جموں و کشمیر
کشمیر میں میڈیکل انٹرنز کا احتجاج، وظیفے میں اضافے کے مطالبے پر کام معطل
سری نگر، کشمیر کے مختلف میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں ایم بی بی ایس انٹرن ڈاکٹروں نے پیر کے روز احتجاج کیا اور کام معطل کردیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے ماہانہ وظیفے میں اضافہ کیا جائے، جو ان کے مطابق گزشتہ سات برس سے تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔
سری نگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں احتجاج کرنے والے میڈیکل انٹرنز نے بتایا کہ انہیں فی الحال تقریباً 12,300 روپے ماہانہ وظیفہ مل رہا ہے اور وہ اسے بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
ایک احتجاجی انٹرن نے کہاکہ ’’آج ہم اس لیے احتجاج کررہے ہیں کیونکہ گزشتہ سات برس سے ہمارے وظیفے میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ یہ تقریباً 12,300 روپے ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسے بڑھا کر 30,000 روپے کیا جائے۔‘‘
انٹرنز نے کہا کہ وہ اسپتالوں میں طویل اوقات تک، اکثر دن رات، کام کرتے ہیں اور کم وظیفے کے باوجود مریضوں کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایک اور انٹرن نے کہاکہ ’’ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں وظیفہ بڑھا کر تقریباً 25,000 روپے یا اس سے زیادہ کردیا گیا ہے۔ اڈیشہ میں یہ 44,000 روپے جبکہ مغربی بنگال میں 43,000 روپے ہے۔ حال ہی میں اتر پردیش میں احتجاج کے بعد وظیفہ بڑھا کر تقریباً 26,000 روپے کردیا گیا۔ تو یہاں ایسا کیوں نہیں ہورہا؟‘‘
ایک اور احتجاجی ڈاکٹر نے کہا کہ انٹرنز ’’اسپتال کی ریڑھ کی ہڈی‘‘ ہیں اور سوال اٹھایا کہ ان کی خدمات کو یکساں اہمیت کیوں نہیں دی جارہی ہے۔
انٹرن نے کہاکہ ’’ہم دن رات اسپتال میں گزارتے ہیں اور مریضوں کی جان بچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔
ہم نے کئی مرتبہ حکومت سے رجوع کیا اور لیفٹیننٹ گورنر، وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت سے ملاقات سمیت ہر ممکن کوشش کی، لیکن ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔‘‘
جموں و کشمیر کی وزیر صحت سکینہ ایتو نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی وظیفے میں اضافے کا عمل شروع کردیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم نے فائل پر کارروائی مکمل کرلی ہے۔ مالی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے فائل محکمہ خزانہ کو بھیج دی گئی ہے۔ اس پر کارروائی جاری ہے۔‘‘
ایتو نے انٹرنز کے مطالبے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے پیش نظر وظیفے میں اضافہ ضروری ہے، تاہم انہوں نے ہڑتال کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہوسکتی ہے۔
یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس (این سی) کے ترجمان اور رکن اسمبلی تنویر صادق کے کشمیر کے لوگوں کی غربت سے متعلق بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی رہنما کے بیان میں تاریخی اعتبار سے کوئی غلطی نہیں ہے اور انہیں نہ معافی مانگنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی وضاحت دینے کی۔
تنویر صادق نے 8 ستمبر کو نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک وقت کشمیر کے لوگ اتنے غریب تھے کہ ’’پورا محلہ ایک ہی پاجامہ (پتلون) بانٹ کر پہنتا تھا۔‘‘
اس بیان پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تنقید کی تھی۔ دونوں جماعتوں نے نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کیا کہ وہ شیخ عبداللہ اور لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے میں ان کے کردار کو نمایاں کرنے کے لیے کشمیریوں کو انتہائی غریب کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
تنویر صادق کا دفاع کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ غربت کا حوالہ تاریخی بیانات اور ریکارڈ پر مبنی تھا اور این سی کے ترجمان نے اسے خود سے ایجاد نہیں کیا تھا۔
