جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: مودی کی جانب سے قابل فخر قرار دیا گیا 2,000 سال قدیم بدھ مت مقام کو تباہی کا خطرہ
از: ماجد جہانگیر
سری نگر، شمالی کشمیر میں تقریباً 2,000 سال قدیم بدھ مت کا ایک آثارِ قدیمہ کمپلیکس، جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے خطے کے مالا مال ثقافتی ورثے کے لیے ’قابل فخر لمحہ‘ قرار دیا تھا، اب ایک بالکل مختلف خطرے یعنی دریائے جہلم کی زد میں ہے۔
ایک حالیہ مطالعے میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2050 تک اس مقام کے اطراف 10,000 مربع میٹر سے زیادہ زمین دریا برد ہو سکتی ہے، جبکہ حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو مرکزی یادگار کو اگلی تین دہائیوں کے اندر منہدم ہونے کا شدید خطرہ ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماہرین آثارِ قدیمہ مسلسل دوسرے سال اس مقام پر کھدائی کر رہے ہیں۔ وہ پہلی صدی عیسوی، یعنی کوشان دور سے تعلق رکھنے والے قدیم بدھ مت کے ایک نیم دائرہ نما اسٹوپا کمپلیکس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
جولائی 2026 میں ’اینشینٹ ایشیا‘ جریدے میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں 1976 سے 2022 کے درمیان مقام کے اطراف ہونے والی تبدیلیوں کا نقشہ تیار کرنے کے لیے 46 سال کی سیٹلائٹ تصاویر اور جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) کے تجزیے کا استعمال کیا گیا۔ مطالعے میں دریائے جہلم کے کنارے بڑے پیمانے پر کٹاؤ اور دریا کے بہاؤ کے راستے میں تبدیلی پائی گئی، جس کا سب سے شدید مرحلہ 1989 سے 2000 کے درمیان ریکارڈ کیا گیا۔
ان 11 برسوں کے دوران زمین کے کٹاؤ کی اوسط سالانہ شرح بڑھ کر 3,616.09 مربع میٹر ہو گئی، جبکہ 1976 سے 1989 کے درمیان یہ شرح 818.15 مربع میٹر سالانہ اور 2000 سے 2022 کے درمیان 361.5 مربع میٹر سالانہ تھی۔ محققین نے مجموعی طور پر 1989 سے 2000 کے دوران 39,777 مربع میٹر زمین کے کٹاؤ کا ریکارڈ درج کیا۔
محققین نے اس غیر معمولی کٹاؤ کی وجہ دریا کے قدرتی عمل کے ساتھ انسانی مداخلت، خاص طور پر دریا کے اندر بڑے پیمانے پر اور غیر منظم کان کنی کو قرار دیا ہے۔
مطالعے کے مطابق، کان کنی کے لیے بنائے گئے گڈھوں نے دریا کے بہاؤ کو تبدیل کر دیا اور دریا کے سب سے گہرے بہاؤ کو آثارِ قدیمہ کے مقام کے قریب کر دیا، جس سے دریا کا کنارہ کمزور ہو گیا۔ دریا کے کنارے موجود قدرتی نباتات کے خاتمے سے بھی کٹاؤ کے خلاف کنارے کی قدرتی مزاحمت مزید کم ہو گئی۔
جہلم کے دائیں کنارے پر واقع زہان پور کمپلیکس تین اسٹوپوں کی ایک قطار پر مشتمل ہے۔ محققین نے ’پلیس اے‘ کے نام سے معروف علاقے کو کٹاؤ کا مرکز قرار دیا ہے، جہاں آثارِ قدیمہ کے باقیات زمین کی کششِ ثقل کے باعث منہدم ہونے، دریا کے خم دار بہاؤ کی سمت میں تبدیلی اور دریا کی براہ راست کٹائی کے خطرے سے دوچار ہیں۔
2000 کے بعد کٹاؤ کی شرح کو بنیاد بنا کر خطی تخمینے کے ذریعے محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2022 سے 2050 کے درمیان تقریباً 10,122 مربع میٹر زمین دریا برد ہو سکتی ہے۔
تاہم مضمون نگار نے خبردار کیا ہے کہ یہ تخمینہ تحفظ اور انتظامی منصوبہ بندی کے لیے ہے، اسے قطعی ہائیڈرولوجیکل پیش گوئی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس میں شدید سیلابی واقعات یا جہلم کے طاس میں ممکنہ غیر خطی تبدیلیوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے، جو کٹاؤ کی رفتار میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔
محققین نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات خود مرکزی یادگار کی کمزوری ہے۔
مطالعے میں کہا گیا ہے، ’’ہماری پیش گوئی کے مطابق اگر حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے تو مرکزی یادگار کو اگلی تین دہائیوں کے اندر منہدم ہونے کا شدید خطرہ ہے۔‘‘
محققین نے دریا کے کنارے کو مستحکم کرنے اور آثارِ قدیمہ کے باقیات کو محفوظ رکھنے کے لیے ساختی اور قدرتی بنیادوں پر مبنی اقدامات کا مجموعہ تجویز کیا ہے۔ ان میں حفاظتی دیواریں، گیبیونز اور گہری جڑوں والی نباتات کو منصوبہ بندی کے ساتھ لگانے پر مبنی بائیو انجینئرنگ اقدامات شامل ہیں۔
ان نتائج نے زہان پور میں جاری آثارِ قدیمہ کے کام کی فوری ضرورت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ یہ مقام کشمیر کے نسبتاً کم معروف بدھ مت ماضی کے بارے میں نئے شواہد فراہم کر رہا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کمپلیکس قدیم ثقافتی اور تجارتی منظرنامے کا حصہ تھا، جو کشمیر کو گندھارا اور وسطی ایشیا سے جوڑتا تھا۔ محققین کی جانب سے پیش کیے گئے تاریخی حوالوں میں وسیع تر بارہمولہ خطے کو بدھ مت کے ان مراکز سے بھی جوڑا گیا ہے، جہاں ساتویں صدی میں چین کے سیاح اور عالم ہیون سانگ نے کشمیر کا سفر کرتے ہوئے دورہ کیا تھا۔
اس مقام کو گزشتہ سال دسمبر میں اس وقت قومی سطح پر توجہ حاصل ہوئی، جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں اس کا ذکر کیا۔
زہان پور میں بڑے اسٹوپوں کی دریافت کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے اسے جموں و کشمیر کے لیے ’قابل فخر لمحہ‘ قرار دیا اور خطے کے مالا مال ثقافتی ورثے کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فرانس کے ایک عجائب گھر میں محفوظ تین اسٹوپوں کی ایک پرانی اور دھندلی تصویر نے کشمیر کے بدھ مت ماضی کی جانب توجہ مبذول کرانے میں مدد کی۔
اس کے بعد آثارِ قدیمہ کی کھدائی دوسرے سال میں داخل ہو گئی ہے اور محققین نیم دائرہ نما اسٹوپا کمپلیکس اور اس کے اطراف موجود آثار کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
لیکن حالیہ مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب آثارِ قدیمہ کے ماہرین کو دریا سے مقابلے کے لیے وقت کے خلاف دوڑنا پڑ سکتا ہے۔
محققین نے کہا کہ زہان پور کا معاملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آزادانہ طور پر دستیاب سیٹلائٹ تصاویر اور جغرافیائی اعداد و شمار کو کس طرح حساس اور خطرے سے دوچار ثقافتی ورثے کے مقامات کو لاحق خطرات کی نشاندہی اور تحفظ کی کوششوں کی رہنمائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق، یہ مطالعہ پالیسی سازوں اور تحفظِ آثار کے اداروں کو محض نگرانی سے آگے بڑھ کر فعال اقدامات کی جانب لے جانے کے لیے ایک ’’واضح اور اعداد و شمار پر مبنی بنیاد‘‘ فراہم کرتا ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
