تازہ ترین
این آئی اے پر لگام کس لیں گے، مختلف کیسوں میں مطلوب نوجوانوں کو عام معافی سے نواز اجائیگا: عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو سرحدی ضلع کپوارہ کے لولاب علاقے میں بھاری چناوی جلسے سے خطاب کے دوران لوک سبھا انتخابات کو ریاست کی خصوصی پوزیشن دفعہ 370اور 35Aکے ساتھ مشروط قرار دیا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کی پہچان ، شناخت اور خصوصی پوزیشن پر حملے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، اس لئے آنے والے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات نہ صرف تعمیر و ترقی کیلئے ہونگے، نہ صرف روزگار کیلئے ہونگے، نہ صرف امن اور بھائی چارے کیلئے ہونگے بلکہ یہ الیکشن خصوصی طور پر ہمارے دفعہ370اور دفعہ35اے کو پچانے کیلئے الیکشن ہونگے۔انہوں نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کے سوا اور کوئی بھی جماعت دفعہ35اے کو دفاع اور دفعہ370کی مضبوطی کی اہل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قلم دوات کے نشان والی جماعت ہو یا سیب کے نشان والی، ان دونوں نے بھاجپا کو ریاست کی خصوصی پوزیشن پر حملے کرنے کی راہداری فراہم کی۔ ان دونوں جماعتوں نے صرف اپنی کرسی کو ترجیح دی اور ریاست کے مفادات کا سودا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیب کے نشان والی جماعت کے سربراہ نے وزارت میں اچھا قلمدان نہ ملنے پر احتجاج کیا اور دفتر نہیں گئے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ موصوف نے کبھی بحیثیت وزیر دفعہ35اے اوردفعہ370پر کئے جارہے حملوں پر بات نہیں کی، کبھی اس کیخلاف دفتر نہ جاکر احتجاج نہیں کیا، موصوف نے کبھی دفتر نہ جاکر بے روزگاری کیخلاف احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی دیگر عوامی معاملات پربات کی۔ موصوف نے اگر احتجاج کیا تو صرف اور صرف اپنی کرسی کیلئے کیا۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ ’’محبوبہ مفتی کہتی ہے کہ عمر عبداللہ این ڈی اے میں شامل تھے، جی ہاں !محبوبہ جی میں این ڈی اے میں تھا، میں نے اُس این ڈی اے میں تھا جس کی سربراہی اٹل بہاری واجپائی کررہے تھے، جس اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کیساتھ دوستی کی، جس اٹل بہاری واجپائی نے کرناہ میں اپنی تقریر میں کہا کہ ہم دوست بدل سکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں، وہ اٹل بہاری واجپائی جس نے انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے دائرے میں ہمارے مسئلے حل کرنے کی بات کی،میں اُس این ڈی اے کا حصہ تھا جس نے حریت کیساتھ بات کی، میں اُس این ڈی اے کا حصہ تھا جس میں ملک کی تمام سیکولر جماعتیں شامل تھیں، میں نے آپ کی طرح مودی کی این ڈی اے میں کیساتھ ہاتھ نہیں ملایا جس نے گذشتہ5سال کے دورا ن ہماری ریاست کی خصوصی پوزیشن پر مسلسل حملے کئے، جس نے ہمارے کشمیری نوجوان کو ریاست کے باہر نشانہ بنایا ، میں آپ کی طرح اُس بھاجپا حکومت کا حصہ نہیں تھا جس نے پورے ملک میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کررکھا ہے، محبوبہ جی دوسروں پر الزامات عائد کرنے سے قبل اچھا ہوگا آپ اپنا محاسبہ کریں کہ آپ نے بھاجپا کیساتھ مل کر ریاست کو کس تباہی اور بربادی کی نذر کردیا۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا جو لوگ آج کہتے ہیں کہ وہ دفعہ370کو بچائیں گے پچھلے پانچ سال میں دیکھئے انہوں نے کیا کیا؟۔ جی ایس ٹی کا قانون لگاکر ریاست کی مالی خودمختاری سلب کردی، فوڈ سیکورٹی ایکٹ، سرفیسی ایکٹ اور دیگر قوانین عائد کرکے خصوصی پوزیشن کو زبردست نقصان پہنچایا۔