تازہ ترین
ہندوارہ میں 48گھنٹوں پر محیط جھڑپ اختتام ؛ 8مکان، 2گاؤ خانے تباہ ، پانچ اہلاک ہلاک
خبراردو:
سرحدی قصبہ ہندوارہ کے باباگنڈ علاقے میں یکم مارچ کی شام دیر گئے فوج، سی آر پی ایف اور ایس اوجی اہلکاروں نے گاؤں میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کی۔ فورسز کو جمعہ کی شام دیر گئے مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ باباگنڈ کھانو علاقے میں جنگجوؤں کسی مکان میں پناہ لئے ہوئے ہیں جس کے بعد علاقے کو فورسز نے چاروں اطراف سے اپنی تحویل میں لیتے ہوئے گھر گھر تلاشیوں کا باضابطہ آغاز کیا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو قریباًڈیڑھ بجے جونہی تلاشی پارٹی مشتبہ مکان کے نزدیک پہنچ گئی تو یہاں موجود جنگجوؤں نے جدید ہھتیاروں سے فورسز پر شدید فائرنگ کی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ طرفین کے شدید گولہ باری کے نتیجے میں ابتدائی طور پر سی آر پی ایف انسپکٹر اور ایس او جی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں ایک نوجوان جو مظاہرے میں شامل تھا کو بھی گولی لگی جس کے نتیجے میں وہ سب ڈسٹرکٹ ہسپتال ہندوارہ میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کے ابتدائی حملے میں مزید 2فورسز اہلکار مارے گئے جس کے بعد علاقے میں مزید فورسز دستوں کو طلب کیا گیا تاہم دو دن کا وقفہ گزرنے کے باجوود جنگجوؤں فورسز پر وقفے وقفے سے فائرنگ جاری رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جائے جھڑپ تک پہنچنے کا راستہ انتہائی سخت اور دشوار گزار تھا اس لیے مکان میں پھنسے جنگجوؤں کو مار گرانے کے لیے فورسز کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر ڈیل کرنا پڑا۔
ادھر اتوار کی صبح جائے جھڑپ پر مزید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد فورسز نے یہاں حتمی کارروائی کی جس کے نتیجے میں اتوار کی صبح دونوں جنگجوؤں کو جاں بحق کیا گیا۔پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ جائے جھڑپ پر فورسز نے دونوں جنگجوؤں کو جاں بحق کیا تاہم اتوار کی صبح جھڑپ میں زخمی ہوئے سی آر پی ایف اہلکار شام نارائن نے بھی دم توڑ دیا اور اس طرح جھڑپ میں کل ملاکر 5فورسز اہلکار ہلاک ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے جائے جھڑپ پر 2عدم شناخت جنگجوؤں کی لاشوں کو اسلحہ و گولہ بارود سمیت برآمد کرلیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوؤں سے متعلق شناخت اور تنظیمی وابستگی کی تفصیلات جمع کی جارہی ہے۔ادھر علاقے میں گزشتہ دنوں سے جاری جھڑپ کے نتیجے میں وقفے وقفے سے نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے جھڑپ کے مقام کی جانب پیش قدمی کرنی چاہی تاہم فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو ایسا کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے۔ اس دوران جھڑپ کے شروع ہوتے ہی تاایں دم علاقے میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں معمولات زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئے۔ نمائندے کے مطابق سنیچر اور اتوار کو علاقے میں مکمل ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں عوامی، کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں بالکل معطل ہوکر رہ گئیں جبکہ پرتناؤ صورتحال کے نتیجے میں باباگنڈ اور اطراف و و اکناف کے علاقوں میں سڑکوں سے ٹرانسپورٹ مکمل طور پر غائب رہا۔ضلع انتظامیہ نے اس دوران جمعہ کی شام کو تلاشی آپریشن شروع ہوتے ہی موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل رکھی تھی جو ہنوز نافذ العمل ہے۔ادھر پولیس نے جھڑپ سے متعلق بیان میں بتایا کہ جھڑپ میں کئی ساری مشکلات تھیں جن میں علاقے کی جغرافیائی پوزیشن بھی شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ باباگنڈ جھڑپ میں فورسز کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ علاقے کی جغرافیائی صورتحال کو مدنظر رکھ کر جنگجوؤں کو مارگرانے میں فورسز کو بہت ساری مشکلات درپیش رہی۔انہوں نے بتایا کہ جہاں علاقے میں جہاں جنگجوؤں نے پناہ لے رکھی تھی وہ کافی بھیڑ بھاڑ والا علاقہ تھا اور ساتھ ہی یہاں سیولین آبادی واقع تھی۔
