ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے 20 ویں روزگار میلے میں مختلف سرکاری تنظیموں میں نو منتخب ملازمین میں 51,000 سے زائد تقرر نامے تقسیم کیے اور کہا کہ ملک کی نوجوان طاقت ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے۔
مسٹر مودی نے نوجوان ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ روزگار میلہ نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے حکومت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیت اور ہنر نے دنیا کا اعتماد حاصل کیا ہے اور دنیا کو ملک کی توانائی بخش نوجوان طاقت سے بڑی امیدیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد تجارت کے معاہدے نوجوانوں کے لیے مواقع کے نئے راستے کھول رہے ہیں، معاہدے ہمارے تاجروں کے لیے نئی شراکت داریوں اور منڈیوں کا راستہ بناتے ہیں، ساتھ ہی ہمارے نوجوانوں کے لیے کریئر کے نئے امکانات بھی پیدا کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان ابھی دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ نظام ہے۔
اس کے علاوہ، ہندوستان کی اسٹارٹ اپ کہانی اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہے۔ آج تقریباً آدھے تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ ٹیئر-2 اور ٹیئر-3 شہروں میں واقع ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا، ”روزگار سے جڑی کامیابی ہزاروں خاندانوں کے لیے بڑی خوشی لے کر آتی ہے۔ یہ امیدواروں کی ذاتی محنت اور ان کے والدین کی طرف سے کی گئی بڑی قربانیوں، دونوں کو عزت دینے کا موقع ہے۔ میں زندگی کی اس نئی شروعات کے لیے آپ سب کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔“ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے بڑے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس میں نئے مقرر ہونے والے نوجوانوں کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر انتظامی فیصلے کے ذریعے نوجوانوں کو مسلسل ترقی یافتہ اور خود کفیل ہندوستان کی دونوں مہمات کو مضبوط کرنا ہے۔
حال ہی میں ختم ہوئے برکس سربراہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی حکمت عملی بین الاقوامی تعاون کو صرف روایتی حکومت سے حکومت کے تعلقات سے بہت آگے لے جانے کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برکس کنیکٹ اور برکس ایم ایس ایم ای تعاون پورٹل جیسے اقدامات تاجروں، کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کو براہ راست عالمی شراکت داریوں سے جوڑنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”ہر شخص کو اس شراکت داری میں سرگرم حصہ دار بننا چاہیے۔“ گزشتہ کچھ برسوں کی اقتصادی سفارت کاری کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تقریباً 40 ممالک کے ساتھ کیے گئے آزادانہ تجارت کے معاہدے روزگار اور کریئر کے نئے امکانات کھول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے ملک کے تاجروں کے لیے نئی منڈیاں اور نئی شراکت داریاں بنا رہے ہیں اور نوجوانوں کے لیے کریئر کے مواقع کو وسعت دے رہے ہیں۔
مستقبل کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو ہنر مند بنانے پر حکومت کی مسلسل توجہ کے بارے میں بتاتے ہوئے وزیراعظم نے قومی تعلیمی پالیسی، اسکل انڈیا مشن، پی ایم کوشل وکاس یوجنا اور اپرنٹس شپ کو فروغ دینے کی کوششوں جیسے اہم اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے پی ایم سیتو یوجنا کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت 60,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ 1,000 سرکاری آئی ٹی آئیز کو جدید بنایا جا رہا ہے اور اس میں صنعتوں کی براہ راست شرکت بھی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ نوجوانوں کی تعلیم اور ہنر بدلتی معیشت کی ضروریات کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں۔ ملک میں اسٹارٹ اپ کے تیز تر نظام کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تقریباً آدھے تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ ٹیئر-2 اور ٹیئر-3 شہروں سے ہیں۔
انہوں نے چھوٹے شہروں کے نوجوانوں کی بھی تعریف کی، جو اپنے خیالات پر سرگرمی سے کام کر رہے ہیں، کمپنیاں بنا رہے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ نجی شعبے میں روزگار بڑھانے کی حکمت عملی بتاتے ہوئے وزیراعظم نے پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا کا ذکر کیا۔ یہ ایک لاکھ کروڑ روپے کا بڑا اقدام ہے، جس کا ہدف دو کروڑ نوجوانوں کو پہلی بار باضابطہ روزگار کے نظام میں شامل کرنا ہے۔ روزگار کی تخلیق کو معیشت کی مضبوط صورتحال سے جوڑتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے نئے مواقع تب ہی پیدا ہوتے ہیں جب معیشت بڑھتی ہے، سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور نئی صنعتوں کی توسیع ہوتی ہے۔
نئے حکام کو مسلسل انتظامی تبدیلیوں کے دور کو اپنانے کی ہدایت دیتے ہوئے وزیراعظم نے ٹیکس قوانین کی تعمیل کو آسان بنانے، کاروبار کو آسان بنانے، تعلیم اور ہنر مندی کے شعبے میں اصلاحات نافذ کرنے اور نئے شعبوں کو جدت طرازی کے لیے کھولنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے نوجوان حکام کو ذمہ داری دی کہ ان کے دورِ ملازمت کے دوران حکومت میں اصلاحات کی رفتار رکنی نہیں چاہیے۔ مسٹر مودی نے کہا، ”یہ ضروری ہے کہ ملک میں اصلاحات کی ایکسپریس مسلسل پوری رفتار سے چلتی رہے۔“
وزیراعظم نے کہا کہ ہر فائل پر کیا گیا دستخط اور ہر انتظامی فیصلہ ایسا ہونا چاہیے جو رکاوٹوں کو دور کرے، خیالات کو آگے بڑھنے کا موقع دے اور جدت طرازی پر مبنی سرمایہ کاری کو فروغ دے، جس سے بالآخر روزگار پیدا ہو۔ وزیراعظم نے ان سے حکومت کے نظام میں ملنے والی نئی طاقت کا استعمال گہری حساسیت کے ساتھ کرنے کو کہا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ سروس میں آنے سے پہلے انہوں نے جن انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کیا، انہیں خود دور کرنے کی کوشش کریں۔ مسٹر مودی نے کہا، ”آپ کی کوشش ایسی ہونی چاہیے کہ جن مشکلات سے آپ گزرے ہیں، دوسرے نوجوانوں کو ان مشکلات سے نہ گزرنا پڑے۔“
تیزی سے بدلتی دنیا میں زندگی بھر سیکھتے رہنے کی سوچ کو فروغ دیتے ہوئے وزیراعظم نے نئے ملازمین کو مسلسل اپنے ہنر کو بہتر بنانے اور مشن کرم یوگی کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ نئے حکام تمام شعبوں میں مکمل لگن اور سچی لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ مسٹر مودی نے کہا، ”آپ کی کامیابی تب اور بڑی ہوگی، جب آپ کے کام سے کسی شہری کی زندگی آسان ہوگی۔“
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