این سی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے سابق حکومت کے دوران امن پیدا کیا، ہم نے یہاں کے نوجوانوں کو بندوقوں سے دور رکھا، آج حال دیکھئے ،پڑھے لکھے ہمارے نوجوان بندوق اُٹھا رہے ہیں، یہ 2014کے بعد کی تبدیلی ہے، جب پہلے مودی آئے اور پھر مفتی سعید آئے، ان لوگوں نے اس ریاست کے امن وامان کے ماحول کو تہس نہس کیا اور انہیں ذرا سا بھی افسوس نہیں، ذرا سی بھی ہمدردی نہیں۔ ہمارے لوگ مر مٹ گئے، ہمارے قبرستان بھرے اور اُس کا جواب کیا؟ پیلٹ گن، ٹیئر گیس، پاوا شل، گولیاں۔جب ہم نے محبوبہ مفتی صاحبہ سے کہا ذرا ہمدردی کیجئے، اُس کا جواب کیا ملا ’ یہ کیا دودھ لانے گئے تھے ، یہ کیا ٹافی لانے گئے تھے؟یہ حملہ کریں گے تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا‘۔ مجھے آج بھی محبوبہ مفتی کے یہ الفاظ یاد ہیں جب انہوں نے کہا کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کیلئے ہوتے ہیں لیکن جو ہمارے وردی والے ہیں اُن کی بندوقیں دکھانے کیلئے نہیں استعمال کرنے کیلئے بھی ہوتی ہیں۔ اور آج موصوفہ مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہیں ،آج ہمدردی، آج افسوس، آج کہتی ہیں کہ میں ریاست کیلئے ہر کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہوں۔خبردار !میں لوگوں کو مگرمچھ کے آنسوؤں سے خبردار کرتا ہوں‘‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ 2015کے بعد کتنے ہزار نوجوانوں کو پرانے کیسوں میں پھنسایا جارہاہے، بے شمار نوجوانوں پر پی ایس اے عائد کیا گیا، کتنے نوجوانوں کو ریاست کے باہر جیلوں میں بھیجا گیا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت آئی تو ہم ان سب کیسوں کا جائزہ لیکر اُن کو معاف کرنا شروع کریں گے۔یہ سب سختیاں محبوبہ مفتی کی حکومت کی دین ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی آئے روز این آئی اے کی کارروائی کیخلاف بیان بازی کررہی ہیں لیکن محبوبہ مفتی یہ نہیں کہتی ہیں کہ یہ سارے کیس اُن کے ہی دورِ حکومت میں لگے۔جس کیس کے تحت میرواعظ عمر فاروق کو تنگ طلب کیا جارہا ہے، جس کیس کے تحت شبیر احمد شاہ اور محمد یاسین ملک بند ہیں ، اُن کی اجازت کس نے دی ؟محبوبہ مفتی آج کس بات پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہیں؟جب آپ کی حکومت میں یہ سب کیس دائر ہورہے تھے تب آپ نے منہ نہیں کھولا۔ انہوں نے کہا کہ میرے دورِ حکومت میں این آئی اے نے صرف ایک کارروائی کی اور اُس میں بھی سرحد پار سے گھر واپس لوٹ رہا کپوارہ کا لیاقت باعزت بری ہوا۔ لیاقت کو یو پی کی پولیس نے گرفتار کرکے ملی ٹنٹ جتلایا اور دلی پولیس کے حوالے کردیا اور اُسے تہاڑ جیل بھیجنے کی تیاریاں کی جارہی تھیں۔ میں نے دلی میں این آئی اے کے ذریعے اُس کی تحقیقات کروائی اور اُسے بے گناہ ثابت کروایا۔ اور اتفاق سے لیاقت صاحب اس جلسے میں موجود ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت آئی تو ہم این آئی اے کی سختیوں پر بریک لگادیں گے اور میں نے پہلے ہی وعدہ کیا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت بنی تو ہم پبلک سیفٹی ایکٹ کو قانون کی کتاب سے مٹا دیں گے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 2014کی طرح غلطی نہیں دہرانا اور ایسے عناصر کو ہر حال میں ناکام بنانا ہے جو ہماری شناخت اور ہماری پہنچان کے در پے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم نے لولاب کو سیاحتی نقشے پر لانے کیلئے کام شروع کیا تھا لیکن پی ڈی پی کی حکومت آئی اور سب کچھ دھرا کا دھرا ہی رہ گیا۔اس دوران جلسے سے پارٹی کے سٹیٹ سکریٹری چودھری محمد رمضان، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، شمالی زون صدر و نامزد اُمیدوار ایڈوکیٹ محمد اکبر لون، سینئر لیڈر و سابق ایم پی شریف الدین شارق،ضلع صدر کپوارہ قیصر جمشید لون اور سلام الدین بجا ڑنے بھی خطابات کئے۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
