جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی کا عمر عبداللہ پر دفعہ 370 کے معاملے میں لوگوں کو ‘شکست کا احساس’ دلانے کا الزام
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر الزام لگایا کہ وہ یہ کہہ کر جموں و کشمیر کے لوگوں کو “شکست خوردہ محسوس” کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ موجودہ مرکزی حکومت کے تحت دفعہ 370 کی بحالی ناممکن ہے۔
عمر عبداللہ کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ موجودہ بی جے پی حکومت سے دفعہ 370 کی بحالی کا مطالبہ کرنا غیر عملی ہے، محبوبہ نے سوال اٹھایا کہ اگر نیشنل کانفرنس کا ماننا تھا کہ اسے حاصل نہیں کیا جا سکتا، تو پھر اس نے اپنے 2024 کے انتخابی منشور میں اس مسئلے کو کیوں شامل کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ “..وہ لوگوں کو شکست کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں کسی بھی لیڈر کو اپنے لوگوں کو یہ محسوس نہیں کرانا چاہیے کہ وہ ہار چکے ہیں۔ میں اب بھی کہتی ہوں کہ کشمیر کا مسئلہ زندہ ہے اور اسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ دفعہ 370 اور 35A کو اس حل کا حصہ رہنا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی سیاسی خواہشات کو محض ریاست کے درجے کی بحالی تک محدود کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے اور یہ اگست 2019 کی آئینی تبدیلیوں کو معمول کے طور پر قبول کرنے کے مترادف ہے۔
محبوبہ نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کی سیاسی امنگوں کو صرف ریاست کے درجے کی بحالی تک محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ نیشنل کانفرنس، جو اسمبلی میں آرام دہ اکثریت رکھتی ہے، ان کے خیال میں “جموں و کشمیر کے پورے معاملے” کو محض ریاست کے درجے کے مطالبے تک محدود کر رہی ہے۔
محبوبہ نے کہا کہ جموں و کشمیر 1947 سے ایک طویل سیاسی جدوجہد کا گواہ رہا ہے اور یہاں کے لوگوں کی خواہشات کو کسی ایک مطالبے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، “جموں و کشمیر ایک حساس جگہ ہے۔ 1947 سے لوگ اپنی عزتِ نفس کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ ریاست کا درجہ بحال ہونے سے ہر مسئلہ حل ہو جائے گا، عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔”
محبوبہ نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ پر زور دیا تھا کہ وہ ریاست کے درجے کی بحالی کے لیے نئی دہلی میں نیشنل کانفرنس کے احتجاج کے انعقاد سے قبل ایک کل جماعتی (آل پارٹی) اجلاس بلائیں۔ ان کے مطابق ایک مشترکہ سیاسی حکمتِ عملی زیادہ وزن رکھتی اور جموں و کشمیر کے سیاسی مستقبل پر ایک وسیع تر اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتی۔ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ عوام نے نیشنل کانفرنس کو صرف ریاست کے درجے کے حصول کے لیے ووٹ نہیں دیا، بلکہ ان بڑے سیاسی سوالات کو حل کرنے کے لیے دیا ہے جو اگست 2019 کی آئینی تبدیلیوں کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ مینڈیٹ صرف ریاست کے درجے کے لیے نہیں دیا گیا تھا۔ یہ جموں و کشمیر کو درپیش بڑے مسائل کو حل کرنے کے لیے دیا گیا تھا،” انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی پی وزیر اعلیٰ کو عوام کے تئیں ان کی وسیع تر ذمہ داری یاد دلاتی رہے گی۔ محبوبہ نے این سی (نیشنل کانفرنس) پر 5 اگست 2019 کی آئینی تبدیلیوں کو “معمول” کے طور پر قبول کرنے کا الزام لگایا اور اس کا موازنہ مرکز اور اس وقت کی این سی قیادت کے درمیان 1975 میں ہونے والے معاہدے سے کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ “مجھے یاد ہے کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ صورتحال کو معمول کے طور پر قبول کیا ہے۔ جب مرحوم شیخ عبداللہ نے 1975 کے معاہدے پر دستخط کیے، تو انہوں نے صدرِ ریاست اور وزیر اعظم کے سابقہ عہدوں کی جگہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ قبول کر لیا۔ اس وقت تک جو بھی آئینی تنزلی ہوئی تھی، اسے معمول کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا۔ اسی طرح، میں عمر صاحب کو صرف ریاست کے درجے کے لیے جنتر منتر جاتے، صرف ریاست کے درجے کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، جہاں دفعہ 370 کا ذکر تک نہیں کیا گیا اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اس کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ میرے خیال میں وہ 2019 میں جموں و کشمیر میں جو کچھ ہوا، اسے معمول کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔”