انہوں نے بتایا کہ فورسز نے آپریشن کے دوران عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے بیشتر شہریوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے جائے جھڑپ پر 2جنگجوؤں کی لاشیں برآمد کیں جن کی شناخت اور تنظیمی وبستگی سے متعلق جانکاری حاصل کی جارہی ہے۔پولیس کے مطابق مارے گئے جنگجوؤں کی تحویل سے اسلحہ و گولہ بارود اور قابل اعتراض مواد بھی برآمد کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ برآمد کئے گئے قابل اعتراض مواد کو پولیس نے قانونی جانچ کے لیے روانہ کردیا ہے۔اس موقعے پر پولیس نے عام شہریوں سے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرنے سے مکمل طور پر گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ جائے جھڑپ کے ارد گرد طرفین کی فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں کوئی بارودی شل یا مواد پھٹنے سے رہ گیا ہو لہٰذا عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے جب تک نہ جائے جھڑپ کو بارودی مواد سے پاک و صاف کیا جائیگا تب تک عام لوگ یہاں آنے سے اجتناب کریں۔
دنیا
کیف کے قریب گودام پر روسی حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک
کیف، یوکرین کے دارالحکومت کیف کے باہر بوچا ضلع میں ایک گودام پر رات گئے روسی حملے کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ حملے کے بعد گودام میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر دھماکے ہوئے۔
کیف کے علاقائی گورنر تیمور تکاچینکو نے ہفتے کے روز بتایا کہ ’’بدقسمتی سے، موجودہ صورتحال کے مطابق 27 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور یہ تعداد حتمی نہیں بھی ہوسکتی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دمتریوسکا گاؤں کے میئر تاراس دیدیچ بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق کیف کے مغربی مضافات کے قریب واقع ایک گودام کو روسی ڈرون نے نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئے۔
تکاچینکو نے بتایا کہ حملے میں کم از کم 50 رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ گھروں اور ایک ریستوران تک پھیل گئی۔
یوکرینی پراسیکیوٹرز کے مطابق گودام میں ’’دھماکہ خیز مواد‘‘ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مجرمانہ غفلت کے امکان کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کاروباری ادارے کے احاطے میں دھماکہ خیز مواد اور دیگر اشیا ذخیرہ کرنے کی قانونی اجازت تھی یا نہیں، اور متعلقہ کمپنی، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کے پاس ضروری اجازت نامے اور منظوری موجود تھی یا نہیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ میلا گاؤں میں ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا جس کے ’’بعد دھماکہ ہوا‘‘۔ انہوں نے مقام کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم تصدیق کی کہ اس واقعے پر فوجداری کارروائی کی جائے گی۔
زیلنسکی نے کہا، ’’اس حوالے سے ضوابط موجود ہیں، گولہ بارود گھروں یا دیگر رہائشی علاقوں کے قریب ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
دونوں ممالک نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ایک دوسرے پر طویل فاصلے تک حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ اور شہری ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کیف کے علاقائی گورنر نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ حملے میں 42 افراد زخمی ہوئے جبکہ بوچا ضلع سے 380 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم سرہی کوریٹسکی نے کہا کہ جولائی میں کیف کے قریب ویشنِیوے میں گولہ بارود کے ایک ڈپو پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد بھی سبق نہیں سیکھا گیا۔
اس حملے کی تحقیقات میں سرکاری ملکیت والی ایک کمپنی کی جانب سے گولہ بارود کو رہائشی عمارتوں سے مناسب فاصلے پر ذخیرہ کرنے کے حفاظتی معیار پر عمل نہ کرنے کی سنگین خامیاں سامنے آئی تھیں۔
کوریٹسکی نے ٹیلی گرام پر کہا، ’’مکمل پیمانے پر حملے کے پانچویں سال میں بار بار وہی غلطیاں دہرانا مجرمانہ غفلت ہے۔ ذمہ دار ہر شخص کو، کسی استثنا کے بغیر، سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ کبھی پیش نہ آئیں۔‘‘
یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے جمعہ کی رات سے ہفتے کی صبح تک یوکرین پر کم از کم دو میزائل اور 267 ڈرون داغے۔
گودام پر حملے کے علاوہ ہفتے کی صبح روسی حملوں میں جنوبی اودیسا خطے میں ایک شخص اور کیف کے مضافاتی علاقے بوریسپِل میں ایک 14 سالہ لڑکی بھی ہلاک ہوگئی۔
