تازہ ترین
بارہمولہ، سوپوراورحاجن میں جھڑپیں،عسکریت پسند جاں بحق؛ شہری ، ایس ایچ او سمیت 3زخمی
خبراردو:
فوج و فورسز نے جمعرات کو جنگجو مخالف آپریشنوں کو شمالی کشمیر میں جاری رکھتے ہوئے کلنترہ بارہمولہ، وارپورہ سوپور اور میر محلہ حاجن کا مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد کڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشیوں کا آغاز کیا۔ معلوم ہو اکہ فوج کی29آر آر، جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری نے بدھوار شام کو کلنترہ کنڈی بارہمولہ کا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کی تلاش شروع کی۔ اس دوران اگر چہ فورسز نے شام دیرگئے تک کئی رہائشی مکانات کی تلاشی مکمل کرلی تاہم موسم کی خراب صورتحال اور رات کی تاریکی کے پیش نظر جنگجو مخالف آپریشن کو جمعرات کی صبح تک ملتوی کیا گیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ فوج ، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت نے کنڈی کلنترہ علاقے کا کڑا محاصرہ عمل میں لایا جس دوران یہاں تلاشی کا سلسلہ شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز نے علاقے میں جونہی تلاشی کارروائی میں تیزی لائی تو یہاں موجود جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی۔ادھر سوپور کے وارپورہ علاقے میں جمعرات کی دوپہر فوج کی 22آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی نے علاقے کا کڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں جنگجوؤں کی تلاش شروع کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فورسز اہلکارں نے جونہی علاقے میں تلاشی کارروائی کا سلسلہ شروع کیا تو مشتبہ مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی جس کے بعد علاقے میں جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوا۔پولیس نے بتایا کہ ممکنہ طور پر علاقے میں 1سے 2جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جنہیں ڈھونڈ نکالنے کی خاطر ہی وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھپے بیٹھے جنگجوؤں میں سے چوٹی کا کمانڈر بھی بتایا جاتا ہے۔اس دوران یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی کی جانب ایک ہتھ گولہ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں جائے جھڑپ کے نزدیک پولیس افسر سمیت اُن کا ذاتی محافظ زخمی ہوگیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ زخمی پولیس افسر ایس ایچ او ڈنگی وچھ مدثر گیلانی اور اُن کے ذاتی محافظ جاوید احمد کو علاج و معالجے کی خاطر سرینگر منتقل کیا گیا ہے۔ادھر سوپور کے مین ٹاؤن میں قائم سی آر پی ایف کیمپ پر جمعرات کو نامعلوم جنگجوؤں نے ہتھ گولہ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعرات کی دوپہر یہاں قائم سی آر پی ایف کیمپ پر نامعلوم سمت سے ایک ہتھ گولہ داغا گیا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ہتھ گولہ پھٹ جانے کے نتیجے میں قصبہ میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جس دوران یہاں موجود لوگوں نے محفوظ مقامات کی راہ لی۔
اس دوران یہاں تجارتی اداروں کے ساتھ ساتھ دوکانات نے اپنے شٹر گرائے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی کچھ دیر تک معطل رہی۔ معلوم ہوا کہ فورسز اہلکاروں نے دھماکے کے فوراً بعد علاقے کا وسیع پیمانے پر محاصرہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کی تلاش شروع کی۔ اس دوران دھماکے کے بعد یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز اہلکاروں پر خشت باری کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں یہاں تناؤ کی کیفیت چھائی رہی۔ معلوم ہوا کہ فورسز اہلکاروں نے اس موقعے پر احتجاج کررہے مظاہرین کو منشتر کرنے کی غرض سے آنسو گیس کے کئی گولے داغنے کے ساتھ ساتھ فائرنگ بھی کی جسکے نتیجے میں ایک نوجوان ارشاد احمد ساکن فروٹ منڈی سوپور ہاتھ میں گولی لگنے کے نتیجے میں زخمی ہوا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ زخمی نوجوان کو اس موقعے پر سب ڈسٹرکٹ ہسپتال سوپور لے جایا گیا جہاں اُس کا علاج و معالجہ شروع کیا گیا۔ادھر شمالی کشمیر کے ہی حاجن بانڈی پورہ میں فوج و فورسز نے جنگجوؤں سے متعلق اطلاع موصول ہونے کے بعد میر محلہ بستی کا سخت محاصرہ کرتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا۔ معلوم ہوا کہ فورسز اہلکاروں نے میر محلہ نامی بستی کے تمام اندرونی و بیرونی راستوں کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئے یہاں جگہ جگہ فورسز کے اضافی دستوں کوتعینات کیا۔