عمر عبداللہ نے سری نگر میں صحافیوں سے کہاکہ ’’تنویر نے ایسی کون سی بات کہی جو تاریخی طور پر درست نہیں ہے؟ والٹر لارنس نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے۔ بہت سے دیگر مورخین نے بھی جموں و کشمیر اور خاص طور پر کشمیریوں کی غربت کے بارے میں لکھا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے تاریخی طور پر زائل داروں، چک داروں اور زمینداروں پر مشتمل نظام کے تحت مشکلات برداشت کیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کے پاس مناسب مالی وسائل نہیں تھے۔
انہوں نے کہاکہ ’’لوگوں کے پاس پیسہ نہیں تھا۔ اور تنویر نے یہ بات پہلی مرتبہ نہیں کہی۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ این سی کے سینئر رہنماؤں، بشمول پارٹی صدر اور جنرل سکریٹری، نے بھی ماضی میں کشمیر میں موجود انتہائی غربت کا ذکر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنویر صادق کے بیان کا مقصد کشمیر میں آنے والی تبدیلی کو اجاگر کرنا تھا، جہاں اب خاندان اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکتے ہیں اور انہیں ڈاکٹر اور انجینئر بنتے دیکھ سکتے ہیں۔
عمر نے کہاکہ ’’یہ ایک تاریخی حقیقت ہے،‘‘ اور مزید کہا کہ تنویر صادق نے کچھ غلط نہیں کہا۔
عمر عبداللہ نے اس تنازع پر بی جے پی اور پی ڈی پی پر سیاسی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’تو بی جے پی اور پی ڈی پی مل کر میچ کھیل رہے ہیں۔ آپ دیکھیں، ان کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ ان کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے تنویر صادق یا نیشنل کانفرنس کی جانب سے معافی یا وضاحت پیش کرنے کے امکان کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ’’تنویر کو اس معاملے پر معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
بی جے پی نے بدھ کو تنویر صادق کے بیان کے خلاف کشمیر کے کئی مقامات پر احتجاج بھی کیا تھا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
جموں، جموں کے شہری پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم کے طور پر پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی اور آٹومیشن سسٹم کا جمعرات کو جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی) نے افتتاح کیا۔
اس منصوبے کا آغاز کمشنر ڈاکٹر دیوانش یادو نے کیا۔
اس اقدام کا مقصد شہری پانی کی فراہمی کے نظام کی نگرانی، انتظام اور آپریشنل کارکردگی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
جموں میونسپل کارپوریشن اور جل شکتی محکمہ شہریوں کو قابلِ اعتماد اور بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ اس سمت میں جدید ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال ایک اہم قدم ہے۔
اس منصوبے کے تحت جے ایم سی کے سٹی گرانٹس سے پی ایچ ای جموں کے شہری علاقے میں مختلف ٹیوب ویلوں اور پمپنگ اسٹیشنوں پر 418 مصنوعی ذہانت پر مبنی پینل نصب کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کی کل تخمینی لاگت 5.83 کروڑ روپے ہے۔
اس نظام کی ایک اہم خصوصیت مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور الیکٹریکل سگنیچر اینالیسس (ای ایس اے) کا استعمال ہے، جس کے ذریعے پمپس اور موٹروں کے برقی اور آپریشنل پیرامیٹرز کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔
پی ایچ ای ڈی کے انجینئرز موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے پمپس کو دور سے آن یا آف کر سکیں گے اور پمپنگ اسٹیشنوں کی نگرانی بھی کر سکیں گے۔ پمپ کی صورتحال، برقی پیرامیٹرز، ٹرپ کی صورتحال اور دیگر اہم معلومات حقیقی وقت میں دستیاب ہوں گی۔
یہ نظام ڈرائی رن، اوورلوڈ، ریورس فیز، فیز عدم توازن، وولٹیج اور فریکوئنسی میں اتار چڑھاؤ اور شارٹ سرکٹ سے تحفظ اور الرٹ فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ چوری، غیر مجاز داخلے اور نظام میں چھیڑ چھاڑ سے متعلق الرٹس بھی دستیاب ہوں گے۔
یواین آئی۔طا
جموں و کشمیر
وانگچک کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کے ساتھ مذاکرات میں گزشتہ ادوار کے مقابلے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی
سری نگر، لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کی جانب سے نئی دہلی میں وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کی ذیلی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے ایک روز بعد لداخ کی قیادت میں مایوسی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ موسمیاتی کارکن اور ایل اے بی کے رکن سونم وانگچک نے کہا ہے کہ اجلاس میں ان امور سے آگے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی جن پر گزشتہ مذاکرات میں پہلے ہی بات ہو چکی تھی۔
وانگچک نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ 9 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں چار ماہ قبل منعقدہ گزشتہ میٹنگ کے مقابلے میں تقریباً کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی۔
وانگچک نے کہاکہ ’’لیہ اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس کی ایپکس باڈی کے رہنما 9 ستمبر کو نئی دہلی میں ذیلی کمیٹی کی سطح پر ہونے والی میٹنگ سے کافی مایوس ہیں۔ گزشتہ چار ماہ قبل ہونے والی میٹنگ کے مقابلے میں تقریباً کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ ایم ایچ اے کی جانب سے بات چیت کے لیے کوئی مسودہ تیار نہیں کیا گیا، لداخ کی جانب سے ایک ماہ قبل بھیجی گئی ناقابلِ سمجھوتہ مطالبات کی فہرست پر کوئی جواب نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ جائز جمہوری اسمبلی کے قیام تک مقامی حکمرانی، اراضی کی منتقلی کی پالیسیوں وغیرہ میں کوئی بڑی اور ناقابلِ واپسی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اجلاس کا ’’واحد بڑا نتیجہ‘‘ اکتوبر میں مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کرنا تھا۔
وانگچک نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ’’اسی لیے آج ہمیں مشہور مزاحیہ فن کار جسپال بھٹی کی میٹنگیں یاد آ رہی ہیں۔‘‘
وانگچک نے اجلاس کے وقت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ اجلاس 10 ستمبر سے شروع ہونے والی مجوزہ لیہ سے کارگل پیدل مارچ (پدیاترا) سے توجہ ہٹانے کی کوشش تھی۔
انہوں نے کہاکہ ’’جیسا کہ ہم نے اندازہ لگایا تھا، 9 ستمبر کی یہ میٹنگ صرف ایک گمراہ کن اقدام معلوم ہوتی ہے تاکہ لداخ کی توجہ 10 ستمبر سے شروع ہونے والے بڑے لیہ سے کارگل پدیاترا مارچ سے ہٹائی جا سکے۔‘‘
وانگچک نے کہاکہ ’’اعتماد کم ہو رہا ہے، بداعتمادی بدقسمتی سے بڑھ رہی ہے۔‘‘ انہوں نے اپنی پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی ٹیگ کیا۔
59 سالہ وانگچک کو ستمبر میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ان کے خلاف قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔ یہ کارروائی ان احتجاجی مظاہروں کے بعد ہوئی تھی جن میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے حراست منسوخ کیے جانے کے بعد انہیں مارچ میں رہا کر دیا گیا تھا۔
بدھ کو ہونے والی میٹنگ کے بعد لداخ کے چیف سکریٹری آشیش کندرا نے ’ایکس‘ پر دہلی میں ہونے والی میٹنگ کے بارے میں ’’عمومی طور پر مثبت ماحول‘‘ کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’آرٹیکل 371 کے تحت ایک منفرد طرز حکمرانی کے وسیع خدوخال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جمہوریت کو مزید مضبوط بنانا ہمارا مقصد ہے۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر6 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا1 week agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر6 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر6 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
ہندوستان1 week agoجے رام رمیش نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے کو چیلنج کیا، سابق فنانس سکریٹری کے 2.6 فیصد تخمینے کا حوالہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
جموں و کشمیر1 week agoنمبر پلیٹ ماسکنگ کے خلاف کشمیر پولیس کی کارروائی، 10 دن میں 150 سے زائد گاڑیاں ضبط
-
دنیا3 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
ہندوستان6 days agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