اس سے قبل، سابق ایم ایل اے شعیب لون نے پارٹی صدر کی موجودگی میں پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس (این سی) کے ترجمان اور رکن اسمبلی تنویر صادق کے کشمیر کے لوگوں کی غربت سے متعلق بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی رہنما کے بیان میں تاریخی اعتبار سے کوئی غلطی نہیں ہے اور انہیں نہ معافی مانگنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی وضاحت دینے کی۔
تنویر صادق نے 8 ستمبر کو نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک وقت کشمیر کے لوگ اتنے غریب تھے کہ ’’پورا محلہ ایک ہی پاجامہ (پتلون) بانٹ کر پہنتا تھا۔‘‘
اس بیان پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تنقید کی تھی۔ دونوں جماعتوں نے نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کیا کہ وہ شیخ عبداللہ اور لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے میں ان کے کردار کو نمایاں کرنے کے لیے کشمیریوں کو انتہائی غریب کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
تنویر صادق کا دفاع کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ غربت کا حوالہ تاریخی بیانات اور ریکارڈ پر مبنی تھا اور این سی کے ترجمان نے اسے خود سے ایجاد نہیں کیا تھا۔
عمر عبداللہ نے سری نگر میں صحافیوں سے کہاکہ ’’تنویر نے ایسی کون سی بات کہی جو تاریخی طور پر درست نہیں ہے؟ والٹر لارنس نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے۔ بہت سے دیگر مورخین نے بھی جموں و کشمیر اور خاص طور پر کشمیریوں کی غربت کے بارے میں لکھا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے تاریخی طور پر زائل داروں، چک داروں اور زمینداروں پر مشتمل نظام کے تحت مشکلات برداشت کیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کے پاس مناسب مالی وسائل نہیں تھے۔
انہوں نے کہاکہ ’’لوگوں کے پاس پیسہ نہیں تھا۔ اور تنویر نے یہ بات پہلی مرتبہ نہیں کہی۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ این سی کے سینئر رہنماؤں، بشمول پارٹی صدر اور جنرل سکریٹری، نے بھی ماضی میں کشمیر میں موجود انتہائی غربت کا ذکر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنویر صادق کے بیان کا مقصد کشمیر میں آنے والی تبدیلی کو اجاگر کرنا تھا، جہاں اب خاندان اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکتے ہیں اور انہیں ڈاکٹر اور انجینئر بنتے دیکھ سکتے ہیں۔
عمر نے کہاکہ ’’یہ ایک تاریخی حقیقت ہے،‘‘ اور مزید کہا کہ تنویر صادق نے کچھ غلط نہیں کہا۔
عمر عبداللہ نے اس تنازع پر بی جے پی اور پی ڈی پی پر سیاسی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’تو بی جے پی اور پی ڈی پی مل کر میچ کھیل رہے ہیں۔ آپ دیکھیں، ان کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ ان کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے تنویر صادق یا نیشنل کانفرنس کی جانب سے معافی یا وضاحت پیش کرنے کے امکان کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ’’تنویر کو اس معاملے پر معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
بی جے پی نے بدھ کو تنویر صادق کے بیان کے خلاف کشمیر کے کئی مقامات پر احتجاج بھی کیا تھا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
جموں، جموں کے شہری پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم کے طور پر پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی اور آٹومیشن سسٹم کا جمعرات کو جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی) نے افتتاح کیا۔
اس منصوبے کا آغاز کمشنر ڈاکٹر دیوانش یادو نے کیا۔
اس اقدام کا مقصد شہری پانی کی فراہمی کے نظام کی نگرانی، انتظام اور آپریشنل کارکردگی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
جموں میونسپل کارپوریشن اور جل شکتی محکمہ شہریوں کو قابلِ اعتماد اور بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ اس سمت میں جدید ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال ایک اہم قدم ہے۔
اس منصوبے کے تحت جے ایم سی کے سٹی گرانٹس سے پی ایچ ای جموں کے شہری علاقے میں مختلف ٹیوب ویلوں اور پمپنگ اسٹیشنوں پر 418 مصنوعی ذہانت پر مبنی پینل نصب کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کی کل تخمینی لاگت 5.83 کروڑ روپے ہے۔
اس نظام کی ایک اہم خصوصیت مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور الیکٹریکل سگنیچر اینالیسس (ای ایس اے) کا استعمال ہے، جس کے ذریعے پمپس اور موٹروں کے برقی اور آپریشنل پیرامیٹرز کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔
پی ایچ ای ڈی کے انجینئرز موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے پمپس کو دور سے آن یا آف کر سکیں گے اور پمپنگ اسٹیشنوں کی نگرانی بھی کر سکیں گے۔ پمپ کی صورتحال، برقی پیرامیٹرز، ٹرپ کی صورتحال اور دیگر اہم معلومات حقیقی وقت میں دستیاب ہوں گی۔
