تازہ ترین
بریگزٹ ڈیل ناکام، 29 مارچ آگئی بریگزٹ نہ ہوسکا
خبراردو:
بریگزٹ ڈیل کے بارہا مسترد ہونے کے باعث ریفرنڈم کے ذریعے طے شدہ تاریخ پر برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلاء ممکن نہیں ہوسکا۔
تفصیلات کے مطابق برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان آج ہونے والا طے شدہ بریگزٹ وقوع پذیر نہیں ہوسکا جس کی وجہ برطانوی اراکین پارلیمنٹ کا یورپی یونین کے ساتھ کسی بھی معاہدے پر نہ پہنچنا ہے۔
بریگزٹ معاہدے کی عدم منظوری کے باعث برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے بریگزٹ کی تاریخ میں توسیع کے حوالے سے قرارداد پیش کی تھی جیسے 105 کے مقابلے میں 441 ووٹوں سے منظور کیا گیا تھا۔
ہاؤس آف کامنز کی جانب سے بریگزٹ کی تاریخ میں تو توسیع کی قرار داد منظور کرلی گئی تاہم بریگزٹ معاہدے کی تاریخ طے کرنا ابھی باقی ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ میں جمعے (آج) کے روز ایک مرتبہ پھر بریگزٹ ڈیل پر ووٹنگ ہوگی اور اگر آج بریگزٹ معاہدہ منظور کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اراکین پارلیمنٹ 22 مئی تک بریگزٹ میں توسیع کو باقی رکھ پائیں گے۔
یورپی یونین سے بریگزٹ ڈیل منظور کروانے میں کامیابی کے باوجود برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے وزیر اعظم تھریسامے کے تیار کردہ بریگزٹ ڈیل کے مسودے کو مسترد کردیا تھا، اس کے علاوہ بھی ہاوس آف کامنز کی جانب سے کئی مرتبہ بریگزٹ ڈیل مسترد کی جاچکی ہے۔
خیال رہے کہ 27 مارچ کو بریگزٹ پر تھریسامے کی حکومت کو ایک اور ناکامی سامنا کرنا پڑا تھا، برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے بریگزٹ کا اختیار وزیراعظم تھریسامے سے چھین لیا تھا، پیش کی جانے والی قرار داد کے حق میں 320 کے مقابلے میں 329 ووٹ پڑے تھے۔
بعد ازاں تھریسامے حکومت کا کہنا تھا کہ بریگزٹ کے آپشنز پر ترجیحات طے کرنے کا اختیار حاصل کرکے ارکان نے مستقبل کے لیے خطرناک مثال قائم کردی ہے۔
دوسری جانب بریگزٹ ڈیل میں پارلیمنٹ سے ناکامی کے بعد برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے مستعفی ہونے کا عندیہ دے دیا تھا۔
برطانوی وزیراعظم تھریسامے کا کنزرویٹو پالیمنٹری گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بریگزٹ پر ہونے والے آئندہ مذاکرات میں حصہ بھی نہیں لوں گی۔
وزیر اعظم تھریسا مے سے بریگزٹ امور کا اختیار چھیننے کے بعد ہاؤس آف کامنز اپنے طور پر یہ مرحلہ طے کرنے کے لیے کوشاں ہے، اسی سلسلے میں بریگزٹ پر دوسرے ریفرنڈم سے لے کر یورپی یونین سے بغیر کسی معاہدے کے نکلنے کی تجاویز شامل تھیں۔
غیر متوقع طور پر ممبران پارلیمنٹ نے ووٹنگ کے لیے لابیوں کا رخ کرنے کا طریقہ کار اپنانے کے بجائے پرنٹ شدہ ووٹنگ کو ترجیح دی جس کے بعد دارالعوام کے اسپیکر جون بیر کاؤ نے نتائج کا اعلان کیا، جن میں نمائندگان نے مندرجہ ذیل تجاویز کو مسترد کردیا۔
اگر 12 اپریل تک کوئی معاہدہ نہ ہو تو یک طرفہ طور پر یورپی یونین سےنکلنے کا منصوبہ ترک کردیا جائے۔
یورپی یونین سے نکلنے کے لیے کسی ڈیل پر ریفرنڈم کرایا جائے۔
یورپی یونین سے نکلا جائے لیکن یورپی یونین کے 27 ممالک کے ساتھ کسٹم یونین میں رہا جائے۔
یورپی یونین کو چھوڑا جائے لیکن یورپی اکانومک ایریا میں رہا جائے اور یورپی فری ٹریڈ ایسو سی ایشن میں دوبارہ شمولیت اختیار کی جائے۔
انخلا کے معاہدے پر لیبر پارٹی کے نقطہ نثر سے تبدیلی لانے کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔
یورپی یونین کی اس پیشکش سے اتفاق کیا جائے کہ دو سال تک برطانوی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک مکمل رسائی حاصل رہے گی۔
یاد رہے کہ 24 مارچ کو برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء (بریگزٹ) انخلاء کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں برطانوی شہریوں سے دارالحکومت لندن کی سڑکوں پر احتجاجی مارچ کیا تھا جس میں مظاہرین نے وزیر اعظم نے بریگزٹ پر نئے ریفرنڈم کا مطالبہ کردیا۔
برطانوی شہریوں کی جانب سے 22 مارچ کو پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر ایک پٹیشن دائر کی گئی تھی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ یورپی یونین سے انخلاء کا فیصلہ واپس لے اور یورپی یونین کا رکنیت باقی رکھے جس پر اب تک چالیس لاکھ افراد سے زائد دستخط کرچکے ہیں۔
واضح رہے کہ برطانوی ارکان پارلیمان نے 9 جنوری کو ہونے والی قرارداد کو 297 کے مقابلے میں 308 ووٹوں کی اکثریت سے مسترد کردیا تھا جس میں بریگزٹ ڈیل پر ہونے ہونے والی پارلیمانی ووٹنگ ممکنہ طور پر ناکام رہنے کے بعد پارلیمانی فیصلہ سازی کا طریقہ کار بدلنے کی بات کی گئی تھی۔
اراکین پارلیمنٹ نے 16 جنوری بریگزٹ معاہدے پر پارلیمنٹ میں ووٹنگ ہوئی تھی جس میں برطانوی حکومت کوشکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حکومت کی شکست کے بعد اپوزیشن نے وزیراعظم تھریسا مے کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی پیش کی تھی جو ناکام رہی۔
برطانیہ کی پارلیمنٹ میں وزیراعظم تھریسامے کے یورپی یونین سے انخلاء کے لیے کیے گئے بریگزٹ منصوبے پر 30 جنوری کو پھر ووٹنگ کی گئی تھی، تاہم اراکین پارلیمنٹ نے ایک کے بعد ایک، پانچ ترمیمی بل مسترد کردیا تھا۔
برطانوی حکام کی جانب سے یورپی یونین سے نو ڈیل بریگزٹ کی صورت میں ممکنہ مظاہروں کے پیش نظر ملک میں سرد جنگ کے دوران لاگو کیا جانے والے ایمرجنسی پلان پر دوبارہ عمل شروع کیا گیا تھا تاکہ شاہی خاندان کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جاسکے۔
واضح رہے کہ سنہ 2016 میں 1 کروڑ 70 لاکھ افراد نے (51 فیصد) نے یورپی یونین سے انخلاء کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ 1 کروڑ 60 لاکھ افراد نے بریگزٹ کے خلاف ووٹنگ کی تھی۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
