ہندوستان
سی جے پی کے احتجاج پر پولیس کی سخت کارروائی، کئی رہنما حراست میں
نئی دہلی، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے سمیت دیگر مطالبات کے حق میں ہفتے کے روز راجدھانی دہلی کے جنتر منتر پر پہنچنے کے خدشے کے پیشِ نظر دہلی پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز نے سخت کارروائی کرتے ہوئے قومی سطح کے کئی رہنماؤں-بشمول سی پی آئی (ایم) کے ایم اے بے بی، ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی، عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال اور سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کو دیکھتے ہوئے پولیس نے اس سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے اہم رہنماؤں ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو دہلی پہنچنے پر اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہی حراست میں لے لیا تھا۔ دہلی پولیس نے سرحدوں سمیت کئی علاقوں میں پہرا سخت کرتے ہوئے کئی جگہوں پر بڑی پیمانے پر بیریکیڈنگ لگائی اور صبح سے ہی ٹریفک پر سخت پابندیاں نافذ کر دیں۔ گاڑیوں کی آمدورفت کو کنٹرول کرنے اور حالات پر نظر رکھنے کے لیے اہم چوراہوں پر پولیس فورس تعینات کی گئی۔
دہلی ٹریفک پولیس نے کناٹ پلیس، منڈی ہاؤس، جنتر منتر، پٹیل چوک اور وسطی دہلی کے دیگر حصوں میں ٹریفک جام اور روٹ ڈائیورژن سے متعلق ایڈوائزری جاری کی۔ پولیس کی سختی کے باوجود بڑی تعداد میں مظاہرین مختلف مقامات پر پہنچے، جن میں منٹو برج، دہلی ریلوے اسٹیشن، اشوک روڈ-جنتر منتر روڈ گول چکر، ٹالسٹائی مارگ-جن پتھ کراسنگ، جے سنگھ روڈ،سنسد مارگ کراسنگ، ریل بھون گول چکر، گول ڈاک خانہ اور ونڈسر پلیس شامل ہیں۔
پولیس نے سی جے پی کے بانی اراکین مسٹر دیپکے، داس اور رانکا کو قومی راجدھانی میں اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ ممبئی سے یہاں آنے والی پرواز سے اترنے والے تھے۔ دہلی پولیس نے انہیں ہوائی جہاز کے اندر سے ہی اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس واقعے کے بعد پارٹی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ان رہنماؤں کے حراست میں لیے جانے کے بعد تنظیم کے انچارج اجنکیہ شندے ہفتے کے روز جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کی قیادت کریں گے۔ مسٹر دیپکے نے ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام کے ذریعے یہ جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ قیادت کی حراست کے باوجود یہ احتجاج جاری رہے گا اور مسٹر کمار کے استعفیٰ نیز ووٹر لسٹوں کے خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کو واپس لینے کی مانگ پر تحریک پورے عزم کے ساتھ آگے بڑھائی جائے گی۔ اس دوران یہ جانکاری بھی سامنے آئی کہ مسٹر دیپکے کی دادی کا انتقال ہو گیا ہے۔
پارٹی نے ایک بیان جاری کر کے کہا کہ رہنماؤں کو اس طرح حراست میں لینا کارکنوں کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتا اور یہ جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ایک فیصلہ کن جدوجہد ہے۔ بیان میں کہا گیا، “جب ریاستی اقتدار جمہوری اختلاف کو دبانے کے لیے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سہارا لیتی ہے، تو جمہوریت کو بچانے کے لیے عوام کو خود کمان سنبھالنی ہوگی۔”
اس کے علاوہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذرائع کے مطابق، ہفتے کی صبح ایک مشترکہ آپریشن کے تحت دہلی اور گروگرام پولیس نے گروگرام کے ایک رہائشی فلیٹ سے معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ مسٹر راٹھی ایسی ویڈیوز کے لیے جانے جاتے ہیں جن میں مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی جاتی ہے۔
اس احتجاجی مظاہرے کو روکنے کے لیے وسطی دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو بھاری تعداد میں تعینات کیا گیا ہے۔ طے شدہ احتجاجی مقام کے قریب جمع ہونے والے مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لے کر بسوں میں بٹھایا اور دیگر مقامات پر لے گئی۔ سکیورٹی اقدامات کے تحت دہلی پولیس ایکٹ کی دفعہ 65 کے تحت بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے اب تک ہزاروں لوگوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ دہلی پولیس نے سی جے پی کے اس احتجاج کی اجازت دینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ پارٹی کی طرف سے پیش کی گئی اطلاع کوئی باضابطہ درخواست نہیں تھی، کیونکہ ضابطوں کے مطابق جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینا لازمی ہوتا ہے۔
