ہندوستان
ہندوستان-بھوٹان کے درمیان توانائی منصوبوں کے لیے 4000 کروڑ روپے کی رعایتی قرض سہولت
نئی دہلی، ہندوستان اور بھوٹان نے توانائی منصوبوں کے لیے 4000 کروڑ روپے کی رعایتی قرض سہولت سے متعلق معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ دونوں ممالک نے پن بجلی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور بھوٹان میں ہندوستانی کمپنیوں کی شرکت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔
وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز بتایا کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے 16 سے 18 ستمبر تک بھوٹان کا سرکاری دورہ کیا۔ اس دوران دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
دورے کے دوران مشترکہ طور پر پانچ ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح یا آغاز کیا گیا۔ ان میں مونگر میں 65 بستروں پر مشتمل گیالٹسون جیتسون پیما مدر اینڈ چائلڈ اسپتال، بھوٹان کے نیشنل اینیمل بریڈنگ سینٹر کے لیے ہندوستان سے 43 جرسی گایوں کی منتقلی، مشرقی بھوٹان میں جگناتھنگ پل، بھوٹان حکومت کو 54 الیکٹرک گاڑیاں فراہم کرنا اور 500 کلوواٹ کے لونا نا پن بجلی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنا شامل ہے۔
دونوں ممالک نے مارچ 2024 میں طے کیے گئے توانائی شراکت داری کے مشترکہ وژن کو نافذ کرنے میں ہوئی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں فریقوں نے 1020 میگاواٹ کے پونتسانگ چھو-2 پن بجلی منصوبے کے افتتاح اور اس کے ٹیرف پروٹوکول پر دستخط کے ساتھ ساتھ 1200 میگاواٹ کے پونتسانگ چھو-1 منصوبے میں ڈیم کی تعمیر دوبارہ شروع ہونے کا بھی ذکر کیا۔
بھوٹان نے اپنے 13ویں پانچ سالہ منصوبے (2024-29) کے تحت ہندوستان کی حمایت کی ستائش کی۔ ہندوستان نے بھوٹان کے ترقیاتی اہداف اور ترجیحات کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں ممالک نے بھوٹان میں توانائی منصوبوں کے لیے 4000 کروڑ روپے کی رعایتی قرض سہولت سے متعلق معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بھوٹان میں پن بجلی منصوبوں میں ہندوستانی کمپنیوں کی فعال شرکت کا بھی خیرمقدم کیا۔
دونوں فریقوں نے گیلیفو مائنڈفلنس سٹی سے متعلق تعاون کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ہندوستان نے آسام کے ہاتیسار میں امیگریشن چیک پوسٹ قائم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ بھوٹان نے گیلیفو کے سامنے ہاتیسار میں تیسرے ممالک کے شہریوں کی آمد و رفت کے لیے خصوصی عارضی امیگریشن سہولت قائم کرنے کے ہندوستان کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ یہ سہولت آئندہ یکم نومبر سے پروجیکٹ 108 چورتن/ستُوپ کے لیے دستیاب ہوگی۔
ہندوستان اور بھوٹان کے درمیان تجارت، کاروبار اور ٹرانزٹ معاہدے کی تجدید پر بات چیت جاری ہے۔ بھوٹان نے ہندوستان کی جانب سے حال ہی میں بھوٹان سے 17 اقسام کی عمارتی لکڑی کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے کی ستائش کی۔ بھوٹان نے عالمی سطح پر سپلائی میں رکاوٹوں کے درمیان پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے بھی ہندوستان کا شکریہ ادا کیا۔
دونوں ممالک نے آسام کے سمرنگ میں نئے لینڈ کسٹمز اسٹیشن کے آغاز کا خیرمقدم کیا۔ گیلیفو-کوکراجھار اور سامتسے-بنارہاٹ سرحد پار ریلوے رابطے قائم کرنے کی سمت پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بھوٹانی شہریوں کے لیے ہندوستان میں بھوٹانی موبائل ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت شروع کیے جانے کا دونوں فریقوں نے خیرمقدم کیا۔ خلائی شعبے میں تعاون جاری رکھنے اور گلیشیئرز، جنگلاتی وسائل، سیلاب اور زراعت جیسے شعبوں میں سیٹلائٹ ڈیٹا کے استعمال پر بھی زور دیا گیا۔
تعلیم کے شعبے میں ہندوستان نے بھوٹانی طلبہ کے لیے انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز کی اسکالرشپ کے تحت نشستیں 30 سے بڑھا کر 60 اور نالندہ یونیورسٹی اسکالرشپ اسکیم کے تحت نشستیں 30 سے بڑھا کر 55 کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نہرو-وانگچک اسکالرشپ سے متعلق معاہدے کی بھی تجدید کی جائے گی۔
ہندوستان نے 2028-29 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کے لیے اپنی امیدواری کی حمایت کرنے پر بھوٹان کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں ممالک نے علاقائی اور عالمی حالات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے بھوٹان کے وزیر خارجہ و بیرونی تجارت کو اپنی سہولت کے مطابق ہندوستان آنے کی دعوت دی۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
