ہندوستان
کیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے عام آدمی پارٹی (آپ) کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو تاریخ کا سب سے شوقین شخص قرار دیتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ انہوں نے اپنی نئی رہائش گاہ بھی ’شیش محل‘ جیسی بنا لی ہے۔
دہلی حکومت کے سابق رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی لیڈر پرویش صاحب سنگھ نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’عآپ‘ کا مطلب ’عالیشان آدمی پارٹی‘ ہے۔ اس دوران انہوں نے مسٹر کیجریوال کی نئی رہائش گاہ کی تصویر جاری کرتے ہوئے ان کا موازنہ فلم ’دھورندھر‘ کے ’رحمان ڈکیت‘ سے کیا اور کہا کہ انہوں نے اب یہاں دوسرا ’شیش محل‘ بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی انتخاب ہارنے کے بعد مسٹر کیجریوال پنجاب چلے گئے تھے۔ وہاں وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی سرکاری رہائش گاہ کے آس پاس چار گھروں پر مسٹر کیجریوال اور عآپ لیڈروں ستیندر جین، منیش سسودیا اور سنجے سنگھ نے قبضہ کر لیا تھا۔ مسٹر بھگونت مان بھی اس وجہ سے ان سے پریشان تھے۔
قابل ذکر ہے کہ عدالت کے حکم کے بعد مرکزی حکومت نے مسٹر کیجریوال کو دہلی میں 95، لودھی اسٹیٹ میں واقع سرکاری رہائش گاہ الاٹ کی تھی، جس میں وہ جمعہ کو خاندان کے ساتھ منتقل ہو گئے۔ مسٹر سنگھ نے مسٹر کیجریوال کی اس رہائش گاہ کی مرمت پر ہونے والے اخراجات کے تعلق سے ان پر حملہ بولا۔ انہوں نے مسٹر کیجریوال کی اس رہائش گاہ کی تصاویر دکھا کر حیرت کا اظہار کیا اور کہا، “وہاں بھی انہوں نے خوب پیسہ خرچ کیا ہے۔ یہ سرکاری رہائش گاہ ہے، لیکن اس میں سرکاری پیسہ نہیں لگا ہے۔” انہوں نے کہا کہ پہلے ’شیش محل‘ (6، فلیگ اسٹاف روڈ، وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ) پر بھاری اخراجات کے حوالے سے جب سوالات اٹھے تو مسٹر کیجریوال نے دعویٰ کیا تھا کہ سجاوٹ کا فیصلہ پی ڈبلیو ڈی کے چیف انجینئر نے کیا تھا اور انہیں اخراجات کا علم نہیں تھا۔ اب نئی رہائش گاہ کے بارے میں وہ ایسا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ جو لیڈر کبھی عام بنگلہ بھی نہ لینے کی بات کرتے تھے، آج خود ’شیش محل‘ میں رہ رہے ہیں۔ دہلی میں کورونا کی وبا، پانی اور بجلی کی قلت کے وقت بھی مسٹر کیجریوال غائب ہو کر ’شیش محل‘ بنانے میں لگے رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’شیش محل‘ مسٹر کیجریوال کی بدعنوانی کا ثبوت ہے۔ وزیر اعلیٰ کی تنخواہ سے ایسی آلیشان رہائش گاہ نہیں بن سکتی۔ انہیں بتانا چاہیے کہ اس پر شراب گھپلے کا پیسہ لگایا گیا ہے یا نہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ مسٹر کیجریوال کے اندر ’شیش محل‘ بس چکا ہے۔ اس وجہ سے انہیں دہلی اور پنجاب کی عوام کا دکھ دکھائی نہیں دیتا۔ آپ کارکن پوری زندگی محنت کریں، تب بھی رہائش گاہ کو ایسا نہیں بنا سکتے۔ اس دوران انہوں نے سوال کیا کہ مسٹر کیجریوال بتائیں کہ لودھی روڈ والے بنگلے میں کتنا پیسہ لگا ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ پیسہ کہاں سے آیا اور کس کا ہے؟ کیا عآپ کی عیاشی کی وجہ سے آپ کے کارکن آپ کو چھوڑ رہے ہیں؟ بار بار عالیشان شیش محل بنانے کی انہیں کیا ضرورت پڑ رہی ہے؟ پہلے شیش محل میں شراب کا پیسہ لگا تھا، اس بار کس کا پیسہ لگا ہے”
انہوں نے کہا کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسٹر کیجریوال سب سے شوقین شخص ہیں۔ نام عام آدمی پارٹی رکھا، لیکن کام راجہ مہاراجاؤں والا ہے۔ پارٹی کا نام ’ عام عالیشان پارٹی‘ ہونا چاہیے۔ پارٹی سے سات راجیہ سبھا ارکان کے استعفیٰ اور بی جے پی میں شمولیت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ایماندار کارکن اب مسٹر کیجریوال کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
