دنیا
مغربی ایشیا میں کشیدگی کے درمیان وانگ یی اور عراقچی کے درمیان بیجنگ میں مذاکرات
بیجنگ، چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بدھ کو بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کیے۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
عراقچی ایک روزہ دورے پر سفارتی وفد کی سربراہی کرتے ہوئے بدھ کو بیجنگ پہنچے اور وانگ یی کے ساتھ ملاقات کی۔
یہ ملاقات رواں ماہ کے اواخر میں چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان متوقع ملاقات سے قبل ہوئی ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے جانے کے بعد بیجنگ میں وانگ یی اور عراقچی کی یہ دوسری بالمشافہ ملاقات ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے جولائی میں کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر بھی ملاقات کی تھی، جبکہ رواں ماہ نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس کے دوران بھی ان کی ملاقات ہوئی تھی۔
عراقچی کے دورے سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ عراقچی اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
چین اور ایران کے درمیان ’’جامع اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ قائم ہے، جس میں اقتصادی اور توانائی کے تعلقات اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ چین ایرانی تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہے، جبکہ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 41 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے تھے، جن میں سرکاری عمارتوں، فوجی تنصیبات، میزائل انفراسٹرکچر اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے جواباً اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
اس کے بعد تنازع پورے خطے میں پھیل گیا، جبکہ جنگ بندی اور دشمنانہ کارروائیوں کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں ایران کے وفد کی قیادت کی۔ اجلاس کے موقع پر عراقچی اور وانگ یی کو مختصر گفتگو کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
چین کے ساتھ حالیہ روابط کے دوران پزشکیان نے بیجنگ کے ساتھ ریت اور گرد کے طوفانوں اور صحرائی پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے پانچ سالہ ایکشن پلان تیار کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
یہ تجویز ایران اور چین کے درمیان 2025 میں لانژو میں دستخط کیے گئے مفاہمت کی یادداشت کے بعد سامنے آئی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت صالحیہ ویٹ لینڈ، جو ایران کے البرز، قزوین اور تہران صوبوں کو متاثر کرنے والی گرد کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور تباس صحرا کو مشترکہ منصوبوں کے لیے پائلٹ علاقوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
پزشکیان نے ایرانی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ چینی اکیڈمی آف سائنسز کے ساتھ قریبی تعاون کریں اور مجوزہ منصوبے کے تحت تحقیق اور اقدامات کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔
خشک اور نیم خشک ملک ایران کو مسلسل بڑھتی ہوئی خشک سالی، کم ہوتی بارش اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں صحرائی پھیلاؤ اور گرد کے طوفانوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حالات نے زراعت، عوامی صحت اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔
ایران نے اس مسئلے پر بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی بھی کوششیں کی ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے جولائی میں نیویارک میں ریت اور گرد کے طوفانوں سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی تھی۔
ایروانی نے گرد کے طوفانوں کو صحت، غذائی تحفظ، نقل و حمل، معیشت اور ماحولیات کو متاثر کرنے والا عالمی چیلنج قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹیکنالوجی اور مالی وسائل تک رسائی سمیت دیگر اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2023 میں ایران کی تجویز کے بعد 12 جولائی کو ’’ریت اور گرد کے طوفانوں سے نمٹنے کے عالمی دن‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن کی فوج کے تعز میں حوثیوں کے میزائل ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے
صنعاء، یمن کی فوج نے جمعرات کو تعز صوبے میں حوثی باغیوں کے میزائل لانچروں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے یہ اطلاع ایسے وقت دی ہے جب لڑائی میں شدت آرہی ہے اور اقوام متحدہ نے بے گھر افراد کے بڑھتے ہوئے بحران سے خبردار کیا ہے۔
