دنیا
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم کرنے کا اعلان
واشنگٹن/تہران/ابوظہبی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو جلد ختم کرنا چاہتا ہے، تاہم واشنگٹن تہران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسری جانب ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران متعدد نئے محاذ کھول کر جواب دے گا۔ اسی دوران متحدہ عرب امارات نے بھی تصدیق کی ہے کہ براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اطراف گرنے والے مسلح ڈرونز عراقی سرزمین سے آئے تھے۔
وائٹ ہاؤس میں منعقدہ سالانہ ”کانگریس پکنک” تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف ایک بڑے حملے کا فیصلہ آخری لمحے میں روک دیا گیا تھا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کی راہ کھلی رہ سکے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ وہ ایران پر دوبارہ حملے کے حکم سے صرف ”ایک گھنٹہ” دور تھے، مگر بعد میں اس فیصلے کو مؤخر کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے تقریباً 40 روز بعد 8 اپریل سے عارضی جنگ بندی نافذ ہے۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم جوہری پروگرام سمیت کئی معاملات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے مخصوص سخت انداز میں کہا کہ جب کسی ملک کو سخت دباؤ کا سامنا ہوتا ہے تو وہ مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے دوبارہ جنگ کی نوبت نہیں آئے گی، لیکن اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایک اور بڑا حملہ بھی کر سکتا ہے۔
اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے کہا کہ ایران جنگ بندی کے عرصے کو بھی جنگ کا حصہ سمجھتا ہے اور اس دوران اس نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حملے دوبارہ شروع ہوئے تو ایران بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔
ادھر صدر ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے چند دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ جمعہ، ہفتہ، اتوار یا اگلے ہفتے کے آغاز تک ہونا چاہیے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی درخواست پر ایران پر ممکنہ نیا حملہ مؤخر کیا گیا، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی عالمی معیشت پر بوجھ بنتی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایران کے اثر و رسوخ کے باعث عالمی توانائی منڈی متاثر ہوئی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی عوام پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔ دوسری طرف ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس” پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر دھمکیوں کو امن کے مواقع کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
قطر نے اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے لیے مزید وقت درکار قرار دیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحہ میں بریفنگ کے دوران پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی کہ پاکستان کے ذریعے امریکہ کو ایرانی مؤقف پہنچایا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے مذاکرات کے لیے پانچ نکات پیش کیے ہیں جن میں ایران کو صرف ایک ایٹمی تنصیب تک محدود رکھنے، افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنے اور منجمد اثاثوں یا جنگی ہرجانے کے مطالبات سے دستبردار ہونے کا کہا گیا ہے۔ تاہم ایرانی خبر رساں ایجنسی ”تسنیم” کے مطابق مجوزہ مسودے میں ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کی تجویز بھی شامل ہے۔
دریں اثنا متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ 17 مئی 2026 کو براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اطراف بھیجے گئے تین مسلح ڈرونز عراق سے روانہ ہوئے تھے۔ اماراتی حکام کے مطابق یہ نتیجہ تکنیکی نگرانی اور تحقیقات کے بعد اخذ کیا گیا، جبکہ ایک اعلیٰ اہلکار نے اشارہ دیا کہ اس کارروائی میں ایران کے ممکنہ کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی دوران ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی فائبر آپٹک کیبلز کو مستقبل میں ایرانی اجازت نامے کے نظام کے تابع کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ مغربی ایران کے صوبہ کردستان میں عراق کی سرحد کے قریب امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ مسلح گروپوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ ایرانی فورسز کے مطابق شمالی عراق سے داخل ہونے والے گروہ امریکی اسلحہ اور گولہ بارود ایران اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جسے ناکام بنا دیا گیا۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
