جموں و کشمیر
سری نگر میں یومیہ اجرت ملازمین کا احتجاج، وقت مقررہ میں مستقلی کا مطالبہ
سری نگر،جموں و کشمیر کیژول ڈیلی ویجرز فورم نے یومیہ اجرت ملازمین کو مستقل کرنے کے عمل میں تاخیر کے خلاف منگل کو سری نگر میں احتجاج کیا اور حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت یومیہ اجرت ملازمین کی مستقلی کے عمل کو تیز کرتے ہوئے ان کے طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات کے مستقل حل کے لیے واضح اور ٹھوس روڈ میپ نافذ کرے۔
فورم کے صدر سجاد احمد پرے نے کہا کہ انتخابات کے دوران حکومت نے یومیہ اجرت ملازمین کے مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے اب ان کی مستقلی اور پنشن کی بحالی سمیت دیگر مطالبات پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی میں یومیہ اجرت ملازمین کی مستقلی کے لیے چھ ماہ کے اندر روڈ میپ تیار کرنے کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، لیکن 18 ماہ گزرنے کے باوجود اس کی کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی۔
پرے نے الزام لگایا کہ ملازمین کے بقایاجات ادا نہیں کیے گئے، ملازمتوں کا تحفظ یقینی نہیں بنایا گیا اور نہ ہی کوئی مستقل پالیسی سامنے لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدوں اور ترجیحات کو بھول گئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً چار لاکھ یومیہ اجرت اور کیژول ملازمین سمیت بڑی تعداد میں کارکنوں نے انتخابی وعدوں کی بنیاد پر حکومت کی حمایت کی تھی، لیکن آج حکومت نے انہیں نظر انداز کر دیا ہے۔
فورم کے صدر نے یومیہ اجرت ملازمین، کیژول لیبرز، ایس پی اوز اور آنگن واڑی کارکنوں کے مسائل حل نہ ہونے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کارکن مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر ان کی آواز نہیں سنی جا رہی۔
انہوں نے منتخب نمائندوں سے بھی سوال کیا کہ ملازمین کے مسائل حل کرنے کے وعدے کرنے والے اراکین اسمبلی اب اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ناانصافی جاری رہی تو عوام آئندہ اسمبلی، پنچایت، بلدیاتی اور پارلیمانی انتخابات میں اس کا جواب دیں گے۔
فورم نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے 10 ستمبر تک مطالبات حل نہ کیے تو احتجاج کو مزید تیز کیا جائے گا۔ سجاد احمد پرے نے کہا کہ 10 ستمبر کو وفد آئندہ کی حکمت عملی طے کرے گا اور مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رہے گی۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کا خزاں سیشن 21 سے 30 ستمبر تک ہوگا
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا چھٹا اجلاس 21 تا 30 ستمبر منعقد ہوگا۔ اسمبلی سکریٹریٹ نے منگل کو اجلاس کا عارضی کاروباری کیلنڈر جاری کردیا۔
اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی جانب سے جاری کیلنڈر کے مطابق اجلاس کا آغاز 21 ستمبر کو تعزیتی قراردادوں سے ہوگا، جس کے بعد سرکاری امور انجام دیے جائیں گے۔ 22 ستمبر کو بھی سرکاری امور ہوں گے، جبکہ 23 ستمبر کو مہاراجہ ہری سنگھ کی سالگرہ کے موقع پر تعطیل رہے گی۔
24 ستمبر کو پرائیویٹ ممبرز بل اور 25 ستمبر کو پرائیویٹ ممبرز قراردادیں پیش کی جائیں گی۔ 26 ستمبر کو ایوان کی کارروائی نہیں ہوگی، جبکہ 27 ستمبر کو بھی تعطیل رہے گی۔ 28 ستمبر کو دوبارہ پرائیویٹ ممبرز بل پیش کیے جائیں گے، جبکہ 29 اور 30 ستمبر کو سرکاری امور انجام دیے جائیں گے۔
یہ اجلاس 2024 کے اسمبلی انتخابات کے بعد منتخب حکومت کی بحالی کے بعد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا چھٹا اجلاس ہوگا۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے میڈیکل انٹرنز 30 روز میں وظیفہ بڑھانے کی حکومتی یقین دہانی پر ہڑتال ختم کرنے پر راضی
سری نگر، جموں و کشمیر میں میڈیکل انٹرنز نے حکومت کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد اپنی ہڑتال ختم کرنے اور ڈیوٹی پر واپس آنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے کہ ان کے وظیفے میں اضافے کے مطالبے کو 30 دنوں کے اندر حتمی شکل دی جائے گی۔
یہ فیصلہ حکومت اور احتجاج کرنے والے انٹرنز کے نمائندوں کے درمیان تفصیلی بات چیت کے بعد کیا گیا۔ انٹرنز گزشتہ آٹھ روز سے ماہانہ وظیفہ بڑھانے کے مطالبے کو لے کر احتجاج کر رہے تھے۔
انٹرنز نے پیر کو اپنے احتجاج کو مزید تیز کرتے ہوئے 48 گھنٹے کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ وہ موجودہ 12,300 روپے ماہانہ وظیفے کو بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
وزیر صحت و طبی تعلیم کے ذاتی شعبے کی جانب سے درج کارروائی کے مطابق حکومت نے کہا کہ معاملے کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر ’’منطقی انجام‘‘ تک پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ انٹرنز کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں متاثر نہ ہوں اور اسپتالوں میں طبی خدمات اور مریضوں کی دیکھ بھال بلا تعطل جاری رہے۔
