ہندوستان
مودی نے ووٹ چوری کرکے ملک کو ہائی جیک کر لیا ہے: راہل گاندھی
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ’ووٹ چوری‘ کرکے ملک کو ہائی جیک کر لیا ہے اور وزیر داخلہ امت شاہ، آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اس کام میں ان کی مدد کی ہے۔
مسٹر گاندھی نے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کے پارلیمنٹ سے نرواچن سدن تک مارچ کے دوران منگل کو یہاں آکاشوانی بھون کے سامنے تقریباً 5 گھنٹے تک روکے جانے کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ چند گھنٹے پہلے تقریباً 300 لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان ان کے ساتھ آئے تھے۔ تمام ارکان پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ان کے 2 ساتھیوں سے ملنا چاہتے تھے، لیکن پولیس نے انہیں روک دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ ملک کے نمائندے ہیں اور ملک کے عوام کی آواز کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ان کے ساتھ آئے تمام ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمیشن سے ملنا چاہتے تھے، لیکن انہیں ملنے نہیں دیا گیا، جبکہ الیکشن کمیشن کا دفتر وہاں سے تقریباً 50 گز دور ہے، اس کے باوجود انہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کے پارلیمنٹ سے نرواچن سدن تک ’جمہوریت بچاؤ‘ مارچ کے دوران تمام ارکان کو آکاشوانی بھون کے سامنے روک دیا گیا۔ مسٹر گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور کچھ دیگر ارکان پارلیمنٹ دھرنے پر بیٹھ گئے تو پولیس نے سمجھا بجھا کر انہیں آکاشوانی بھون کے اندر لے گئی۔
تقریباً ساڑھے 5 گھنٹے تک آکاشوانی بھون کے اندر رکھنے کے بعد انہیں باہر لایا گیا اور جب وہ نہیں مانے تو انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
مسٹر گاندھی نے حراست میں لیے جانے سے پہلے صحافیوں سے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ایس آئی آر کے نام پر ملک کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، وہ غداری ہے۔ غداری کرنے والوں میں سے کوئی بھی بچ نہیں پائے گا اور سب کے خلاف کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 300 ارکان پارلیمنٹ گیانیش کمار سے ملنا چاہتے ہیں، لیکن ’گیانیش کمار جی ڈرے ہوئے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کے نمائندوں سے الیکشن کمیشن نہیں ملے گا تو جمہوریت کا کیا مطلب ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ہم صرف ان کا مقابلہ نہیں کرنے جا رہے ہیں، ہم انہیں ختم کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کیا کہتی ہے، اس میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ ہندوستان کی جمہوریت کو بچانے کے لیے یہاں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ آئے 300 ارکان پارلیمنٹ بھی ملک میں جمہوریت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا، ’’امت شاہ، نریندر مودی، موہن بھاگوت اور گیانیش کمار، ان لوگوں نے ملک کی جمہوریت کو ختم کر دیا ہے۔ پورا ملک اور ملک کے نوجوان اس بات کو مانتے اور سمجھتے ہیں۔ ہمیں روکنے والے پولیس اہلکار بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم جانتے ہیں۔ اصل میں ملک کو نریندر مودی نے ووٹ چوری کرکے ہائی جیک کیا ہے، امت شاہ جی نے ہائی جیک کیا ہے، موہن بھاگوت جی نے ہائی جیک کیا ہے اور گیانیش کمار نے ان کی مدد کی ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر نے کہا، ’’میں سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں کہ ان تمام لوگوں کے خلاف کارروائی ہوگی اور ان میں سے ایک شخص بھی بچ کر نہیں جائے گا، چاہے وہ نریندر مودی ہوں، امت شاہ ہوں، گیانیش کمار ہوں یا موہن بھاگوت۔ ہمارے ملک کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، وہ غداری ہے۔ کوئی بھی بچ کر نہیں بھاگ پائے گا۔‘‘
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoکانگریس نے ایس آئی آر پر امت شاہ سے تین سوالوں کا جواب مانگا
