تازہ ترین
ا کثریت ملی تو پی ایس اے کا نام و نشان مٹادوں گا: عمر عبداللہ
خبراردو:
سابق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر نیشنل کانفرنس اسمبلی انتخابات میں مضبوط عوامی منڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آتی ہے تو وہ ریاست سے بدنام زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو منسوخ کرے گی۔ عمر عبداللہ کے مطابق ریاست میں بہت سارے مسائل پیدا ہوئے ہیں جن کا ازالہ صرف سنگل پارٹی سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہے لہٰذا ہم اُمید کرتے ہیں کہ عوامی اپنا مضبوط منڈیٹ اس بار ہمیں فراہم کرے گی اور یوں ہم لوگوں کو درپیش مشکلات کو دور کریں گے۔
جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر اُن کی پارٹی آنے والے اسمبلی انتخابات میں مضبوط عوامی منڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آتی ہے تو وہ فوراً سے پیشتر ریاست جموں وکشمیر سے بدنام زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کوختم کرے گی۔ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اکثریت ملنے کی صورت میں پبلک سیفٹی ایکٹ کو ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر لوگ ہمیں مضبوط منڈیٹ دیں گے تو ہم جموں و کشمیر سے ان قانون کا نام و نشان مٹادیں گے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’ہم یہاں افسپا کا قانون مرکز سے بات کئے بنا نہیں اُٹھا سکے، لیکن جو اپنے قانون ہیں، اُن کو ہم کیوں نہیں اُٹھا سکتے، میں نے طے کیا ہے اورمیں آپ کو یقین دلاتا ہوں جس دن نیشنل کانفرنس کی اپنی حکومت بنی ،انشاء اللہ کچھ ہی دنوں کے اندر اندر پبلک سیفٹی ایکٹ کو قانون کے دائرے سے باہر نکال دوں گا۔
ہمارے نوجوان پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار نہیں ہونگے اور والدین بھی پریشان نہیں ہونگے۔‘‘ہل میں ہی حل کا اعلان کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ حکومت عوام کو راحت پہنچانے کیلئے ہوتی ہے لیکن اس کے لئے ہمیں اپنے بل پر حکومت چاہئے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب اور دیگر تمام مشکلات کے باوجود ہم نے 2014میں پی ڈی پی اور بھاجپا کو جو ریاست سونپی، یہ لوگ کم از کم اُسی پوزیشن کو سنبھال کے رکھتے تو بہت بڑی بات ہوتی لیکن پتہ نہیں ان لوگوں نے ہمیں کتنے سال پیچھے دھکیل دیا۔پی ڈی پی کی مخلوط حکومت کے دوران سب سے زیادہ خمیازہ جنوبی کشمیر کو اُٹھانا پڑا، یہاں کوئی گھر نہیں ہے جہاں ماتم نہ ہو،یہاں کے نوجوانوں کیساتھ سب سے زیادہ استحصال ہوا، سب سے زیادہ ٹیئر گیس، پیلٹ گن اور گولیاں چلیں، سب سے زیادہ لوگ مارے گئے، سب سے زیادہ نوجوان بندوق کی طرف مائل ہوئے۔ کوئی دن ایسا نہیں جب ذرائع ابلاغ میں کہیں نہ کہیں کریک ڈاؤن،کسی نہ کسی کے مرنے کی خبر، کسی نہ کسی کے زخمی ہونے کی خبر، کسی نہ کسی نوجوان کے ملی ٹنسی جوائن کرنے کی خبر دیکھنے ، سننے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔
عمر عبداللہ نے پارٹی لیڈران اور کارکنان سے وعدہ کیا کہ اگر این سی مضبوط عوامی منڈیٹ کے ساتھ حکومت میں آتی ہے تو وہ ریاست جموں وکشمیر سے متنازعہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو ختم کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ ’’میں پارٹی لیڈران اور کارکنان کو اور آپ کے ذریعے سے عوام کو اس بات کی یقین دہانی کراتا ہوں کہ جس دن نیشنل کانفرنس اپنے بل بوتے پر حکومت قائم کرے گی، میں فوراً سے پیشتر ریاست سے پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے بدنام زمانہ قانون کو منسوخ کروں گا۔میں اپنے کارکنان کے سامنے وعدہ بند ہوں کہ میں اس (پی ایس اے) قانون کو کاغذات سے مکمل طور پر ختم کردوں گا‘‘۔اس موقعے پر پارٹی لیڈران اور کارکنان کی طرف سے این سی لیڈر کے مؤقف کو سراہا گیا اور پورا ہال تالیوں کی گونج سے جھوم اُٹھا۔سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ریاست جموں وکشمیر نے آج تک مخلوط اتحاد کی شکل میں کئی کمزور حکومتوں کا مشاہدہ کیا جہاں پر ہمیں ایک دوسرے کے نظر و کرم پر گزارا کرنا پرا۔
