جموں و کشمیر
اپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے بدھ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو 1953 سے پہلے کی صورت حال اور دفعہ 370 کی بحالی سے جوڑ کر اسے ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام لگایا اور حال ہی میں اختتام پذیر 7 روزہ خزاں اجلاس کو جموں و کشمیر کے عوام کے لیے ’بدقسمت‘ قرار دیا۔
7 روزہ اجلاس کے اختتام کے بعد صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے سوال کیا، ’’ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کے ساتھ 1953 سے پہلے کی صورت حال اور دفعہ 370 کی بحالی کو جوڑ کر اسے سبوتاژ کرنے کا حق آپ کو کس نے دیا؟‘‘ مسٹر شرما نے کہا کہ بی جے پی ریاستی حیثیت کی بحالی کی حمایت کرتی ہے، لیکن اس مطالبے کو 2019 میں کی گئی تبدیلیوں سے پہلے موجود آئینی انتظامات کی بحالی سے جوڑنے کی مخالفت کرتی ہے۔
اسمبلی نے بی جے پی ارکان کے زبردست احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور کی۔ بی جے پی ارکان نے سابقہ خود مختاری اور خصوصی حیثیت سے متعلق قراردادوں کے حوالوں پر اعتراض کیا تھا۔ مسٹر
شرما نے قرارداد کی حمایت کرنے پر کانگریس سے بھی سوال کیا اور اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو اسے ایوان میں پیش کرنے کی اجازت دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اخلاقی بنیادوں پر اسپیکر سے استعفیٰ دینے کا بی جے پی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ عبداللہ کی سیاسی وراثت کا حوالہ دیتے ہوئے شرما نے 1953 سے پہلے کے دور اور الگ آئین و پرچم کے سابقہ مطالبے کا ذکر کیا اور سوال کیا کہ موجودہ ریاستی حیثیت کی بحالی کی بحث میں اس معاملے کو شامل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر کے لیے الگ آئینی انتظام کی واپسی کی کسی بھی تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے کا آئینی ڈھانچہ ہندوستان کے آئین کے دائرے میں ہی رہنا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے جموں و کشمیر کے سیکولر اور جامع کردار پر بھی زور دیا اور کہا کہ یہ خطہ ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں، شیعوں، سنیوں، گجروں، پہاڑیوں، دیگر پسماندہ طبقات اور مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا گھر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذہبی آبادی کی بنیاد پر الگ آئین یا پرچم کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا اور زور دیا کہ جموں و کشمیر کا کردار ’جامع‘ رہا ہے۔
حکومت کے کام کاج کا ذکر کرتے ہوئے شرما نے خزاں اجلاس کو ’بدقسمت‘ قرار دیا اور الزام لگایا کہ اس میں معاشرے کے مختلف طبقات سے متعلق مسائل پر توجہ نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے عوام اس اجلاس کا انتظار کر رہے تھے اور امید کر رہے تھے کہ اس سے کچھ اچھی خبر سامنے آئے گی۔ میں ان 7 دنوں کو عوام کے لیے بدقسمت سمجھتا ہوں۔‘‘ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے اجلاس کو ’ثمر آور‘ قرار دیے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں، معاہدے پر کام کرنے والے ملازمین، یومیہ اجرت والے کارکنوں، این ایچ ایم اور این وائی سی کارکنوں، آشا اور آنگن واڑی کارکنوں، جی آر ایس اور تکنیکی معاونین، کیمپا کارکنوں اور پانی کی جانچ کرنے والی لیبارٹریوں کے ملازمین کے مسائل اٹھائے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اجلاس کے دوران بی جے پی ارکان کی جانب سے بار بار مطالبات اٹھائے جانے کے باوجود حکومت ان مسائل پر تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہی۔
انہوں نے کہا، ’’پہلے ہی دن ہم نے حکومت سے ان مسائل پر جواب مانگا تھا جو ہر ضلع صدر مقام پر عوام نے اٹھائے تھے۔ ہم نے پورے دن جواب مانگا، لیکن حکومت نے ان مسائل کا جواب نہیں دیا۔‘‘
بی جے پی لیڈر نے حکومت پر صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ملازمین کی کمی دور کرنے میں بھی ناکام رہنے کا الزام لگایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جموں و کشمیر میں تقریباً 13,000 ڈاکٹروں اور طبی معاون عملے کی کمی برقرار ہے اور حکومت بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کا مناسب استعمال کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مسٹر شرما نے مزید دعویٰ کیا کہ تقریباً 4.25 لاکھ افراد اب بھی پینے کے پانی کی سہولت سے محروم ہیں۔
انہوں نے ’وعدے بمقابلہ کارکردگی‘ کے عنوان سے ایک دستاویز بھی جاری کی، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اس میں عمر عبداللہ حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں اور صحت، روزگار اور پینے کے پانی سمیت مختلف شعبوں میں اس کی کارکردگی کے درمیان فرق کی تفصیل دی گئی ہے۔
شرما نے دعویٰ کیا کہ حکمراں نیشنل کانفرنس کے ارکان بھی حکومت کے کام کاج سے مطمئن نہیں ہیں۔
ریزرویشن سے متعلق مسائل پر انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور وہ عدالت میں زیرِ غور معاملے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی حیثیت واپس دینے کے مطالبے پر بی جے پی کا موقف واضح ہے، لیکن اسے 2019 سے پہلے کے آئینی انتظام کی بحالی سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