اس دوران مشتبہ مکان کے نزدیک پیش قدمی کرنے کے ساتھ ہی یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر خود کار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ شروع کی جس کے بعد علاقے میں گن گرج کا سلسلہ شروع ہوا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں اب تک ایک جنگجو کو جاں بحق کردیا گیا ہے جبکہ مہلوک جنگجو کا دوسرا ساتھی فورسز پر وقفے وقفے سے فائرنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جائے جھڑپ کے نزدیک مقامی آبادی کو فورسز نے محفوظ مقامات کی جانب منتقل کردیا تاہم ابھی بھی نزدیکی مکان میں 12برس کا کمسن لڑکا پھنسا ہوا ہے۔ علاقے میں آخری اطلاعات موصول ہونے تک طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ جاری تھا۔ ادھر انتظامیہ نے تینوں مقامات پر امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور بے لگام افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کردیا ہے۔ نمائندوں کے مطابق تینوں مقامات پر پرتناؤ اور کشیدہ صورتحال کے نتیجے میں معمول کی سرگرمیاں ٹھپ رہیں جبکہ سڑکوں پر سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی بند تھی۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے رہنماؤں کا جنگ کے معاشی نقصانات کا اعتراف، سفارت کاری اور دفاع جاری رکھنے کا عزم
تہران، ایران کے رہنماؤں نے امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے بڑھتے ہوئے معاشی نقصانات کا اعتراف کیا ہے۔ ایرانی صدر نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث ملک کی غیر ملکی تجارت ایک تہائی سے زیادہ کم ہوگئی ہے۔
ایرانی قیادت نے ہفتے کے روز اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ تہران امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، سفارت کاری جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز پر اپنے بقول کنٹرول برقرار رکھے گا۔
حکومت نے کہا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنا اب اس کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے، جن میں مہنگائی پر قابو پانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بتدریج ڈالر پر انحصار کم کرنا شامل ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث برآمدات اور درآمدات تقریباً 35 فیصد کم ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود جون میں واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے مختصر مدت کے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے دوران، جب محدود مدت کے لیے تیل کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی، ایران تقریباً 9 کروڑ بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔
سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے منظرعام پر نہیں آئے ہیں، نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کو درپیش مشکلات سے نمٹے۔ اس حملے میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوگئے تھے۔
خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری بیان میں کہا گیا، ’’مہنگائی، بے روزگاری، قیمتوں کے انتظام اور اشیا و خدمات کی منڈی جیسے معاشی اور عوامی زندگی سے متعلق مسائل کے سلسلے سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔‘‘
گزشتہ ماہ ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ تہران کے رہائشیوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ جنگ نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
مریم نامی ایک خاتون نے کہا، ’’جنگ سے پہلے میں کام نہیں کرتی تھی۔ جنگ شروع ہونے کے بعد مجھے اپنے گھر کے اخراجات میں مدد کے لیے ملازمت تلاش کرنا پڑی۔ ہر چیز بہت مہنگی ہوگئی ہے۔‘‘
کھانے پینے کا کاروبار چلانے والے امید نے بتایا کہ کرایوں میں اضافے کے باعث کاروبار تقریباً ختم ہوگیا ہے۔
ان کے بقول، ’’ہم بمشکل اپنے کارکنوں کی اجرت ادا کرپاتے ہیں۔‘‘
ایرانی حکومت نے ہفتے کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں سفارت کاری اور دفاع کو قومی مفادات اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے ’’دو تکمیلی، مربوط اور ناقابلِ تقسیم بازو‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ دونوں محاذوں پر متوازن انداز میں کام جاری رکھے گی۔
تہران سے الجزیرہ کی نمائندہ سینم کوسے اوغلو نے بتایا کہ حکومت قومی اتحاد کا پیغام اجاگر کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر پزشکیان مذاکرات اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کم محاذ آرائی پر مبنی تعلقات کے خواہاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ خطے کا کوئی ملک دوسرے پر حکمرانی نہیں کرتا۔ دوسری جانب سپریم لیڈر نے اندرونی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے جمعرات کو تہران میں ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت دوبارہ کھولنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کو ’’تخلیقی‘‘ قرار دیا۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گی۔
ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اگرچہ ’’دشمن‘‘ نے ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ایران نے اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے ذخیرے کو ’’آخری لمحے تک انتہائی شدت‘‘ کے ساتھ استعمال کیا۔
قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن رضا نے جمعہ کو کہا کہ ایران کے پاس مزید ’’حیرت انگیز اقدامات‘‘ موجود ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا، ’’ہر شخص، خصوصاً دشمنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ مناسب وقت پر ایران کے ان حیرت انگیز اقدامات سے آگاہ ہوجائیں گے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