یمن سیٹلائٹ چینل کے مطابق، جنوب مغربی صوبے تعز کے مغربی، جنوبی اور مشرقی علاقوں میں حوثیوں کے متعدد ٹھکانوں پر حملے کیے گئے۔ ان میں رڈار نظام، فوجی مواصلاتی آلات اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی تنصیبات شامل ہیں۔
یہ حملے حوثیوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے حکومت کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے دوران کیے گئے ہیں۔ حوثیوں کا شمالی اور مغربی یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول ہے۔
حکومتی فورسز نے حالیہ دنوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف سیکڑوں کارروائیاں کرنے کی اطلاع دی ہے۔
فوجی ترجمان ماجد النزیلی نے کہا کہ سرکاری فورسز نے 835 اہدافی کارروائیاں کیں، جن میں 285 حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ ٹینکوں اور اسلحہ کے گوداموں کو تباہ کردیا گیا۔
اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جبل حان کے پہاڑی علاقوں کے علاوہ ذباب اور المسراخ اضلاع کے اطراف شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ ایک سرکاری فوجی ذریعے نے یہ بھی بتایا کہ تعز کے جنوب میں معافر ضلع میں حوثیوں کے اجتماع اور بنیادی ڈھانچے کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
یمنی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیوں کا دائرہ حوثیوں کی ریلیوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ حکومت کا الزام ہے کہ حوثی ان اجتماعات کو بچوں کی بھرتی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ وزارت دفاع نے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریلیوں اور ان سرگرمیوں سے دور رہیں جنہیں حوثی ”ثقافتی کورس” قرار دیتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (اوچا) کے مطابق، اگست سے اب تک بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں، جن میں سے تقریباً نصف نے تعز میں پناہ لی ہے۔
اوچا نے بدھ کی دیر شب جاری کردہ رپورٹ میں بتایا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے شہریوں کے جانی نقصان کے 251 واقعات کی تصدیق کی ہے، جن میں 57 افراد ہلاک اور 194 زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں نصف بچے تھے۔
اوچا نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے اگست سے اب تک 1 لاکھ 74 ہزار سے زیادہ بے گھر افراد تک امداد پہنچائی ہے۔ انہیں خوراک، حفظانِ صحت کی کٹس اور ہنگامی نقد امداد فراہم کی گئی ہے۔
ادارے کے مطابق، حال ہی میں بے گھر ہونے والے خاندانوں نے پناہ گاہ کو اپنی سب سے فوری ضرورت قرار دیا ہے، جس کے بعد خوراک اور نقد امداد کی ضرورت ہے۔
دریں اثنا، یمن کی وزارت تعلیم نے بتایا ہے کہ تنازع کے باعث 25 لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
تازہ لڑائی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے قبضے والے علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعاء، کو واپس لینے کے لیے رواں ماہ کے اوائل میں شروع کیے گئے جوابی فوجی آپریشن ”یمن کی صبح” کو تیز کردیا ہے۔ اس کارروائی میں سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔
یمن کا تنازع اب علاقائی کشیدگی سے بھی جڑتا جارہا ہے۔ حوثی سعودی اہداف پر حملے کررہے ہیں، جبکہ سعودی عرب کو بار بار ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔
سعودی عرب کی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے جمعرات کو بتایا کہ بدھ کی شام دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ سعودی حکام نے ایسے متعدد حملوں کا الزام حوثی تحریک پر عائد کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، امریکہ نے بھی ریاض میں اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ خطے میں دشمنانہ کارروائیوں میں تیزی سے اضافے کا امکان ہے۔
یمنی حکومت نے حوثیوں پر بدھ کو عدن اور الریان ہوائی اڈوں پر حملے کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے مبینہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے حوثی گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی اپیل کی۔
یمن 2014 سے تنازع کی لپیٹ میں ہے، جب حوثیوں نے صنعاء اور دیگر صوبوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ مارچ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا آبنائے ہرمز میں چار جہازوں پر حملے کا دعویٰ، تین دیگر بحری جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرائے
تہران، ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ اس نے خلیج فارس میں تیل کی منتقلی کرنے والے چار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، کیونکہ وہ آبنائے ہرمز میں ایسے بحری راستوں سے گزر رہے تھے جنہیں تہران غیر مجاز قرار دیتا ہے۔ تنظیم کے مطابق، تین دیگر جہاز بھی آبنائے ہرمز میں اسی ”غیر مجاز” راستے سے گزرتے ہوئے بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔
آئی آر جی سی کی بحریہ نے کہا کہ اس نے ان چار جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی تھی، جو اس کے بقول ”غیر قانونی راستے” سے گزرے تھے۔ اس سے مراد عمان کے قریب جنوبی بحری راستے ہیں، جنہیں امریکہ نے تجارتی جہازوں کو ایرانی فیس اور پابندیوں سے بچانے کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دی ہے۔
آئی آر جی سی نے ایک بیان میں کہا، ”ہم نے خلیج فارس کے شمالی وسطی حصے میں جہاز سے جہاز میں تیل منتقل کرنے والے ان بحری جہازوں کا پتہ لگایا۔ چاروں جہازوں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا اور ان میں آگ لگ گئی ہے۔”
تنظیم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی جانب سے تسلیم نہ کیے جانے والے راستوں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تین دیگر جہاز آبنائے ہرمز کے مغرب میں بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے بعد ان میں آگ لگ گئی اور انہیں سفر روکنا پڑا۔
آئی آر جی سی نے ان واقعات کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہراتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکی فوج جہازوں کو بارودی سرنگوں والے پانیوں سے گزرنے کی ہدایت دے رہی ہے۔ اس نے خبردار کیا کہ امریکہ کی مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں پورے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے ہو سکتے ہیں۔
ایران عمان کے قریب جنوبی بحری راہداری کو غیر قانونی سمجھتا ہے، جسے تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے مختص کیا گیا ہے اور امریکہ اس کی حفاظت کر رہا ہے۔
یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز کے آس پاس بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔
بدھ کو برطانیہ کے ادارے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے اطلاع دی تھی کہ عمان کے علاقے بَخا کے قریب ایک آئل ٹینکر پر نامعلوم سمت سے آنے والا ایک پروجیکٹائل گرا۔
اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو سات بحری جہازوں کو نقصان پہنچنے کا یہ واقعہ 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد خلیج میں ایک ہی دن کے دوران جہازوں کو پہنچنے والا سب سے بڑا نقصان ہوگا۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کی جانب سے سات آئل ٹینکروں کو ایرانی فورسز یا سمندری بارودی سرنگوں سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 3.2 فیصد بڑھ کر 112.27 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 99.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
حالیہ دنوں میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کے آس پاس رہی ہے۔ اس کی وجہ تنازع ختم ہونے کے وقت اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل معمول پر آنے کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورت حال ہے۔
عالمی حصص بازاروں میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔ یورپ میں کاروبار کے ابتدائی اوقات میں جرمنی کا ڈیکس انڈیکس 1.1 فیصد گر کر 25,367.96 پوائنٹس پر آ گیا، فرانس کا سی اے سی 40 انڈیکس 1.3 فیصد کمی کے ساتھ 7,816.67 پوائنٹس پر رہا، جبکہ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس 0.7 فیصد گر کر 10,678.67 پوائنٹس پر آ گیا۔
امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی کمزوری دیکھی گئی۔ ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں ایک فیصد جبکہ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج کے فیوچرز میں 0.7 فیصد کی کمی درج کی گئی۔
حملوں کے باوجود تجارتی انٹیلی جنس کمپنی کیپلر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کو چھوڑ کر خلیج فارس کے دیگر ممالک سے خام تیل کی برآمدات، متبادل پائپ لائنوں کے ذریعے بھیجی جانے والی ترسیل سمیت، جنگ سے پہلے کی سطح سے تجاوز کر گئی ہیں۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