مرکزی وزارتِ داخلہ نے بھی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو دہلی پولیس کے ساتھ تال میل قائم کرنے اور راجدھانی کی طرف مظاہرین کی آمد کو روکنے کے لیے احتیاطی قدم اٹھانے کی ہدایت دی تھی۔ احتیاط کے طور پر حکام نے دہلی کے کچھ حصوں میں انٹرنیٹ خدمات پر پابندیاں عائد کی ہیں، بازاروں اور میٹرو اسٹیشنوں کو بند رکھنے کے احکامات دیے ہیں نیز شہر میں آنے والی کئی ٹرینوں کو منسوخ کر دیا ہے۔
دہلی کے مقبول دلی ہاٹ سے طلبہ کی بھیڑ کی قیادت کرنے کی کوشش کر رہی بائیں بازو کی طالب علم رہنما نیہا بورا کو بھی “سرفروشی کی تمنا” نظم گاتے ہوئے دوپہر کے وقت حراست میں لے لیا گیا۔ ممتا بنرجی اور ان کے ممبرانِ پارلیمنٹ اور حامیوں کا ایک گروپ پابندی کی خلاف ورزی کرنے کے پاداش میں حراست میں لیے جانے سے پہلے ساؤتھ ایونیو میں اپنی رہائش گاہ کے باہر پلے کارڈز لے کر دھرنے پر بیٹھا تھا۔ ممتا بنرجی نے ایک پولیس گاڑی میں لے جائے جاتے وقت نامہ نگاروں سے کہا، “ملک میں کیا چل رہا ہے، سب کو پتہ ہے۔”
دوسری طرف، بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہفتے کے روز اپوزیشن پر اپنے حملے تیز کرتے ہوئے راہل گاندھی اور اروند کیجریوال سمیت دیگر رہنماؤں پر ملک میں کشیدگی بھڑکانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا۔ بی جے پی کے صدر نتن نبین نے کہا کہ حکومت ان کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوششوں سے سختی سے نمٹے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن رہنما بار بار انتخابی شکست کے بعد مایوسی کے عالم میں کام کر رہے ہیں اور خبردار کیا کہ پارٹی اور اس کے حامی ان کی ان کوششوں کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ انہوں نے کہا،”سرکار آپ کے ذریعہ کشیدگی پیداکرنے کے لیئے کی جارہی کوششوں سے سختی سے نمٹے گی ”
کانگریس نے برسرِ اقتدار جماعت اور حکومت پر قومی راجدھانی کو “قلعے” میں تبدیل کرنے کا الزام لگایا، جس کے تحت پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ‘ایکس’ پر لکھا، “قومی راجدھانی کو ایک قلعے میں بدل دیا گیا ہے، جہاں ہر طرف مسلح سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔” کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ حکومت سے سوال کرنے والوں کو حراست میں لے کر ان کی آواز دبائی جارہی ہے اور ملک کو ‘خاموش جمہوریت’ میں بدلا جا رہا ہے۔ مسٹر کھرگے نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ نوجوانوں، طلبہ، وکلا، صحافیوں، سماجی کارکنوں، کسان تنظیموں کے رہنماؤں، یوٹیوبرز اور کنٹینٹ کریئیٹرز سمیت حکومت سے سوال کرنے والے تمام لوگوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی بزدلی آج پوری طرح سامنے آ گئی ہے۔ حراست، گرفتاریاں، جیل، لاٹھیاں اور پیلٹ بھی ہندوستان کے لوگوں کو روک نہیں سکتے۔ آزادی کی جدوجہد کے وقت سے ہی نوجوان ملک کی تقدیر طے کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔” کانگریس صدر نے کہا کہ ان کی پارٹی متحد اپوزیشن کے ساتھ مل کر اس آمریت پر مبنی حکومت کے خلاف پوری طاقت سے لڑتی رہے گی۔ ہندوستان کی آزادی کے لیے خون بہانے والی کانگریس جمہوریت، آئین اور ہرہندوستانی کے بنیادی حقوق کی حفاظت کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
سماج وادی کے قومی صدر اکھیلیش یادو نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام کی آواز کو طاقت کے بل پر دبانے کی کوشش حکومت کی بہت بڑی بھول ثابت ہوگی۔ مسٹر یادو نے ‘ایکس’ پر کہا، “کسی کے روکے سے نہیں رکےگا، اب دہلی میں دیش جٹے گا ” انہوں نے کہا کہ” ملک کی نوجوان توانائی ان کے ساتھ ہے۔ بی جے پی حکومت اگر یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ طاقت کے بل پر عوام کو روک لے گی، تو یہ اس کی اور بھی بڑی بھول ثابت ہوگی۔ مسٹر یادو نے کہا کہ ‘جنتر منتر’ اب صرف ایک جگہ کا نام نہیں، بلکہ نئی چیتنا اور بیداری کی علامت بن گیا ہے۔”
پولیس نے صبح ہی جنتر منتر پر منعقدہ مظاہرے میں شامل ہونے جا رہے مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی-ایم) کے سرکردہ رہنماؤں سمیت کئی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے رہنماؤں میں سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی، سابق وزیرِ اعلیٰ اور کیرالہ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف پنارائی وجین، کیرالہ کے سابق وزیرِ خزانہ کے این بال گوپال ، راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس، مانیکندن وی گوندن، محترمہ ورندا کرات، کے کے شیلجہ اور پی راجیو شامل ہیں۔ محترمہ کرات نے فیس بک پیج پر لکھا، “مودی اور ان کی حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہندوستان کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور وہ انہیں روک نہیں سکتے۔ دہلی کا دل اس کے تمام لوگوں کا ہے۔ یہ دبانے والے طریقے ہمیں نہیں روک پائیں گے! چلو جنتر منتر کی طرف!” کیرالہ بھون سے باہر نکلتے ہی پولیس نے بائیں بازو کے رہنماؤں کو جنتر منتر کی طرف مارچ کرنے سے روک دیا اور انہیں حراست میں لے لیا۔ شروع میں پولیس نے مسٹر وجین، مسٹر برٹاس اور مسٹر کے این بال گوپال کو چھوڑ کر دیگر رہنماؤں کو حراست میں لیا تھا لیکن جب یہ تینوں رہنما جنتر منتر کی طرف بڑھنے لگے تو پولیس کے ساتھ ان کی تلخ بحث ہوئی اور پولیس نے انہیں بھی حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے جانے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسٹر وجین نے اس کارروائی کو ‘جمہوریت کا قتل’ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں سے ان کی حکومت منتخب کرنے کا حق چھینا جا رہا ہے اور 13 کروڑ سے زیادہ ووٹرز کے نام کاٹے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ کام چیف الیکشن کمشنر نے حکومت کے اشارے پر کیا ہے اور حکومت اب انہیں بچانے کے لیے غیر قانونی طریقے اپنا رہی ہے لیکن یہ احتجاج آج ختم نہیں ہوگا۔ مسٹر وجین نے کہا کہ ہندوستان کوئی پولیس اسٹیٹ نہیں، بلکہ ایک جمہوری ملک ہے اور برسرِ اقتدار جماعت کے دل میں جمہوریت کے تئیں کوئی احترام نہ ہونے کی وجہ سے ایسی کارروائی کی جا رہی ہے۔ وہیں، رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔
اسی دوران، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ کے علاقے میں پرامن احتجاج کے دوران وکلا کے خلاف طاقت کے استعمال اور ان کی حراست کی خبروں پر گہرے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے خاص طور پر خواتین وکلا سمیت سینئر اور نوجوان وکلا کی مبینہ حراست کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کو دیے گئے ایک میمورنڈم میں ایسوسی ایشن نے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے حراست میں لیے گئے وکلا کی حفاظت اور ان کے ٹھکانے کا پتہ لگانے کی گزارش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بغیر کسی قانونی جواز کے روکے گئے وکلا کو فوری طور پر قانونی امداد فراہم کرنے، ان کی رہائی کو یقینی بنانے اور پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ جانچ کے بعد مناسب قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جنتر منتر پر احتجاج کرنے جا رہے عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال سمیت پارٹی کے کئی رہنماؤں کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے رہنماؤں میں ‘عآپ’ کے راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ، دہلی کے سابق وزیر سوربھ بھاردواج اور ایم ایل اے درگیش پاٹھک بھی شامل ہیں۔ ‘عآپ’ کے ایم ایل اے کلدیپ کمار نے آج دہلی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اروند کیجریوال اور ‘عآپ’ کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو پولیس مودی حکومت کے حکم پر حراست میں لے کر جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے لیے احتجاج کرنے پہنچ رہی تھی اور اسی دوران پولیس نے رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