ماضی قریب میں ریاست میں تشکیل پاچکی مخلوط حکومت سازی پر بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر نے آج تک مخلوط سیاسی نظام کی شکل میں کئی حکومتوں کا مشاہدہ کیا جہاں پر ایک سیاسی جماعت کو دوسری سیاسی پارٹی کے تابع رہ کر کام کرنا پڑا۔مرحوم مفتی محمد سعید جب ریاست کے وزیراعلیٰ تھے تو انہیں غلام نبی آزاد کے تابع رہ کر کام کرنا پڑااور جب غلام نبی آزاد وزیرا علیٰ تھے وہ مرحوم مفتی محمد سعید کی تابعداری انجام دیتے تھے، حتیٰ کہ میں (عمر عبداللہ) خود بھی کانگریس کی سیاسی مدد سے ریاست جموں وکشمیرکا چھ برس تک وزیرا علیٰ رہا۔عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ لوگ فخر کیساتھ کہتے تھے ہم نے 200ملی ٹنٹ مارے، ہم نے 250ملی ٹنٹ مارے۔ ارے کس کو مارا؟ یہ تو ہمارے اپنے ہی مارے جارہے ہیں، جو نوجوان کل تک ہمارے پاس نوکری کیلئے درخواست لاتا تھا اُسی کو تو تم نے اس طرف (بندوق) دھکیلا۔‘‘انہوں نے کہاکہ الیکشن کا بگل بجتے ہی مگر مچھ کے آنسو پھر شروع ہوگئے۔’’ حکومت میں رہ کر محبوبہ مفتی کہتی تھی کہ جو نوجوان مارے گئے وہ پولیس تھانوں پر حملے کررہے تھے وہ دو دھ اور ٹافی لانے نہیں گئے تھے، بحیثیت وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا سی آر پی ایف اور فوج کی بندوق دکھانے کیلئے نہیں ہوتیں یہ استعمال کرنے کیلئے ہوتی ہیں اور آج یہی محبوبہ مفتی مارے گئے ملی ٹنٹوں کے گھر جاکر مگر مچھ کے آنسو بہانے جاتی ہیں۔ اگر موصوفہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر رونے جاتی، تو میں مانتا محبوبہ مفتی دلیر لیڈر ہے ، اگر محبوبہ مفتی بھاجپا کیساتھ اتحاد کے دوران کسی ملی ٹنٹ کے گھر جاکر تو میں مانتا کہ وہ دلیر ہے۔‘‘کشمیرنیوز سروس کے مطابق عمر عبداللہ نے کہا کہ اُس وقت محبوبہ مفتی کہتی تھی کہ کشمیر کو بچانے والا صرف اور صرف مودی ہے، میں نے مودی جی سے جو مانگا وہ بھی ملا اور جو نہیں مانگا وہ بھی مل گیا۔لیکن اُس کے بعد یہاں صرف بندوقیں زیادہ آئیں، فورسز زیادہ آئے، تباہی زیادہ ہوئی، لوگ زیادہ پریشان ہوئے، لوگوں کو تکلیفیں پہنچیں۔ شائد محبوبہ مفتی نے یہی کچھ مانگا ہوگا؟این سی نائب صدر نے کہا کہ ’’این آئی اے کی گرفتاریاں محبوبہ مفتی کے دورِ حکومت میں ہوئی اور ان گرفتاریوں میں موصوفہ کی حکومت نے معاونت کی اور آج گرفتار کئے گئے افراد کو چھوڑنے کا رونا روتی ہو۔ہم نے جہاں ایک منزل کا بنکر توڑا، ان لوگوں نے دو منزلہ بنکر بنائے، ہم نے جہاں 100لوگوں کا کیمپ اُٹھایا ان لوگوں نے وہاں 500لوگوں کا کیمپ قائم کروایا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’جب تک انسان کی نیت صاف نہیں ہوتی، تب وہ اپنے اداروں میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا، ہم نے 2008میں اپنے گھر، اپنے رشتے دار اور اپنی تنظیم بچانے کیلئے حکومت نہیں سنبھالی،ارادہ تھا ریاست کی خدمت کریں، بہتری لانے کوشش کریں، بڑے بڑے سیاسی مسئلہ سے لیکر چھوٹے سے چھوٹا گولی کوچے کا مسئلہ حل کرنے کی نیت تھی، 6سال حکومت کی اور جتنا ہوسکتا کام کیا، جو کرنا تھا اُس کا 100فیصدی نہیں کرپائے لیکن ایسا کوئی علاقہ ایسا نہیں رہا جہاں ہم نے بہتری کا کام نہیں کیا۔ ہم نوجوانوں کو بھر پور روزگار نہیں دے سکے لیکن ہم نے انہیں ملی ٹنسی کی طرف بھی نہیں دھکیلا۔ کیونکہ ہماری نیت صاف تھی۔اس کے برعکس پچھلے 4سال کا حال دیکھئے، سارا آپ کے سامنے ہے، جن نوجوانوں کو ہمیں نے روزگار کے آرڈر تھمانے تھے ، اُن نوجوان کو بندوق اُٹھانے پر مجبور کیاگیا۔ جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق نہیں آئی اُن نوجوانوں نے پتھر اُٹھائے۔ کیونکہ حالات نے اُن کو مجبور کیا۔پی ڈی پی بھاجپا حکومت کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جہاں پر ہم مسئلے کی بات کرتے تھے، وہاں ان لوگوں نے ہمارے مسائل اور زیادہ بڑھادیئے، جہاں ہم نے بات چیت کیلئے دروازے کھول دیئے، ان لوگوں نے دروازے کیا کھڑکیاں بھی بند کردیں۔کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی۔ ہم نے کم از کم حالات میں اس حد تک سدھارے تھے کہ ہم مرکز سے افسپا اُٹھانے کی بات کر پاتے تھے، آج تو ان لوگوں نے بات کرنے کے قابل بھی نہیں رکھا۔کیوں؟ کیونکہ ان کی نیت صاف نہیں تھی، ان کے ارادے صحیح نہیں تھے۔ محبوبہ مفتی نے خود تسلیم کیا انہوں نے جموں وکشمیر کی بقاء کیلئے نہیں، نوجوانوں کے روزگار کیلئے نہیں، پاور پروجیکٹوں یا تعمیر و ترقی کیلئے نہیں بلکہ اپنی جماعت کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے کیا۔وہ الگ بات ہے آج اُن کی جماعت کاکیا ہے، محبوبہ مفتی نے تو 3سال جماعت کو ٹوٹنے سے بچایا لیکن ریاست کی تباہ کردیا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی والے کہتے تھے پاور پروجیکٹ واپس لائیں گے، اُلٹا جو ہمارے پاس پاور پروجیکٹ تھے وہ بھی اُن کے حوالے کردیئے۔آج سوشل میڈیا پر وہ خطوط وائرل ہیں جن پر مرکزی وزیر بجلی نے محبوبہ مفتی کو ریٹلے پروجیکٹ مرکز کو سونپنے کیلئے لکھے تھے، اگر محبوبہ مفتی نے اُس وقت انکار کیا ہوتا تو آج فائل گورنر صاحب کے ٹیبل پر نہیں ہوتی۔عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ سابق مخلوط حکومتوں کی غلط پالیسیوں سے ریاست میں بہت سارے مسائل نے جنم لیا جنہیں عوامی مفاد کے پیش نظر دور کرنے کی انتہائی ضرورت ہے تاہم اس کے لیے صرف ایک پارٹی کا حکومت سازی میں آنا ضروری ہے۔ عمر عبداللہ کے مطابق ریاست میں بہت سارے مسائل پیدا ہوئے ہیں جن کا ازالہ صرف سنگل پارٹی سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہے لہٰذا ہم اُمید کرتے ہیں کہ عوامی اپنا مضبوط منڈیٹ اس بار ہمیں فراہم کرے گی اور یوں ہم لوگوں کو درپیش مشکلات کو دور کریں گے۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ریاست جموں وکشمیر سے آرمڈ فورسز اسپیشل پاؤرز ایکٹ کو ختم کرنا ہے تو اس کے لیے مرکزی سرکار کے ساتھ بات چیت لازمی ہے۔مرکزی سرکار کے ساتھ افسپا سے متعلق بات چیت ناگزیر ہے کیوں کہ یہ قانون مرکزی سرکار کے دائرہ اختیار میں آتا ہے لہٰذااُن کے بغیر اس قانون کو ریاست سے دفع نہیں کیا جاسکتا۔اگر نیشنل کانفرنس اقتدار میں آگئی تو ہم اولین فرصت میں اس قانون کو منسوخ کرنے کے حوالے سے مرکزی سرکار کے ساتھ بات چیت کریں گے۔
عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ افسپا کے علاوہ اور کئی ایسے قوانین یہاں نافذ ہیں جن کو منسوخ کرانا ریاستی سرکار کے دائرہ اختیار میں آتا ہے لہٰذا ایسے قوانین کو ہم ختم کیوں نہیں کرسکتے؟کشمیری نوجوانوں کی طرف اپنی بات کا رخ موڑتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے کیوں کہ ایسے میں اُن کے والدین اور رشتہ دار در در کی ٹھوکریں کھا نے پر مجبور ہوجاتے ہیں
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
