تازہ ترین
ا کثریت ملی تو پی ایس اے کا نام و نشان مٹادوں گا: عمر عبداللہ
خبراردو:
سابق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر نیشنل کانفرنس اسمبلی انتخابات میں مضبوط عوامی منڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آتی ہے تو وہ ریاست سے بدنام زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو منسوخ کرے گی۔ عمر عبداللہ کے مطابق ریاست میں بہت سارے مسائل پیدا ہوئے ہیں جن کا ازالہ صرف سنگل پارٹی سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہے لہٰذا ہم اُمید کرتے ہیں کہ عوامی اپنا مضبوط منڈیٹ اس بار ہمیں فراہم کرے گی اور یوں ہم لوگوں کو درپیش مشکلات کو دور کریں گے۔
جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر اُن کی پارٹی آنے والے اسمبلی انتخابات میں مضبوط عوامی منڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آتی ہے تو وہ فوراً سے پیشتر ریاست جموں وکشمیر سے بدنام زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کوختم کرے گی۔ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اکثریت ملنے کی صورت میں پبلک سیفٹی ایکٹ کو ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر لوگ ہمیں مضبوط منڈیٹ دیں گے تو ہم جموں و کشمیر سے ان قانون کا نام و نشان مٹادیں گے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’ہم یہاں افسپا کا قانون مرکز سے بات کئے بنا نہیں اُٹھا سکے، لیکن جو اپنے قانون ہیں، اُن کو ہم کیوں نہیں اُٹھا سکتے، میں نے طے کیا ہے اورمیں آپ کو یقین دلاتا ہوں جس دن نیشنل کانفرنس کی اپنی حکومت بنی ،انشاء اللہ کچھ ہی دنوں کے اندر اندر پبلک سیفٹی ایکٹ کو قانون کے دائرے سے باہر نکال دوں گا۔
ہمارے نوجوان پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار نہیں ہونگے اور والدین بھی پریشان نہیں ہونگے۔‘‘ہل میں ہی حل کا اعلان کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ حکومت عوام کو راحت پہنچانے کیلئے ہوتی ہے لیکن اس کے لئے ہمیں اپنے بل پر حکومت چاہئے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب اور دیگر تمام مشکلات کے باوجود ہم نے 2014میں پی ڈی پی اور بھاجپا کو جو ریاست سونپی، یہ لوگ کم از کم اُسی پوزیشن کو سنبھال کے رکھتے تو بہت بڑی بات ہوتی لیکن پتہ نہیں ان لوگوں نے ہمیں کتنے سال پیچھے دھکیل دیا۔پی ڈی پی کی مخلوط حکومت کے دوران سب سے زیادہ خمیازہ جنوبی کشمیر کو اُٹھانا پڑا، یہاں کوئی گھر نہیں ہے جہاں ماتم نہ ہو،یہاں کے نوجوانوں کیساتھ سب سے زیادہ استحصال ہوا، سب سے زیادہ ٹیئر گیس، پیلٹ گن اور گولیاں چلیں، سب سے زیادہ لوگ مارے گئے، سب سے زیادہ نوجوان بندوق کی طرف مائل ہوئے۔ کوئی دن ایسا نہیں جب ذرائع ابلاغ میں کہیں نہ کہیں کریک ڈاؤن،کسی نہ کسی کے مرنے کی خبر، کسی نہ کسی کے زخمی ہونے کی خبر، کسی نہ کسی نوجوان کے ملی ٹنسی جوائن کرنے کی خبر دیکھنے ، سننے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔
عمر عبداللہ نے پارٹی لیڈران اور کارکنان سے وعدہ کیا کہ اگر این سی مضبوط عوامی منڈیٹ کے ساتھ حکومت میں آتی ہے تو وہ ریاست جموں وکشمیر سے متنازعہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو ختم کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ ’’میں پارٹی لیڈران اور کارکنان کو اور آپ کے ذریعے سے عوام کو اس بات کی یقین دہانی کراتا ہوں کہ جس دن نیشنل کانفرنس اپنے بل بوتے پر حکومت قائم کرے گی، میں فوراً سے پیشتر ریاست سے پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے بدنام زمانہ قانون کو منسوخ کروں گا۔میں اپنے کارکنان کے سامنے وعدہ بند ہوں کہ میں اس (پی ایس اے) قانون کو کاغذات سے مکمل طور پر ختم کردوں گا‘‘۔اس موقعے پر پارٹی لیڈران اور کارکنان کی طرف سے این سی لیڈر کے مؤقف کو سراہا گیا اور پورا ہال تالیوں کی گونج سے جھوم اُٹھا۔سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ریاست جموں وکشمیر نے آج تک مخلوط اتحاد کی شکل میں کئی کمزور حکومتوں کا مشاہدہ کیا جہاں پر ہمیں ایک دوسرے کے نظر و کرم پر گزارا کرنا پرا۔