فیصلہ کیا گیا کہ 27 جون 2023 کے سرکاری حکم نامہ نمبر 538-جے کے (ایچ ایم ای) کے تحت تشکیل دی گئی وظیفہ اضافے کی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر معاملے کو 30 روز کے اندر حتمی شکل دی جائے گی۔
دستاویز کے مطابق فیصلے میں میڈیکل انٹرنز کے جائز مفادات اور خدشات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
حکومت کی یقین دہانی کے بعد احتجاج کرنے والے انٹرنز نے مریضوں کی دیکھ بھال کے وسیع تر مفاد اور اپنے تعلیمی و پیشہ ورانہ مفادات کے تحفظ کے پیش نظر ہڑتال ختم کرکے اپنی ڈیوٹی دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
انٹرنز کا کہنا ہے کہ موجودہ وظیفہ تقریباً سات برس سے تبدیل نہیں ہوا ہے، جبکہ اس دوران رہن سہن کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور کام کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔
حکومت کی یہ یقین دہانی جموں و کشمیر کے کئی سرکاری میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں جاری طویل احتجاج کے بعد سامنے آئی ہے۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
دراندازی اور ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف چوکس رہیں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ کے سرحدی باشندوں کو آگاہ کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو دراندازی اور ملک دشمن سرگرمیوں کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے چوکس رہنے کی اپیل کی ہے۔
ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی نگرانی میں بالاکوٹ کے زیرو لائن علاقے میں پولیس کمیونٹی پارٹنرشپ گروپ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پولیس حکام نے پولیس اور عوام کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے، سلامتی سے متعلق معاملات میں مقامی لوگوں کی شمولیت بڑھانے اور سرحدی آبادی کی جائز شکایات دور کرنے کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس کے دوران سرحدی دیہات کے رہنے والوں کو موجودہ سکیورٹی چیلنجز اور دراندازی، دہشت گردی، ملک دشمن سرگرمیوں، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر جرائم کے خلاف چوکس رہنے کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔
لوگوں سے کہا گیا کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، گاڑی، چیز یا غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس اور سکیورٹی اداروں کو دیں۔ متعلقہ افسران کے موبائل نمبر بھی مقامی باشندوں کے ساتھ شیئر کیے گئے۔
سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں منشیات اور ان کی اسمگلنگ کے خطرے پر بھی بات ہوئی اور لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ منشیات سے متعلق سرگرمیوں کے بارے میں قابل اعتماد معلومات پولیس کے ساتھ شیئر کریں۔ انہیں سائبر فراڈ سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جعل سازی پر مبنی روابط، ون ٹائم پاس ورڈ اور پن کے ذریعے دھوکہ دہی اور بینکنگ لین دین میں فراڈ شامل ہیں۔ لوگوں کو آن لائن لین دین کے دوران محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا۔
مقامی باشندوں نے سرحدی دیہات تک رسائی، سکیورٹی جانچ، اسمارٹ فینس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے نظام کی تنصیب کے علاوہ جنگلی سؤروں کی جانب سے زرعی فصلوں کو پہنچائے جانے والے مسلسل نقصان سے متعلق مسائل بھی اٹھائے۔
پولیس حکام نے ان کے مسائل غور سے سنے اور یقین دلایا کہ جائز شکایات کو متعلقہ حکام کے سامنے مناسب کارروائی کے لیے اٹھایا جائے گا، تاہم سکیورٹی تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
مقامی باشندوں کو زیرو لائن اور بالاکوٹ کے سرحدی علاقوں میں امن، سلامتی اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اجلاس میں پولیس اور عوام کے درمیان مسلسل رابطے، کمیونٹی کی چوکسی اور بروقت معلومات کے تبادلے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
یو این آئی۔ م ع
-
جموں و کشمیر4 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر7 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا7 days agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
دنیا1 week agoایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات کے المِنہاد فضائی اڈے پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کے مضافات میں پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور نے سابق فوجی کی جان لے لی
-
جموں و کشمیر4 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
-
دنیا7 days agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر4 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
دنیا7 days agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے عبوری حکم کو خارج کیا