دوسری جانب روس کے بیلگورود خطے میں یوکرینی ڈرون حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔ مقامی حکام کے مطابق زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔
روس کے زیرانتظام جزیرہ نما کریمیا کے شہر سیواستوپول میں بھی یوکرینی ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔ شہر کے روسی مقرر کردہ گورنر میخائل راز ووزایف نے یہ اطلاع دی۔
روس اور یوکرین گزشتہ کئی ماہ سے ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک حملوں میں شدت لا رہے ہیں اور ان حملوں میں لاجسٹکس گوداموں، تیل تنصیبات اور بندرگاہوں سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے نشانہ بنایا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین بڑے پیمانے کے ڈرون حملوں کے ساتھ روس کے روستوف علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے
ماسکو، ایک وسیع پیمانے کے یوکرینی ڈراون حملے میں روس کے جنوبی علاقے روستوف میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ بعض رہائشی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔
ورنر یوری سلوسار نے ٹیلیگرام پر تصدیق کی کہ ‘ دشمن کے شدید حملے میں سات افراد زخمی ہوئے’ اور بتایا کہ چار زخمیوں کو صوبائی دارالحکومت کے اسپتال میں زیرِ علاج لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے حملے کے بعد ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے۔
ضلع پرو لیتارسکی میں گرنے والے ڈراو ن کے ٹکڑوں نے دو بلند رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد ہنگامی خدمات نے رہائشیوں کو عارضی پناہ گاہ میں منتقل کیا۔
اکسائیسکی ضلع میں حکام نے ایک گودام سے ڈراون کے ٹکڑے برآمد کیے اور قریبی جنگل کی پٹی میں آگ بھڑکنے کی اطلاع دی۔
باگایفسکی ضلع میں نجی مکانات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سلوسار نے خبردار کیا کہ ڈراونز کا خطرہ برقرار ہے اور رہائشیوں کو گھر کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
یوکرین نے تاحال اس حملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے:پیزشکیان
تہران، صدرِایران مسعود پزیشکیان نے اپنے ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات کا سرکاری ٹیلی ویژن پر جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے بارے میں کی گئی بات چیت میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ‘معاہدہ شدہ نقشے کی بنیاد پر’ دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا، ‘موجودہ مذاکراتی عمل میں ہرمز کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا۔ اس روڈ میپ کو ایران کے رہنما آیت اللہ مُجتَبٰی خامنہ ای کے سامنے پیش کیا گیا اور پاسدارانِ انقلاب، فوجی قوتیں اور مذاکراتی ٹیم میں شامل ہمارے بھائیوں نے بھی اسے منظور کیا۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘اگر یہ راہداری اسی دائرہ کار کے تحت کھولا جائے تو امریکہ کو بھی اپنے وعدے پورے کرنے چاہییں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو بحری محاصرے اور پابندیوں کو ختم کرنا، ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنا اور اسرائیل پر زور ڈالنا چاہیے کہ وہ لبنان میں اپنے اقدامات روک دے۔
پزیشکیان نے کہا، ‘آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عمل اسلام آباد مفاہمت نامہ میں بیان کردہ اور مخالف فریقین کے قبول کردہ دائرہ کار کے مطابق ہے اور اسے نافذ ہونا چاہیے۔’
اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے پزیشکیان نے کہا، ‘ہمیں اپنے محبوب اور شہید سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے نظریات کی بنیاد پر سفارتکاری کو مضبوط کرنا چاہیے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہیے، اگرچہ ان تعلقات میں ہم آہستگی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘ایران کے زیادہ تر ہمسائے اسلامی ممالک ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ ایک مشترکہ زبان تلاش کرنی چاہیے، اور خطے کی سلامتی کو مل کر یقین دہانی کرانی چاہیے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے بات چیت اور باہمی رابطہ ضروری ہے۔ ہم پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، مصر، آذربائیجان اور ترکمانستان کے ساتھ ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے زمین تیار ہے، ہمیں صرف اپنے نقطہ نظر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
