ہندوستان
دہلی کی ترقی کے لیئے ہرشعبے میں مرکز کا ساتھ ملا: ریکھاگپتا
نئی دہلی، دہلی کی وزیر اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا نے وزیر اعظم نریندر نریندر مودی کے جن سیوا اور راشٹر سیوا کے 25 سال پورے ہونے پر مرکزی حکومت کے تئیں اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی کی ترقی میں مرکز کا اہم تعاون رہا ہے۔
بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ گپتا نے کہا کہ دہلی کابینہ نے وزیر اعظم کے 25 سالہ عوامی زندگی اور ملک کی ترقی میں ان کے تعاون کی ستائش کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک تجویز پاس کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہمیشہ دہلی کو اپنی ترجیحات میں رکھا اور ضرورت پڑنے پر راجدھانی کی مدد کے لیے آگے آئے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی میعاد کار کے پہلے دن سے لے کر اب تک دہلی کو مرکزی حکومت کی مختلف اسکیموں کا فائدہ ملتا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلی حکومتوں نے سیاسی وجوہات کی بنا پر مرکز کی کچھ اسکیموں کو اپنانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ فروری 2025 میں دہلی میں ان کی حکومت بننے کے بعد مرکز کی اسکیموں کا فائدہ براہ راست لوگوں تک پہنچانے کی سمت میں کام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد دہلی کے باشندوں کو صحت، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات سے جڑی اسکیموں کا فائدہ فراہم کرنا ہے۔
آیوشمان بھارت یوجنا کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہلی میں اس اسکیم کو نافذ کرنے کے ساتھ مرکزی حکومت کی جانب سے ملنے والے پانچ لاکھ روپے کے ہیلتھ کور میں ریاستی حکومت کی جانب سے پانچ لاکھ روپے اضافی جوڑے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق، اب تک تقریباً نو لاکھ لوگ اس اسکیم کے تحت رجسٹریشن کراچکے ہیں اور تقریباً 65 ہزار دعووں کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔ انہوں نے وے وندنا یوجنا اور جن اوشدھی یوجنا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان اسکیموں کے توسط سے لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دہلی میں اب تک تقریباً 425 آیوشمان آروگیہ مندر قائم کیے جا چکے ہیں اور حکومت کا ہدف ان کی تعداد بڑھا کر تقریباً 1,100 کرنا ہے۔ پی ایم آواس یوجنا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت دہلی کے باشندوں کو رہائش فراہم کرنے کی سمت میں بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت کی اسکیموں کو دہلی میں موثر طریقے سے نافذ کرنے سے عام لوگوں کو فائدہ مل رہا ہے اور حکومت مختلف شعبوں میں ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھا رہی ہے۔
محترمہ گپتا نے انڈیا اتحاد کے احتجاجی مظاہرے اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کو لے کر کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر ملک میں پہلی بار نہیں ہو رہا ہے، بلکہ الیکشن کمیشن وقفے وقفے سے یہ عمل کراتا رہا ہے۔ ریکھا گپتا نے سوال اٹھایا کہ جب پہلے بھی یہ عمل ہوا، تب ان جماعتوں نے اس طرح کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ انہوں نے کہا کہ دہلی میں آخری بار ایس آئی آر سال 2002 میں ہوا تھا اور کانگریس کو بعد کے انتخابات میں عوام کا تعاون نہیں ملا۔ وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن کی مخالفت کو سیاسی مایوسی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ عوام نے کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو مسترد کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس معاملے پر مظاہرہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے عام آدمی پارٹی پر پنجاب کی امن و قانون کی صورتحال اور منشیات کے کاروبار سے جڑے امور پر توجہ نہ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں قتل کی وارداتیں ہو رہی ہیں اور منشیات کے ریکٹ سرگرم ہیں، لیکن اپوزیشن دہلی میں مظاہرہ کرنے میں مصروف ہے۔ وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی اپنے سیاسی مفادات کے لیے عوام کو گمراہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے دہلی میں تاجروں اور عام شہریوں کو پریشانی ہوئی ہے اور معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
