تازہ ترین
ویڈو: سرینگر لوک سبھا سیٹ کا اگلا ممبرپالیمان کون ہو گا؟؟
رضوان سلطان:
ریاست کے پارلیمانی چناؤ کے پہلے مرحلے میں جموں اور بارہمولہ کی نشستوں پر ۴۷ امیدواروں کی سیاسی قسمت الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بند ہونے کے بعد اب دوسرے مرحلے کیلئے ۱۸ اپریل کو ادھم پور اور سرینگر کی سیٹ پر چناؤ ہونگے ۔
سرینگر سیٹ پر کل ووٹروں کی تعداد بارہ لاکھ ۹۵ ہزار ہے۔ جن میں چھ لاکھ ۶۷ ہزار مرد اور چھ لاکھ ستائس ہزار خواتین شامل ہیں ۔ ۱۵ اسمبلی حلقوں پر مشتمل سرینگر پارلیمانی سیٹ میں ۸ اسمبلی حلقے سرینگر ضلع میں ، بڈگام ضلع میں پانچ اسمبلی حلقے ، اور گاندبل میں دو اسمبلی حلقے ہیں ۔ اس نشست پر کل ۱۲ امیدوار میدان میں ہیں ، جن میں سب سے پہلے اس سیٹ سے موجود ہ ایم پی ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی بات کرتے ہیں ۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ تین مرتبہ لوک سبھا ممبر چنے گئے ۔ اسکے علاوہ وہ ریاست کے تین مرتبہ وزیر اعلی اور مرکزی وزیر بھی رہے ہیں ۔۱۹۸۰ سے اپنے سیاسی کرئر کا آغاز کرنے والے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے صرف ایک مرتبہ چناؤ ہارا وہ بھی اسی پارلیمانی سیٹ سے ، جہاں وہ ۲۰۱۴ کے چناؤ میں تب کے پی ڈی پی امیدوار طارق حمید قرہ سے ہارے تھے ،لیکن طارق قرہ کے استعفی ٰکے بعد ۲۰۱۷ کے ضمنی چناء میں فاروق عبداللہ کامیاب ہو کر پھر پارلیمنٹ پہنچے ۔ان انتخابات میں سیاسی ماہرین کے مطابق ان کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں کیوں کہ ایک طرف کانگریس بھی فاروق عبداللہ کا ہی ساتھ دے رہی ہے ، وہیں دیگر جماعتوں کے پاس بھی طارق حمید قرہ جیسا امیدوار نظر نہیں آ رہا ۔
انکے بعد عمران رضا انصاری کے بھائی اور بزنس ٹائیکون عرفان انصاری ہیں ۔ عمران کے بعد وہ بھی پی سی میں شا مل ہوئے اور پہلے ہی ٹکٹ حاصل کر لی ۔اگر چہ عرفان اس نشست میں سب سے زیادہ امیر امیدوار ہیں ۔جبکہ ان کا انحصار شعیہ ووٹروں پر تھا ، تاہم پی ڈی پی نے بھی شعیہ امیدوار ہی میدان میں اتارا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہو گا شعیہ ووٹ کا رخ کس جانب ہو گا ۔
پی ڈی پی کے شعیہ امیدوار آغا سید محسن جو ۲۰۱۴ کے انتخابات میں آزاد امیدوار کے بطور لڑے ۔تین لاکھ بارہ ہزار درج کئے گئے ووٹوں میں انہوں نے سولہ ہزار ووٹ حاصل کئے ۔ ۲۰۱۴ میں پی ڈی پی امیدوار نے پچاس فیصد ووٹ ھاصل کئے تھے ، ۲۰۱۷ کے ضمنی چناؤ میں فاروق عبداللہ نے جہاں ۵۴ فیصد ووٹ حاصل کئے تھے وہیں پی ڈی پی امیدوار نے ۴۲ فیصد ووٹ حاصل کئے ۔اب اس بار اگر پی ڈی پی اپنے ووٹ واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تو فاروق عبداللہ کو کڑی ٹکر دی جا سکتی ہے ۔
ان کے علاوہ بھاجپا کے خالد جہانگیر بھی میدان میں ہیں ۔ جو مصنف بھی ہیں ، انہوں نے ۲۰۱۴ میں بھاجپا میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ خالد جہانگیر جموں کشمیر پروجیکٹس کنسٹرکشن کارپوریشن کے نائب چےئر مین بھی رہے ہیں ۔، اسکے علاوہ خالد انسانی حقوق کے متعلق اقوام متحدہ کمیشن میں ۱۹۹۹ سے ۲۰۰۳ تک نمائندگی کرنے والے کم عمر کشمیر ی تھے ۔انہوں نے اسکے علاوہ بین الاقوامی تنظیم رینڈ ، اور یورپین پارلیمنٹ میں بھی شرکت کی تھی ۔وہ Foundation for Resource Development & Education (FRDE) کے ڈائریکٹر بھی ہیں ۔بھاجپا نے وادی کے اخبارات میں انکی جیت کیلئے بھگوا رنگ کے بجائے ہرا رنگ میں اشتہارات نشر کروائے ۔ اب یہ وقت ہی بتائے گا ، انہیں اس اقدام سے کتنا فائدہ ہوتا ہے ۔
ان کے علاوہ شیو سینا کے عبدالخالق بٹ ، راشٹرا جن کرانتی پارٹی کے نزیر احمد لون ،مانو ادھکار نیشنل پارٹی کے نذیر احمد صوفی کے علاوہ دیگر آزاد امیدوار میدان میں ہیں ۔
ان امیدواروں میں اگر کوئی فاروق عبداللہ کوٹکر دے سکتا ہے تو وہ ہیں پی ڈی پی کے آغا سید محسن ۔ اب ۲۳ مئی کو ہی پتہ چل پائے گا کہ فاروق عبداللہ کو چوتھی ، مرتبہ پارلیمنٹ پہنچنے سے کوئی روک پائے گا یا نہیں۔
آپ کی نظر میں اگلا ممبر پارلیمان سرینگر کون ہونا چاہیے کمنٹ بکس میں ضرور بتائیے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
