جموں و کشمیر
نوجوانوں کے صبر کا امتحان لینا بند کریں، جواب دہ حکمرانی پر توجہ دیں: جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے سربراہ
جموں، نوجوانوں سے جموں و کشمیر کے مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے بدھ کو کہا کہ بامعنی سیاسی تبدیلی اسی وقت آ سکتی ہے جب نوجوان نسل خطے کے سیاسی اور سماجی معاملات کی ذمہ داری سنبھالے۔
بخاری اپنی پارٹی کے گاندھی نگر واقع صدر دفتر میں منعقدہ شمولیتی پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔
نئے شامل ہونے والے افراد کے تناظر میں بات کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ نوجوان معاشرے کا سب سے اہم طبقہ ہیں اور انہیں سیاسی معاملات میں محض تماشائی بن کر نہیں رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’آپ کو تبدیلی لانی ہوگی۔ جب تک آپ تبدیلی نہیں لائیں گے، جموں و کشمیر کی سیاست بھی بہتر نہیں ہوگی۔‘‘ انہوں نے نوجوانوں سے عوامی زندگی میں فعال طور پر حصہ لینے کی اپیل کی۔
بخاری نے کہا کہ نوجوان نسل کو جموں و کشمیر کے مستقبل کی ذمہ داری سنبھالنی ہوگی اور سیاسی توجہ ان مسائل پر مرکوز کرنی ہوگی جو براہ راست ان کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔
سابق این ایس یو آئی جوائنٹ سکریٹری ٹیبلین بوبارائی کے ساتھ تقریباً 200 نوجوانوں اور ارنیا کے تقریباً 100 سرکردہ شہریوں نے ان کی قیادت میں اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔
پروگرام کا انعقاد جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے جموں صوبائی صدر منجیت سنگھ نے کیا تھا۔
نئے شامل ہونے والے افراد کا خیرمقدم کرتے ہوئے بخاری نے تولین سنگھ اور شمولیت اختیار کرنے والے دیگر افراد کو مبارکباد دی اور اعتماد ظاہر کیا کہ ان کی شمولیت سے نچلی سطح پر پارٹی مزید مضبوط ہوگی۔
تولین نے کہا کہ اپنی پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ عوام کو درپیش مسائل کے بارے میں کھل کر بات کرنے پر پارٹی کی توجہ سے متاثر ہو کر کیا گیا ہے۔
بخاری نے نئے شامل ہونے والے افراد سے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنی پارٹی میں کسی فرد یا خاندان کے ملازم بننے کے لیے شمولیت اختیار نہیں کی ہے بلکہ انہیں عوام کی خدمت کے لیے ایک سیاسی پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ عوام کی پارٹی ہے، عوام کے لیے ہے۔‘‘ انہوں نے نئے ارکان سے اپنے اپنے علاقوں کی برادریوں سے جڑے رہنے کی اپیل کی۔
شمولیتی پروگرام کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے بخاری نے جموں و کشمیر کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیل سے بات کی، جن میں صحت، بے روزگاری، ریاست کا درجہ بحال کرنا، بجلی، حکمرانی اور سیاسی جواب دہی نمایاں رہے۔
قومی صحت مشن (این ایچ ایم) کے ملازمین کی جاری ہڑتال اور معاوضے میں اضافے کے مطالبے پر بخاری نے ان کے مطالبے کو جائز قرار دیا اور انتظامیہ سے بیدار ہونے اور ان کی شکایات کا ازالہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے محکمہ صحت کے کام کاج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کے سربراہ ہونے کے ناطے چیف سکریٹری کو صحت کے شعبے کو درپیش مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور اصلاحی اقدامات یقینی بنانے چاہئیں۔
یکساں سول کوڈ (یو سی سی) سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بخاری نے کہا کہ فوری تشویش جموں و کشمیر کے لوگوں کی زندگی اور بہبود ہونی چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بنیادی صحت خدمات ہی ناکافی ہیں تو وسیع تر سیاسی بحث کو اتنی ترجیح کیوں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یو سی سی ان لوگوں کے لیے ہے جو زندہ رہیں گے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ ان کی فوری تشویش یہ یقینی بنانا ہے کہ لوگوں کو اسپتال، ڈاکٹر اور ضروری طبی خدمات دستیاب ہوں۔
منتخب حکومت کے تقریباً 2 سال مکمل ہونے کے قریب پہنچنے پر اس کی کارکردگی کے بارے میں بخاری نے الزام لگایا کہ حکومت نے ابتدا ہی سے ’’اپنی سمت کھو دی‘‘ ہے اور عوام کے بنیادی مسائل کو مناسب طریقے سے حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے اپوزیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو عام شہریوں سے متعلق مسائل پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ سیاسی بیان بازی میں الجھے رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایسے وعدے کرنے چاہئیں جو عملی اور قابل حصول ہوں، نہ کہ ایسے وعدے جنہیں حقیقت میں پورا کرنا ممکن نہ ہو۔ روزگار کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوان مواقع کی تلاش میں ہیں اور روزگار اور ذریعہ معاش کے مواقع فراہم کرنا کسی بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر بخاری نے کہا کہ بات چیت اور قائل کرنے کے راستے پر چلنے کے علاوہ ’’کوئی دوسرا راستہ نہیں‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹکراؤ سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور سیاسی قیادت کو مرکزی حکومت کے سامنے معقول اور قابل قبول مؤقف پیش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا ہندوستانی یونین کے ساتھ طویل تاریخی اور آئینی تعلق رہا ہے اور ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کو جمہوری طریقے سے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
