دنیا
امریکہ ایران امن معاہدے کی نئی تجاویز پر نیتن یاہو پر گھبراہٹ طاری : ایکسیوس
واشنگٹن، امریکہ ایران امن معاہدے کی نئی تجاویز پر نیتن یاہو پر گھبراہٹ طاری ہو گئی ہے، صدر ٹرمپ سے فون پر گفتگو کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے تین امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے منگل کو ایران کے ساتھ معاہدے کی نئی کوشش پر ایک ایسی ٹیلیفونک گفتگو کی جو سخت بدمزہ رہی، ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو شدید پریشانی کا شکار تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے تند و تیز لہجے میں گفتگو کی تھی، امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے درمیان یہ گفتگو گزشتہ رات ہوئی۔
اسرائیلی و زیرِ اعظم کے دفتر اور وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ذرائع بتا رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرکے اسرائیلی و زیر اعظم آگ بگولا ہو گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق قطر اور پاکستان نے دیگر علاقائی ثالث ممالک کی مشاورت سے ایک نیا امن مسودہ تیار کیا ہے، جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کا حکم دینے یا معاہدہ کرنے کے درمیان تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری طرف نیتن یاہو مذاکرات کے حوالے سے انتہائی شکوک رکھتے ہیں اور جنگ دوبارہ شروع کرکے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور اور اہم تنصیبات تباہ کرکے ایرانی حکومت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ جب کہ ٹرمپ مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کے خیال میں معاہدہ ممکن ہے، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو وہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
امریکہ کی ایران کو 25 ارب ڈالر کے اثاثوں کی واپسی اور 3.67 فی صد یورینیم افزودگی کی پیشکش ٹرمپ نے بدھ کو کوسٹ گارڈ اکیڈمی میں کہا ”صرف سوال یہ ہے کہ کیا ہم جا کر اس معاملے کو مکمل طور پر ختم کریں گے یا وہ کسی دستاویز پر دستخط کریں گے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو ”ایران کے معاملے میں وہی کریں گے جو میں چاہوں گا” تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں کے تعلقات اچھے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران کے معاملے پر پہلے بھی وقتی اختلافات رہے ہیں، لیکن جنگ کے دوران دونوں قریبی رابطے میں رہے۔
ایران نے تصدیق کی ہے کہ وہ تازہ ترین تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اس نے ابھی تک کسی لچک کا واضح اشارہ نہیں دیا۔ تینوں ذرائع کے مطابق پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر گزشتہ کئی دنوں سے مجوزہ مسودے کو بہتر بنانے اور اختلافات کم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ دو عرب حکام اور ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق قطر نے حال ہی میں امریکہ اور ایران کو ایک نیا مسودہ پیش کیا۔ تاہم چوتھے ذریعے نے کہا کہ یہ الگ قطری مسودہ نہیں بلکہ قطر سابق پاکستانی تجویز میں موجود اختلافات ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک عرب عہدیدار نے بتایا کہ قطری حکام نے اس ہفتے کے آغاز میں تہران کا دورہ کیا جہاں انھوں نے ایرانی حکام سے تازہ ترین مسودے پر بات چیت کی۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ مذاکرات ”ایران کی 14 نکاتی تجویز” کی بنیاد پر جاری ہیں، جب کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ ثالثی میں مدد کے لیے تہران میں موجود ہیں۔ ایک ہفتے سے کم عرصے میں وزیرِ داخلہ کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ ایک عرب عہدیدار کے مطابق اس نئی کوشش کا مقصد ایران سے اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے زیادہ واضح وعدے لینا اور امریکہ سے منجمد ایرانی فنڈز مرحلہ وار جاری کرنے کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنا ہے۔
تینوں ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی واضح نہیں کہ ایران نئے مسودے سے اتفاق کرے گا یا اپنے مؤقف میں کوئی بڑی تبدیلی لائے گا۔ ایک قطری سفارت کار نے کہا ”جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا، قطر پاکستانی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور خطے اور اس کے عوام کے مفاد میں کشیدگی کم کرنے کی مسلسل وکالت کرتا رہا ہے۔” امریکی ذریعے کے مطابق منگل کی شام ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان طویل اور ”مشکل” گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ثالث ممالک ایک ”لیٹر آف انٹینٹ” پر کام کر رہے ہیں، جس پر امریکہ اور ایران دستخط کریں گے تاکہ جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہو اور 30 روزہ مذاکراتی مرحلہ شروع کیا جا سکے۔ اس عرصے میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کھولنے جیسے معاملات پر بات چیت ہوگی۔
دو اسرائیلی ذرائع نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ حکمتِ عملی پر اختلاف پایا گیا، جب کہ امریکی ذریعے کے مطابق ”کال کے بعد بی بی (نیتن یاہو) شدید پریشان تھے۔” ذریعے نے بتایا کہ واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر نے امریکی قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ نیتن یاہو اس گفتگو پر فکرمند ہیں۔ تاہم اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ”سفیر نجی گفتگوؤں پر تبصرہ نہیں کرتے۔”
