ہندوستان
یوپی آئی چارجز پر کانگریس نے خطرے کی گھنٹی بجائی، جے رام رمیش نے مودی حکومت پر فیس کا راستہ کھولنے کا الزام لگایا
نئی دہلی،کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے منگل کے روز نریندر مودی حکومت پر یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یوپی آئی) کے لین دین پر چارجز عائد کرنے کا راستہ کھولنے کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ترمیم شدہ پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ 2007ء کے تحت ایک حالیہ نوٹیفکیشن کے ذریعے 2,000 روپے سے زائد کی منتقلی پر فیس کے خلاف واضح قانونی تحفظ کو ختم کر دیا گیا ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ اس صورتحال نے ان کی 6 اگست 2026ء کی اس تحریری انتباہ کو درست ثابت کر دیا ہے جس میں انہوں نے یوپی آئی لین دین پر فیس کا نظام لاگو کیے جانے کے امکان پر تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اس وقت اس معاملے پر مرکزی وزیرِ خزانہ نِرملا سیتارمن نے بھی اپنا ردِعمل دیا تھا۔
جے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا، “جیسا کہ ہم نے 6 اگست 2026ء کو خبردار کیا تھا، جس پر خود وزیرِ خزانہ نے جواب دیا تھا، مودی حکومت اب پارلیمنٹ سے زبردستی منظور کرائے گئے نئے قوانین کا استعمال کرتے ہوئے یوپی آئی پر چارجز لینے کا عمل شروع کر رہی ہے۔”
کانگریس لیڈر نے کہا کہ نوٹیفکیشن میں بینکوں اور ادائیگی کی سہولت فراہم کرنے والے اداروں کو صرف 2,000 روپے سے کم کی یوپی آئی منتقلی پر چارجز وصول کرنے سے روکا گیا ہے، لیکن اس حد سے زیادہ کے لین دین پر فیس نہ لگانے کی کوئی واضح قانونی پابندی فراہم نہیں کی گئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا، “اس حد سے اوپر کی کسی بھی رقم کی منتقلی کے لیے کوئی واضح قانونی تحفظ موجود نہیں ہے،” جس کے باعث زیادہ رقم کے یوپی آئی لین دین پر فیس عائد کرنے کا قانونی راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ 2,000 روپے کی اس حد کو بھی مستقبل میں کسی دوسرے نوٹیفکیشن کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس سے صارفین کو یہ مستقل قانونی ضمانت حاصل نہیں رہے گی کہ یوپی آئی ادائیگی ہمیشہ مفت رہے گی۔
انہوں نے کہا، “ہر کسی کے لیے یوپی آئی لین دین پر فیس ادا کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ کل کو ایک اور نوٹیفکیشن کے ذریعے اس حد کو بھی بدلا جا سکتا ہے – اب قانون میں کوئی ضمانت باقی نہیں رہی۔”
جے رام رمیش نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ مستقبل کے چارجز کا دائرہ روزمرہ کے ایک شخص سے دوسرے شخص (پرسن ٹو پرسن) کی رقم کی منتقلی تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “جہاں تک ہم جانتے ہیں، حکومت روزمرہ کی آپسی منتقلی پر بھی چارج عائد کر سکتی ہے۔”
یوپی آئی ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن کر ابھرا ہے، جو موبائل ایپلی کیشنز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے فوری بینک ٹو بینک لین دین کو آسان بناتا ہے۔ اس نظام کی تیز رفتار توسیع کا بڑا سبب بلا معاوضہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی دستیابی رہی ہے، اور عام صارفین سے براہِ راست کوئی چارج نہیں لیا جاتا۔
اس تناظر میں جے رام رمیش نے حکومت پر ترمیم شدہ قانون کے اثرات پر شفافیت برتنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس قدم سے ملک کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، “مودی حکومت نے ایک بار پھر ایمانداری اور شفافیت کے مکمل فقدان کا مظاہرہ کرتے ہوئے صارفین کا اعتماد توڑا ہے۔”
جے رام رمیش نے اس مسئلے کو وسیع جیو پولیٹیکل اور معاشی زاویہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت کا یہ رویہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ہندوستانی ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو امریکی کمپنیوں کے لیے کھولنے سے جڑا ہوا ہے؟
حکومت مسلسل یوپی آئی کو ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ایک اہم ستون کے طور پر پیش کرتی رہی ہے اور ملک کے اندر اور بیرونِ ملک اس کی توسیع کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔
تاہم جے رام رمیش کے اس حالیہ حملے نے یوپی آئی چارجز کو کنٹرول کرنے والے قانونی تحفظات پر روشنی ڈالی ہے اور اس سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی مستقبل کی لاگت، صارف کے تحفظ اور ہندوستانی ادائیگیوں کے نظام میں غیر ملکی شمولیت پر ایک وسیع سیاسی بحث چھڑنے کا امکان ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