مجوزہ کل جماعتی اجلاس اور کیا اس سے کوئی اہم فیصلہ ہو سکتا ہے، اس سوال پر بخاری نے کہا کہ سیاسی اجلاسوں میں آخرکار عوام کو متاثر کرنے والے معاملات پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملازمین، طلبہ، صحت، ٹیکس اور عوامی بہبود سے متعلق مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دی جانی چاہیے۔
مالی بوجھ اور ٹیکس سے متعلق سوالات پر بخاری نے کہا کہ حکومت کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا کرنے والے ملازمین، طلبہ اور دیگر طبقات پر مزید بوجھ ڈالنے سے محتاط رہنا چاہیے۔ انہوں نے خاص طور پر صحت کے شعبے سے وابستہ اہلکاروں اور انٹرن ڈاکٹروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جائز تشویش کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔
صحت کا شعبہ ذرائع ابلاغ سے بخاری کی بات چیت کا ایک اہم موضوع رہا۔ انہوں نے وجے پور میں ایمس قائم کرنے پر بی جے پی کی جانب سے اپنی پیٹھ تھپتھپانے پر بھی تنقید کی، جبکہ وہاں سے مریضوں کو سرکاری میڈیکل کالج جموں بھیجا جا رہا ہے۔
انہوں نے صحت کے اداروں کے کام کاج کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انسانی زندگی سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، ’’صحت کی سہولت ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ دور دراز اور پہاڑی علاقوں کے لوگوں کو اپنے گھروں کے قریب ضروری طبی خدمات دستیاب ہونی چاہئیں۔
عوام کے وسیع تر مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر کو غیر حقیقت پسندانہ وعدوں کی نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضروریات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم چاند اور ستارے نہیں مانگتے۔ ہم زندگی کی بنیادی ضروریات مانگتے ہیں۔‘‘ انہوں نے صحت، روزگار، پینے کا پانی اور بجلی کو عوام کی بنیادی ضروریات میں شمار کیا۔
انہوں نے صارفین پر بجلی کے بوجھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر شمالی بجلی گرڈ کو بجلی فراہم کرتا ہے، جبکہ خطے کے عام لوگوں کو اب بھی بجلی کے زیادہ بلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے نل کے پانی سے متعلق اعلانات اور مختلف علاقوں میں حقیقتاً پینے کے پانی کی دستیابی کے درمیان فرق پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ صاف پینے کے پانی تک رسائی کو محض سیاسی نعرے کے بجائے عوام کی بنیادی ضرورت سمجھا جانا چاہیے۔
بخاری نے سرکاری دفاتر میں بدعنوانی اور تاخیر کے الزامات بھی اٹھائے اور کہا کہ جائز سرکاری خدمات حاصل کرنے کے لیے شہریوں کو غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے انتظامی جواب دہی اور شفافیت بڑھانے کا مطالبہ کیا۔
اس سوال پر کہ اپنی پارٹی کو بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ کہا جاتا ہے اور اس کے مرکزی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، بخاری نے اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی رہنماؤں سے ملاقات سیاسی تابعداری کے مترادف نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کو وزیر اعظم اور دیگر مرکزی رہنماؤں سے ملاقات کرکے عوام کے مسائل ان کے سامنے رکھنے کا پورا حق ہے۔ ان کے مطابق مرکزی حکومت کے ساتھ رابطہ جمہوری سیاست کا حصہ ہے اور اسے خود بخود منفی انداز میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
الزامات کا جواب دیتے ہوئے بخاری نے کہا کہ ان کی پارٹی کسی سیاسی خاندان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔
انہوں نے پھر کہا کہ اپنی پارٹی کا مقصد عوام کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے اور دعویٰ کیا کہ اس کی طاقت اس کے کارکنوں اور عوامی حمایت سے آتی ہے۔
ریزرویشن اور مختلف زمروں سے متعلق مجوزہ تبدیلیوں کے سوال پر بخاری نے کہا کہ اس معاملے پر سیاسی بیانات کے بجائے تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ریزرویشن کے فوائد کس طرح تقسیم کیے جانے چاہئیں اور کیا یہ فوائد مخصوص خاندانوں یا افراد تک ہی محدود رہنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ اس پر تفصیلی سیمینار اور وسیع عوامی بحث ہونی چاہیے۔
نیشنل کانفرنس میں ممکنہ سیاسی تبدیلیوں سے متعلق قیاس آرائیوں پر بخاری نے کہا کہ انہیں کوئی ’’آسمان ٹوٹنے‘‘ جیسی صورت حال نظر نہیں آتی اور کہا کہ اگر ایک شخص استعفیٰ دیتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسری سیاسی جماعت کے اندرونی معاملات کا فیصلہ بالآخر اسی جماعت کو کرنا ہے۔
بخاری نے جموں و کشمیر میں جمہوری سیاست کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اور اپوزیشن کو جمہوری طریقوں سے آگے بڑھایا جانا چاہیے اور حکومت کی مخالفت کا مطلب جمہوری اداروں کی مخالفت نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی عوام سے متعلق مسائل اٹھاتی رہے گی اور ان پالیسیوں کی مخالفت کرے گی جنہیں وہ عوامی مفاد کے خلاف سمجھتی ہے، جبکہ جمہوری عمل کے لیے اپنی وابستگی برقرار رکھے گی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
