآمدات کے لحاظ سے دنیا میں برکس کا حصہ 24 فیصد ہے۔ قومیت کی بنیاد پر قومی کرنسیوں میں ادائیگیوں کو طے کرنے کے لیے برکس ممالک کی مختلف کوششیں، جیسے ہندوستان اور روس کے درمیان روپیہ-روبل معاہدہ، یا چین کی جانب سے ڈالر کے بجائے یوآن میں خرید و فروخت کی کوششیں، اب تک بین الاقوامی تجارتی لین دین میں کسی بڑے ڈی ڈالرائزیشن کو تیز کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ 2026 تک، عالمی سطح پر تجارت کی انوائسنگ اور تصفیے کا تقریباً 54 فیصد حصہ ڈالر میں ہی ہوتا ہے اور یہ صورتحال کئی سال سے برقرار ہے۔ درحقیقت یہ سال 2000 کے تقریباً 50 فیصد سے بڑھ کر یہاں تک پہنچا ہے۔
تاہم، تجارتی انوائسنگ اور تصفیے مستحکم رہنے کے باوجود غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کے حصے میں تدریجی لیکن یقینی کمی واقع ہو رہی ہے۔ سال 2000 میں تمام ممالک کے کل غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کا تقریباً 71 فیصد حصہ ڈالر کی شکل میں تھا۔ 2026 تک یہ کم ہو کر تقریباً 57 فیصد پر آ گیا ہے، جو ایک صدی کے چوتھائی حصے میں 14 فیصد کی کمی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی بنانے والی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، “یہ واضح طور پر اس بات کی علامت ہے کہ متعدد ممالک کے مرکزی بینکرز ڈالر کا بڑا ذخیرہ رکھنے میں جیو پولیٹیکل خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور دیگر کرنسیوں یا محفوظ ترین راستے یعنی سونے کی خریداری کے ذریعے اس خطرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔”
عدم اعتماد کا یہ سلسلہ اب خود امریکہ میں مرکزی بینکوں کے ذریعے سونے کا بلین رکھنے تک پھیل چکا ہے۔ ڈچ سینٹرل بینک نے اس سال مارچ اور اگست کے درمیان شمالی امریکہ سے لندن میں 10 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کا تقریباً 86 ٹن سونا منتقل کیا۔ اس سے قبل، جنوری 2026 میں فرانس نے امریکہ میں موجود اپنے 129 ٹن سونے کو فروخت کر دیا، جو کہ اس کے ذخائر کا تقریباً 5 فیصد تھا۔ اس فروخت سے ملنے والی رقم سے فرانس نے یورپ میں بلین خریدا اور اسے اپنے مرکزی بینک کے والٹس میں محفوظ کر لیا۔ یہ عمل صدارت کے پہلے دور میں اٹھائے گئے اس قدم کی عکاسی کرتا ہے جب جرمنی کے بنڈس بینک نے 300 ٹن سونا فرینکفرٹ میں واقع اپنے والٹس میں منتقل کر دیا تھا.
منگل کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے موجودہ صورتحال کا خلاصہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ برکس کسی ڈی ڈالرائزیشن کی پالیسی کے حق میں نہیں ہے، لیکن اس کے رکن ممالک—جن میں سے کئی پابندیوں کی وجہ سے ڈالر میں لین دین نہیں کر سکتے—”صرف وہی کر رہے ہیں جو ہمارے قومی مفادات کے عین مطابق ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ “امریکی اقدامات نے ہی ڈالر پر اعتماد کو مجروح کیا ہے”۔ پیسکوف نے اشارہ کیا کہ پابندیوں کی وجہ سے مغربی مالیاتی منڈیوں سے تیزی سے الگ تھلگ کیے جانے کے مسئلے پر روس کا جواب متبادل ادائیگی کے ذرائع تیار کرنا رہا ہے۔
ہندوستان کے نقطہ نظر سے، یہ مسئلہ خاص طور پر پیچیدہ ہے کیونکہ نئی دہلی ایک طرف روسی خام تیل کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے تو دوسری طرف وہ مغربی منڈیوں، ٹیکنالوجی اور سرمائے تک اپنی رسائی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہیں سے برکس زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس گروپ کے پاس کوئی ایک مشترکہ کرنسی، مرکزی بینک یا یورو زون جیسا ادارہ جاتی اتحاد نہیں ہے، لیکن یہ اپنے ارکان کو قومی کرنسیوں میں تجارت طے کرنے اور قومی کرنسیوں میں طے شدہ کرنسی تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تدریجی تبدیلیاں قومی کرنسیوں کو دوطرفہ اور کچھ کثیر جہتی تجارتی تصفیوں میں زیادہ قابل استعمال بناتی ہیں، اور اس کے ساتھ ادائیگی کا نظام زیادہ متنوع ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ لین دین موجودہ مغربی کنٹرول والے مالیاتی تصفیے کے ڈھانچے کے دائرہ کار سے باہر ہوتا ہے، واشنگٹن کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔
جینت رائے چودھری
یواین آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoویشالی میں کشتی الٹنے سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 2-2 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا
