ہندوستان
ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدہ جلد مکمل ہونے کی امید: نرملا سیتارمن
نئی دہلی، مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے جمعہ کو امید ظاہر کی کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ جلد مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا جلد حتمی شکل اختیار کرنا دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات اور عالمی تجارت کے مفاد میں ہوگا۔ تھائی لینڈ کے بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محترمہ سیتارمن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ”عالمی تجارت اور ہندوستان و امریکہ کے درمیان تجارت کے مفاد میں میری امید ہے کہ تجارتی معاہدہ جلد از جلد مکمل ہوگا۔” اس سے قبل وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا تھا کہ مجوزہ ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اس کی قانونی دستاویزات تیار کرنے کا عمل جاری ہے۔ چین کے ساتھ ہندوستان کے تجارتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستانی برآمد کنندگان کو چینی بازار تک رسائی حاصل کرنے میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں سے جاری رابطوں کے باوجود بڑھتا ہوا تجارتی عدم توازن اور ہندوستانی مصنوعات پر پابندیاں اہم تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان چین میں جنیرک ادویات، مویشیوں کا گوشت، سبزیوں اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیا سمیت متعدد مصنوعات کے لیے زیادہ مارکیٹ رسائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے، تاہم اس معاملے میں پیش رفت محدود رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر محصولاتی رکاوٹیں ہندوستان اور چین کے درمیان تجارت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، جن میں نباتاتی صحت سے متعلق اقدامات اور دیگر پابندیاں شامل ہیں۔ محترمہ سیتارمن نے کہا کہ ہندوستان اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی عدم توازن دور کرنے کے لیے سزا دینے والے محصولات کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے، چاہے سفارتی اور تجارتی بات چیت میں کافی وقت کیوں نہ لگے۔ برکس کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اس گروپ کو کسی ملک یا اتحاد کے خلاف محاذ کے طور پر نہیں بلکہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور عوام کی فلاح و بہبود بہتر بنانے کے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ برکس کا مقصد کسی دوسرے فریق کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ اس کے ارکان کے درمیان شراکت داری کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس دنیا کی تقریباً 40 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے، باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے اور نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے۔ توسیع کے بعد اس گروپ میں 11 سے 12 ممالک فعال طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، جو عالمی تجارت کا تقریباً 45 فیصد ہیں۔ ہندوستان کی اقتصادی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے محترمہ سیتارمن نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور رکاوٹوں کے باوجود ملک نے مضبوط اقتصادی ترقی برقرار رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 وبا کے بعد کے عرصے سمیت گزشتہ چار سے پانچ برسوں میں ہندوستان بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت رہا ہے۔ انہوں نے اقتصادی لچک کی وجہ جامع ترقی، وسائل تک بہتر رسائی، نوجوانوں میں ہنر مندی کے فروغ، مالیاتی نظم و ضبط اور سرکاری سرمایہ کاری میں اضافے کو قرار دیا۔ وزیر خزانہ نے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بنیادی ڈھانچے پر اخراجات کے اہم کردار پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے میں سرکاری سرمایہ کاری، اتنی ہی رقم براہ راست عوام میں منتقل کرنے کے مقابلے میں زیادہ وسیع اقتصادی اثر پیدا کرتی ہے، جبکہ اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں اور وسیع تر اقتصادی ترقی کو تقویت ملتی ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoکانگریس نے ایس آئی آر پر امت شاہ سے تین سوالوں کا جواب مانگا