دو ذرائع نے نشان دہی کی کہ ماضی میں بھی مذاکرات کے مختلف مراحل پر نیتن یاہو شدید تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، چاہے بعد میں معاہدے نہ ہو سکے ہوں۔ ایک ذریعے نے کہا ”بی بی ہمیشہ فکرمند رہتے ہیں۔” ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے امریکہ کو ایرانی جہازوں کے خلاف اپنی ”قزاقی” بند کرنا ہو گی اور منجمد فنڈز جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کرنا ہو گی، جب کہ اسرائیل کو لبنان میں جنگ ختم کرنا ہوگی۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق نیتن یاہو آئندہ چند ہفتوں میں ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جانا چاہتے ہیں۔
یو این آئیْ۔ ع ا۔
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن کی فوج کے تعز میں حوثیوں کے میزائل ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے
صنعاء، یمن کی فوج نے جمعرات کو تعز صوبے میں حوثی باغیوں کے میزائل لانچروں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے یہ اطلاع ایسے وقت دی ہے جب لڑائی میں شدت آرہی ہے اور اقوام متحدہ نے بے گھر افراد کے بڑھتے ہوئے بحران سے خبردار کیا ہے۔
یمن سیٹلائٹ چینل کے مطابق، جنوب مغربی صوبے تعز کے مغربی، جنوبی اور مشرقی علاقوں میں حوثیوں کے متعدد ٹھکانوں پر حملے کیے گئے۔ ان میں رڈار نظام، فوجی مواصلاتی آلات اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی تنصیبات شامل ہیں۔
یہ حملے حوثیوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے حکومت کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے دوران کیے گئے ہیں۔ حوثیوں کا شمالی اور مغربی یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول ہے۔
حکومتی فورسز نے حالیہ دنوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف سیکڑوں کارروائیاں کرنے کی اطلاع دی ہے۔
فوجی ترجمان ماجد النزیلی نے کہا کہ سرکاری فورسز نے 835 اہدافی کارروائیاں کیں، جن میں 285 حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ ٹینکوں اور اسلحہ کے گوداموں کو تباہ کردیا گیا۔
اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جبل حان کے پہاڑی علاقوں کے علاوہ ذباب اور المسراخ اضلاع کے اطراف شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ ایک سرکاری فوجی ذریعے نے یہ بھی بتایا کہ تعز کے جنوب میں معافر ضلع میں حوثیوں کے اجتماع اور بنیادی ڈھانچے کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
یمنی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیوں کا دائرہ حوثیوں کی ریلیوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ حکومت کا الزام ہے کہ حوثی ان اجتماعات کو بچوں کی بھرتی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ وزارت دفاع نے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریلیوں اور ان سرگرمیوں سے دور رہیں جنہیں حوثی ”ثقافتی کورس” قرار دیتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (اوچا) کے مطابق، اگست سے اب تک بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں، جن میں سے تقریباً نصف نے تعز میں پناہ لی ہے۔
اوچا نے بدھ کی دیر شب جاری کردہ رپورٹ میں بتایا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے شہریوں کے جانی نقصان کے 251 واقعات کی تصدیق کی ہے، جن میں 57 افراد ہلاک اور 194 زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں نصف بچے تھے۔
اوچا نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے اگست سے اب تک 1 لاکھ 74 ہزار سے زیادہ بے گھر افراد تک امداد پہنچائی ہے۔ انہیں خوراک، حفظانِ صحت کی کٹس اور ہنگامی نقد امداد فراہم کی گئی ہے۔
ادارے کے مطابق، حال ہی میں بے گھر ہونے والے خاندانوں نے پناہ گاہ کو اپنی سب سے فوری ضرورت قرار دیا ہے، جس کے بعد خوراک اور نقد امداد کی ضرورت ہے۔
دریں اثنا، یمن کی وزارت تعلیم نے بتایا ہے کہ تنازع کے باعث 25 لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
تازہ لڑائی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے قبضے والے علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعاء، کو واپس لینے کے لیے رواں ماہ کے اوائل میں شروع کیے گئے جوابی فوجی آپریشن ”یمن کی صبح” کو تیز کردیا ہے۔ اس کارروائی میں سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔
یمن کا تنازع اب علاقائی کشیدگی سے بھی جڑتا جارہا ہے۔ حوثی سعودی اہداف پر حملے کررہے ہیں، جبکہ سعودی عرب کو بار بار ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔
سعودی عرب کی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے جمعرات کو بتایا کہ بدھ کی شام دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ سعودی حکام نے ایسے متعدد حملوں کا الزام حوثی تحریک پر عائد کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، امریکہ نے بھی ریاض میں اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ خطے میں دشمنانہ کارروائیوں میں تیزی سے اضافے کا امکان ہے۔
یمنی حکومت نے حوثیوں پر بدھ کو عدن اور الریان ہوائی اڈوں پر حملے کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے مبینہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے حوثی گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی اپیل کی۔
یمن 2014 سے تنازع کی لپیٹ میں ہے، جب حوثیوں نے صنعاء اور دیگر صوبوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ مارچ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