یہ نظام ڈرائی رن، اوورلوڈ، ریورس فیز، فیز عدم توازن، وولٹیج اور فریکوئنسی میں اتار چڑھاؤ اور شارٹ سرکٹ سے تحفظ اور الرٹ فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ چوری، غیر مجاز داخلے اور نظام میں چھیڑ چھاڑ سے متعلق الرٹس بھی دستیاب ہوں گے۔
یواین آئی۔طا
جموں و کشمیر
وانگچک کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کے ساتھ مذاکرات میں گزشتہ ادوار کے مقابلے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی
سری نگر، لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کی جانب سے نئی دہلی میں وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کی ذیلی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے ایک روز بعد لداخ کی قیادت میں مایوسی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ موسمیاتی کارکن اور ایل اے بی کے رکن سونم وانگچک نے کہا ہے کہ اجلاس میں ان امور سے آگے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی جن پر گزشتہ مذاکرات میں پہلے ہی بات ہو چکی تھی۔
وانگچک نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ 9 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں چار ماہ قبل منعقدہ گزشتہ میٹنگ کے مقابلے میں تقریباً کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی۔
وانگچک نے کہاکہ ’’لیہ اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس کی ایپکس باڈی کے رہنما 9 ستمبر کو نئی دہلی میں ذیلی کمیٹی کی سطح پر ہونے والی میٹنگ سے کافی مایوس ہیں۔ گزشتہ چار ماہ قبل ہونے والی میٹنگ کے مقابلے میں تقریباً کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ ایم ایچ اے کی جانب سے بات چیت کے لیے کوئی مسودہ تیار نہیں کیا گیا، لداخ کی جانب سے ایک ماہ قبل بھیجی گئی ناقابلِ سمجھوتہ مطالبات کی فہرست پر کوئی جواب نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ جائز جمہوری اسمبلی کے قیام تک مقامی حکمرانی، اراضی کی منتقلی کی پالیسیوں وغیرہ میں کوئی بڑی اور ناقابلِ واپسی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اجلاس کا ’’واحد بڑا نتیجہ‘‘ اکتوبر میں مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کرنا تھا۔
وانگچک نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ’’اسی لیے آج ہمیں مشہور مزاحیہ فن کار جسپال بھٹی کی میٹنگیں یاد آ رہی ہیں۔‘‘
وانگچک نے اجلاس کے وقت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ اجلاس 10 ستمبر سے شروع ہونے والی مجوزہ لیہ سے کارگل پیدل مارچ (پدیاترا) سے توجہ ہٹانے کی کوشش تھی۔
انہوں نے کہاکہ ’’جیسا کہ ہم نے اندازہ لگایا تھا، 9 ستمبر کی یہ میٹنگ صرف ایک گمراہ کن اقدام معلوم ہوتی ہے تاکہ لداخ کی توجہ 10 ستمبر سے شروع ہونے والے بڑے لیہ سے کارگل پدیاترا مارچ سے ہٹائی جا سکے۔‘‘
وانگچک نے کہاکہ ’’اعتماد کم ہو رہا ہے، بداعتمادی بدقسمتی سے بڑھ رہی ہے۔‘‘ انہوں نے اپنی پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی ٹیگ کیا۔
59 سالہ وانگچک کو ستمبر میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ان کے خلاف قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔ یہ کارروائی ان احتجاجی مظاہروں کے بعد ہوئی تھی جن میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے حراست منسوخ کیے جانے کے بعد انہیں مارچ میں رہا کر دیا گیا تھا۔
بدھ کو ہونے والی میٹنگ کے بعد لداخ کے چیف سکریٹری آشیش کندرا نے ’ایکس‘ پر دہلی میں ہونے والی میٹنگ کے بارے میں ’’عمومی طور پر مثبت ماحول‘‘ کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’آرٹیکل 371 کے تحت ایک منفرد طرز حکمرانی کے وسیع خدوخال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جمہوریت کو مزید مضبوط بنانا ہمارا مقصد ہے۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر5 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا1 week agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر5 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر5 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
ہندوستان1 week agoجے رام رمیش نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے کو چیلنج کیا، سابق فنانس سکریٹری کے 2.6 فیصد تخمینے کا حوالہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
جموں و کشمیر1 week agoنمبر پلیٹ ماسکنگ کے خلاف کشمیر پولیس کی کارروائی، 10 دن میں 150 سے زائد گاڑیاں ضبط
-
دنیا1 week agoپوتن اور مودی نے ہندوستان کو ایس-400 فضائی دفاعی میزائل نظام کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا
-
دنیا3 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
