ہندوستان
راجیو گاندھی نے نوجوانوں کو خودمختار بنایا اور ہندستان کے آئی ٹی انقلاب کی راہ ہموار کی: جے رام رمیش
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کے نوجوانوں کو خودمختار بنانے کے تعاون کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی اصلاحات، تعلیم، نوجوانوں کی ترقی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ان کے کیے گئے اقدامات ملک بھر کے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی “بے چینی اور اضطراب ” کے درمیان آج بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
سابق وزیرِ اعظم کے 82ویں یومِ پیدائش کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا کہ ایسے وقت میں جب نوجوانوں کی آرزوئیں اور خدشات ایک بار پھر قومی بحث کے مرکز میں ہیں، سابق وزیرِ اعظم کے تعاون کو یاد رکھنا بے حد ضروری ہے۔
انہوں نے سابق وزیرِ اعظم سے جڑے سلسلہ وار اقدامات کی فہرست پیش کرتے ہوئے کہا، “آج جب ہم ان کا 82واں یومِ پیدائش منا رہے ہیں اور ملک بھر میں نوجوانوں کے اندر بے چینی اور اضطراب دیکھ رہے ہیں، تو یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ یہ وزیرِ اعظم راجیو گاندھی ہی تھے جنہوں نے…”
مسٹر رمیش نے آئینی ترمیم کا ذکر کیا جس کے ذریعے ووٹنگ کی کم از کم عمر 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کی گئی، جس سے لاکھوں نوجوان ہندستانیوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق ملا۔ 1988 میں منظور کی گئی 61ویں آئینی ترمیم نے 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کو اہل ووٹر تسلیم کرتے ہوئے ہندستان کی انتخابی جمہوریت میں ایک بڑی وسعت کا موقع فراہم کیا۔
انہوں نے سوامی وویکانند کے یومِ پیدائش 12 جنوری کو ‘قومی یومِ نوجوانان’ یا نیشنل یوتھ ڈے کے طور پر منانے کے راجیو گاندھی کے فیصلے کو بھی یاد کیا۔ اس موقع کو تب سے ہر سال قوم کی تعمیر میں نوجوانوں کے کردار کو اجاگر کرنے اور سوامی وویکانند کی تعلیمات نیزہندستان کی فکری و سماجی زندگی میں ان کے تعاون کو یاد کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
مسٹر رمیش نے 1986 کی نئی تعلیمی پالیسی لانے کا سہرا بھی راجیو گاندھی کے سر باندھا، جس کے بعد 1980 کی دہائی کے اواخر میں کئی اہم اقدامات نافذ کیے گئے۔ انہوں نے بالخصوص ‘جواہر نوودے ودیالیہ’ نیٹ ورک کے قیام اور توسیع کا حوالہ دیا، جس کا مقصد ہونہار بچوں، خاص طور پر دیہی علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا تھا۔
کانگریس رہنما نے ‘نہرو یووا کیندر سنگٹھن’ کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ اس کا قیام ملک بھر کے اضلاع کا احاطہ کرنے اور سماجی و برادری کی سرگرمیوں میں نوجوانوں کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نےواضح کیا کہ حکومت کی جانب سے نوجوانوں سے کی جانے والی سرگرمیوں کے فریم ورک کی نئی تنظیمِ نو کے بعد اس تنظیم کو اب ‘مائی بھارت’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
مسٹر رمیش کا آخری نقطہ راجیو گاندھی کے ہندستان کو فیصلہ کن طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں لے جانے کے کردار پر مرکوز تھا۔ انہوں نے راجیو گاندھی کے دورِ حکومت میں کیے گئے تکنیکی اور مواصلاتی اقدامات کے طویل المدتی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، “وہ ہندستان کو فیصلہ کن طور پر آئی ٹی کے دور میں لے گئے، جس سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوئے۔”
راجیو گاندھی 1984 میں 40 سال کی عمر میں وزیرِ اعظم بنے تھے، جس سے وہ اس وقت اس عہدے پر فائز ہونے والے سب سے کم عمر شخص بنے۔ 1984 سے 1989 تک ان کا دورِ حکومت تکنیکی جدت طرازی، کمپیوٹرائزیشن، ٹیلی کمیونیکیشن، تعلیم اور انتظامی اصلاحات پر زور دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کے حامیوں نے اکثر اس جدید کاری کے ایجنڈے کو اس ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی اہم بنیاد رکھنے کے طور پر بیان کیا ہے جسے ہندستان نے بعد کی دہائیوں میں تیار کیا۔
کانگریس بالخصوص راجیو گاندھی کے یومِ پیدائش اور یومِ وفات پر نوجوانوں، ٹیکنالوجی اور جدید کاری پر ہونے والی بحثوں میں ان کی میراث کا ذکر کرتی رہی ہے۔ مسٹر رمیش کے یہ بیانات طلباء اور نوجوانوں کے خدشات بشمول امتحانات، روزگار اور تعلیمی مواقع سے متعلق مسائل پر شروع ہونے والی نئی سیاسی بحث کے درمیان آئے ہیں۔
نوجوان ہندستانیوں کے موجودہ خدشات کو راجیو گاندھی کے اقدامات سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے کانگریس کے اس موقف کو اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ نوجوان شہریوں کو بااختیار بنانے کے لیے نہ صرف روزگار کے مواقع بلکہ سیاسی شراکت، معیاری تعلیم، ادارہ جاتی تعاون اور نئی ٹیکنالوجی تک رسائی کی بھی ضرورت ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