ماضی قریب میں ریاست میں تشکیل پاچکی مخلوط حکومت سازی پر بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر نے آج تک مخلوط سیاسی نظام کی شکل میں کئی حکومتوں کا مشاہدہ کیا جہاں پر ایک سیاسی جماعت کو دوسری سیاسی پارٹی کے تابع رہ کر کام کرنا پڑا۔مرحوم مفتی محمد سعید جب ریاست کے وزیراعلیٰ تھے تو انہیں غلام نبی آزاد کے تابع رہ کر کام کرنا پڑااور جب غلام نبی آزاد وزیرا علیٰ تھے وہ مرحوم مفتی محمد سعید کی تابعداری انجام دیتے تھے، حتیٰ کہ میں (عمر عبداللہ) خود بھی کانگریس کی سیاسی مدد سے ریاست جموں وکشمیرکا چھ برس تک وزیرا علیٰ رہا۔عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ لوگ فخر کیساتھ کہتے تھے ہم نے 200ملی ٹنٹ مارے، ہم نے 250ملی ٹنٹ مارے۔ ارے کس کو مارا؟ یہ تو ہمارے اپنے ہی مارے جارہے ہیں، جو نوجوان کل تک ہمارے پاس نوکری کیلئے درخواست لاتا تھا اُسی کو تو تم نے اس طرف (بندوق) دھکیلا۔‘‘انہوں نے کہاکہ الیکشن کا بگل بجتے ہی مگر مچھ کے آنسو پھر شروع ہوگئے۔’’ حکومت میں رہ کر محبوبہ مفتی کہتی تھی کہ جو نوجوان مارے گئے وہ پولیس تھانوں پر حملے کررہے تھے وہ دو دھ اور ٹافی لانے نہیں گئے تھے، بحیثیت وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا سی آر پی ایف اور فوج کی بندوق دکھانے کیلئے نہیں ہوتیں یہ استعمال کرنے کیلئے ہوتی ہیں اور آج یہی محبوبہ مفتی مارے گئے ملی ٹنٹوں کے گھر جاکر مگر مچھ کے آنسو بہانے جاتی ہیں۔ اگر موصوفہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر رونے جاتی، تو میں مانتا محبوبہ مفتی دلیر لیڈر ہے ، اگر محبوبہ مفتی بھاجپا کیساتھ اتحاد کے دوران کسی ملی ٹنٹ کے گھر جاکر تو میں مانتا کہ وہ دلیر ہے۔‘‘کشمیرنیوز سروس کے مطابق عمر عبداللہ نے کہا کہ اُس وقت محبوبہ مفتی کہتی تھی کہ کشمیر کو بچانے والا صرف اور صرف مودی ہے، میں نے مودی جی سے جو مانگا وہ بھی ملا اور جو نہیں مانگا وہ بھی مل گیا۔لیکن اُس کے بعد یہاں صرف بندوقیں زیادہ آئیں، فورسز زیادہ آئے، تباہی زیادہ ہوئی، لوگ زیادہ پریشان ہوئے، لوگوں کو تکلیفیں پہنچیں۔ شائد محبوبہ مفتی نے یہی کچھ مانگا ہوگا؟این سی نائب صدر نے کہا کہ ’’این آئی اے کی گرفتاریاں محبوبہ مفتی کے دورِ حکومت میں ہوئی اور ان گرفتاریوں میں موصوفہ کی حکومت نے معاونت کی اور آج گرفتار کئے گئے افراد کو چھوڑنے کا رونا روتی ہو۔ہم نے جہاں ایک منزل کا بنکر توڑا، ان لوگوں نے دو منزلہ بنکر بنائے، ہم نے جہاں 100لوگوں کا کیمپ اُٹھایا ان لوگوں نے وہاں 500لوگوں کا کیمپ قائم کروایا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’جب تک انسان کی نیت صاف نہیں ہوتی، تب وہ اپنے اداروں میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا، ہم نے 2008میں اپنے گھر، اپنے رشتے دار اور اپنی تنظیم بچانے کیلئے حکومت نہیں سنبھالی،ارادہ تھا ریاست کی خدمت کریں، بہتری لانے کوشش کریں، بڑے بڑے سیاسی مسئلہ سے لیکر چھوٹے سے چھوٹا گولی کوچے کا مسئلہ حل کرنے کی نیت تھی، 6سال حکومت کی اور جتنا ہوسکتا کام کیا، جو کرنا تھا اُس کا 100فیصدی نہیں کرپائے لیکن ایسا کوئی علاقہ ایسا نہیں رہا جہاں ہم نے بہتری کا کام نہیں کیا۔ ہم نوجوانوں کو بھر پور روزگار نہیں دے سکے لیکن ہم نے انہیں ملی ٹنسی کی طرف بھی نہیں دھکیلا۔ کیونکہ ہماری نیت صاف تھی۔اس کے برعکس پچھلے 4سال کا حال دیکھئے، سارا آپ کے سامنے ہے، جن نوجوانوں کو ہمیں نے روزگار کے آرڈر تھمانے تھے ، اُن نوجوان کو بندوق اُٹھانے پر مجبور کیاگیا۔ جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق نہیں آئی اُن نوجوانوں نے پتھر اُٹھائے۔ کیونکہ حالات نے اُن کو مجبور کیا۔پی ڈی پی بھاجپا حکومت کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جہاں پر ہم مسئلے کی بات کرتے تھے، وہاں ان لوگوں نے ہمارے مسائل اور زیادہ بڑھادیئے، جہاں ہم نے بات چیت کیلئے دروازے کھول دیئے، ان لوگوں نے دروازے کیا کھڑکیاں بھی بند کردیں۔کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی۔ ہم نے کم از کم حالات میں اس حد تک سدھارے تھے کہ ہم مرکز سے افسپا اُٹھانے کی بات کر پاتے تھے، آج تو ان لوگوں نے بات کرنے کے قابل بھی نہیں رکھا۔کیوں؟ کیونکہ ان کی نیت صاف نہیں تھی، ان کے ارادے صحیح نہیں تھے۔ محبوبہ مفتی نے خود تسلیم کیا انہوں نے جموں وکشمیر کی بقاء کیلئے نہیں، نوجوانوں کے روزگار کیلئے نہیں، پاور پروجیکٹوں یا تعمیر و ترقی کیلئے نہیں بلکہ اپنی جماعت کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے کیا۔وہ الگ بات ہے آج اُن کی جماعت کاکیا ہے، محبوبہ مفتی نے تو 3سال جماعت کو ٹوٹنے سے بچایا لیکن ریاست کی تباہ کردیا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی والے کہتے تھے پاور پروجیکٹ واپس لائیں گے، اُلٹا جو ہمارے پاس پاور پروجیکٹ تھے وہ بھی اُن کے حوالے کردیئے۔آج سوشل میڈیا پر وہ خطوط وائرل ہیں جن پر مرکزی وزیر بجلی نے محبوبہ مفتی کو ریٹلے پروجیکٹ مرکز کو سونپنے کیلئے لکھے تھے، اگر محبوبہ مفتی نے اُس وقت انکار کیا ہوتا تو آج فائل گورنر صاحب کے ٹیبل پر نہیں ہوتی۔عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ سابق مخلوط حکومتوں کی غلط پالیسیوں سے ریاست میں بہت سارے مسائل نے جنم لیا جنہیں عوامی مفاد کے پیش نظر دور کرنے کی انتہائی ضرورت ہے تاہم اس کے لیے صرف ایک پارٹی کا حکومت سازی میں آنا ضروری ہے۔ عمر عبداللہ کے مطابق ریاست میں بہت سارے مسائل پیدا ہوئے ہیں جن کا ازالہ صرف سنگل پارٹی سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہے لہٰذا ہم اُمید کرتے ہیں کہ عوامی اپنا مضبوط منڈیٹ اس بار ہمیں فراہم کرے گی اور یوں ہم لوگوں کو درپیش مشکلات کو دور کریں گے۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ریاست جموں وکشمیر سے آرمڈ فورسز اسپیشل پاؤرز ایکٹ کو ختم کرنا ہے تو اس کے لیے مرکزی سرکار کے ساتھ بات چیت لازمی ہے۔مرکزی سرکار کے ساتھ افسپا سے متعلق بات چیت ناگزیر ہے کیوں کہ یہ قانون مرکزی سرکار کے دائرہ اختیار میں آتا ہے لہٰذااُن کے بغیر اس قانون کو ریاست سے دفع نہیں کیا جاسکتا۔اگر نیشنل کانفرنس اقتدار میں آگئی تو ہم اولین فرصت میں اس قانون کو منسوخ کرنے کے حوالے سے مرکزی سرکار کے ساتھ بات چیت کریں گے۔
عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ افسپا کے علاوہ اور کئی ایسے قوانین یہاں نافذ ہیں جن کو منسوخ کرانا ریاستی سرکار کے دائرہ اختیار میں آتا ہے لہٰذا ایسے قوانین کو ہم ختم کیوں نہیں کرسکتے؟کشمیری نوجوانوں کی طرف اپنی بات کا رخ موڑتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے کیوں کہ ایسے میں اُن کے والدین اور رشتہ دار در در کی ٹھوکریں کھا نے پر مجبور ہوجاتے ہیں
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
