ہندوستان
معیشت میں نجی سرمایہ کاری رفتار پکڑ رہی ہے، سرکاری کام میں تاخیر کا پرانا تصور بدل رہا ہے: سیتا رمن
نئی دہلی، وزیر مالیات نرملا سیتا رمن نے منگل کے روز کہا کہ معیشت میں اس وقت نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے اور سرکاری کام کاج کی آج کی رفتار نے اس پرانے تصور کو بدل دیا ہے کہ انتظامی کام ہے تو تاخیر ہوگی ہی مسز سیتا رمن یہاں مینجمنٹ کے شعبے کے اعلیٰ ادارے – آل انڈیا مینجمنٹ ایسوسی ایشن (اے آئی ایم اے) کی 53ویں آل انڈیا مینجمنٹ کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے اندازاً سرمائے کے اخراجات کو 2026-27 میں بڑھا کر 12 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کر دیا گیا ہے۔ مؤثر سرمائے کا خرچ، جس میں ریاستوں کو سرمائے کے اثاثے بنانے کے لیے مرکز کی طرف سے دی جانے والی گرانٹس بھی شامل ہیں، 17 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہو گیا ہے۔
محترمہ سیتا رمن نے کہا، “حکومت نے نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور اسے راغب کرنے کے مقصد سے عوام کے سرمائے کے اخراجات کا حکمت عملی کے تحت استعمال کیا ہے اور اس کے نتیجے میں نجی سرمایہ کاری میں اضافہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔” انہوں نے کہا کہ مالیاتی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی مستحکم سرمائے کی تشکیل مجموعی گھریلو پیداوار کے 34 فی صد سے زیادہ ہو گئی۔
اس میں حقیقی طور پر تقریباً 12 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جب کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں صلاحیت کا استعمال بڑھ کر 75 فی صد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کو اس آپریشنل رفتار سے دوہری (بینکوں اور کمپنیوں کی) بیلنس شیٹ کے مسئلے (بینک کا قرض نہ چکا پانے والی کمپنیوں کو بینکوں سے قرض پر قرض ملنے کا مسئلہ) کے حل سے طاقت ملی ہے۔ انہوں نے کہا، “آج ہندوستان دوہری بیلنس شیٹ کے فائدے کی صورتحال میں ہے—تجارتی بینکوں کے پاس قرض دینے کے لیے کافی سیالیت ہے اور کمپنیوں کی مالی حالت سرمایہ کاری کرنے کے لیے کافی مضبوط ہے۔”
وزیر مالیات نے کہا کہ صنعت کے شعبے کے لیے بینک قرض کی نمو میں بھی تیزی آئی ہے۔ اس سال جون میں بینکوں کے قرض کے کاروبار میں سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ قرض ان لوگوں اور شعبوں تک پہنچ رہا ہے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔ مسز سیتا رمن نے کہا کہ دوسرے ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے آزادانہ تجارتی معاہدے (مختلف ایف ٹی ایز) ہندوستان کی محنت طلب اشیاء اور خدمات کے لیے نئی منڈیوں کے دروازے کھول رہے ہیں۔ انہوں نے تجارتی شعبے کو اس موقع کا فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔
محترمہ سیتا رمن نے اس کانفرنس کے موضوع – ‘مستقبل کے لیے تبدیلی: ثبات کے ساتھ نمو’ پر اپنے خطاب میں حکومت کے مختلف شعبوں میں کام کی رفتار میں تیزی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہم بندرگاہوں پر جہازوں میں اینٹری اور ایگزٹ کا وقت ایک دہائی میں تقریباً آدھا ہو گیا ہے، ریل نیٹ ورک اب تقریباً پوری طرح سے برقی ہو چکا ہے اور مال برداری بڑھ کر ریکارڈ 1.67 کروڑ ٹن تک پہنچ گئی ہے نیز ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ذریعے اگست 2026 میں روزانہ اوسطاً تقریباً 79 کروڑ لین دین ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستیں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہی ہیں اور اس مقابلے کے نتیجے میں اعلیٰ قدر والی سرگرمیاں کوئمبٹور، وڈودرا، وشاکھاپٹنم، اندور، بھوبنیشور اور جے پور جیسے ٹائر-2 اور ٹائر-3 مراکز تک پھیل رہی ہیں۔ سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 بھی اسی ماڈل پر مبنی ہے، جس میں مرکز کے تیار کردہ فریم ورک کے ساتھ ریاستوں کے ذریعے مؤثر عمل آوری کو جوڑا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جولائی 2024 میں اقتدار میں واپس آنے کے بعد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں اصلاحات اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر زور دیا، جس سے بالآخر روزگار اور روزی روٹی کے مواقع بڑھتے ہیں۔ اس سے ہمیں ترقی اور مضبوطی مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلی بار نوکری دینے پر انسیٹو دیا، آلات کار کے ریٹائرمنٹ کنٹری بیوشن کا کچھ حصہ بھرا اور کارپوریٹ انٹرنشپ شروع کی – یہ تمام ‘روزگار سے جڑے انسیٹو’ (ای ایل آئی) اسکیموں کے تحت کیے گئے۔
وزیر مالیات نے کہا کہ مالیاتی سال 2025-26 کے بجٹ میں انکم ٹیکس کی شرحوں میں کٹوتی کی گئی اور سلیب کا دائرہ بڑھایا گیا، جس سے خرچ کرنے کے قابل آمدنی اور کل مانگ میں اضافہ ہوا۔ ہمارا مقصد صرف اپنانا نہیں، بلکہ قیادت کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے مینجمنٹ کی دنیا کو نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا، “دہائیوں سے ہم نے ‘کائیزن’ سے لے کر ‘لین مینوفیکچرنگ’ تک دوسری جگہوں پر تیار کردہ مینجمنٹ کے طریقوں سے سیکھا ہے۔ اگلا قدم اپنے یہاں مینجمنٹ کے ایسے طریقے بنانا ہے جن کا دنیا مطالعہ کرے اور ایسے معیارات قائم کرنے ہیں جو عالمی اصول بن جائیں۔”
وزیر مالیات نے کہا، “اس کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہوگی۔ ایک ملک کے طور پر ہم مکمل طور پر اہل ہیں؛ ہمیں خود پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے۔” انہوں نے کہا کہ آج کے منیجرز کو جیو پولیٹیکل اسباب سے سپلائی چینز کے خطرات، موسمیاتی خطرات، بیہیویئرل سائنس، ڈیٹا اور ریگولیٹری و ٹیکنالوجی پر مبنی پروجیکٹ مینجمنٹ کے بارے میں گہری سمجھ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پیش نظر اے آئی ایم اے کو پوری انڈسٹری میں نصاب کی اصلاح کا اقدام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، “ہمیں ایسے لیڈرز تیار کرنے ہوں گے جو الگ الگ شعبوں کو آپس میں جوڑ سکیں۔ جب ہم 2047 تک ‘ترقی یافتہ ہندوستان’ کی سمت میں کام کر رہے ہیں، تو ہندوستانی مینجمنٹ کے طریقوں کا تعاون آج ہمارے ذریعے بنائے گئے اداروں کی کوالٹی سے ناپا جائے گا۔” انہوں نے کہا کہ ضرورت نہ صرف بڑی کمپنیاں بنانے کی ہے، بلکہ کمپنیوں کو بہتر بھی بنانا ہے تاکہ وہ مسابقتی، جدت کی راہ میں آگے چلنے والی، قابل اعتماد اور مضبوط ہوں اور آنے والی دہائیوں میں ہندوستان کی قیادت کر سکیں۔
مسز سیتا رمن نے جی ایس ٹی میں ستمبر 2025 میں کی گئی اصلاحات کا ذکر کیا اور اس بار کے بجٹ میں براہ راست اور بالواسطہ ٹیکس نظام میں مزید یقین دہانی لانے کے اقدامات کا ذکر کیا۔ وزیر مالیات نے ریاستوں کو ‘ریاستوں کو سرمائے کی سرمایہ کاری کے لیے خصوصی امداد’ اسکیم کے ذریعے 50 سال کے لیے بغیر سود والے قرض کی اسکیم کا ذکر بھی کیا جس کا کچھ حصہ اصلاحات سے جڑا ہے۔ مرکز نے کئی نئی اسکیمیں ریاستوں کے درمیان مقابلے (‘چیلنج’) کی بنیاد پر شروع کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے تاکہ ریاستیں اپنی خوبیوں کا استعمال کریں اور اپنے بہترین تجاویز سامنے لائیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا، “اگلے 20 برس میں چیلنج صرف اور زیادہ اسٹارٹ اپس بنانا نہیں ہے۔ چیلنج یہ دیکھنا ہے کہ آج کے کتنے اسٹارٹ اپس بڑی، پیشہ ورانہ طریقے سے چلنے والی اور طویل عرصے تک ٹکنے والی کمپنیاں بن سکتی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ اے آئی ایم اے کے لوگ اور کارپوریٹ دنیا کی شخصیات ان اسٹارٹ اپس کو بانی کی قیادت والے ادارے سے ادارہ جاتی قیادت والی کمپنیوں میں بدلنے کے مشکل مرحلے میں مدد کر سکتے ہیں اور ایسا کرتے وقت وہ اس کاروباری توانائی کو بھی برقرار رکھ سکتے ہیں جس کی وجہ سے یہ کمپنیاں شروع ہوئی تھیں۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
