تازہ ترین
پوری ریاست کے لوگ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کیلئے کھڑے ہو جائیں:انجینئر رشید
خبراردو: عوامی اتحاد پارٹی کے صدر انجینئر رشید نے اضافی فورسز کی تعیناتی سے متعلق سرکاری حلقوں سمیت مخلف حلقوں کی جانب سے پھیلائی جارہی افواہوں کو تشویشناک بتاتے ہوئے اس سلسلے میں نئی دلی کو اپنا موقف واضح کرنے کیلئے کہا ہے.
آج یہاں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر رشید نے اس بات کو ششدر کردینے والا بتایا کہ نئی دلی مسئلہ کشمیر کے حل کی بجائے جموں کشمیر میں اضافی فورسز کو تعینات کرکے یہاں کے لوگوں کو خوفزدہ کر رہی ہے. انجینئر رشید نے تاہم کہا کہ کشمیریوں کو ڈرانے کی کوشش کرنے والوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ کشمیریوں نے گزشتہ تیس سال کے دوران بدترین حالات کا مقابلہ کرنا سیکھا ہے لہٰذا اگر نئی دلی نے دفعہ 370 یا 35A کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو وہ اپنے مفادات کی قبر خودنے کے سوا کچھ حاصل نہیں کرسکتی ہے. انہوں نے کہا کہ یہ دونوں دفعات جموں کشمیر کے عوام کے لئے کوئی رعایت نہیں ہے بلکہ یہ ان وعدوں اور آئینی ضمانتوں کا حصہ ہیں کہ جو خود نئی دلی نے کشمیریوں کو دی ہوئی ہیں. انہوں نے کہا ” یہ بات بھی ذہن میں رکھنے والی ہے کہ جموں کشمیر کو حاصل جن آئینی ضمانتوں کو لیکر ہنگامہ برپا ہے وہ فقط اسی ایک ریاست کو نہیں دی گئی ہیں.
نئی دلی آگ سے کھیل رہی ہے اور وہی سب کرنا چاہتی ہے کہ جو نام نہاد سخت گیر اور بنیاد پرست اسے کرتے دیکھنا چاہتے ہیں. مرکزی سرکار اور حکمران جماعت بی جے پی کے مذکورہ بالا دفعات کو فقط زیر بحث لانے سے بھی ان لوگوں کی دلیل تسلیم شدہ بنتی ہے کہ جو آئین ہند کے اندر مسئلہ کشمیر کا حل نہیں دیکھتے ہیں “. انجینئر رشید نے مزید کہا کہ اس طرح کے معاملات پر غیر ضروری بحث و مباحثہ کی حوصلہ افزائی کر کے نئی دلی در اصل خود اپنی اس دعویداری کو جھٹلا رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو آئین ہند کے دائرے میں حل کیا جاسکتا ہے. انہوں نے کہا” اتنا ہی نہیں بلکہ نئی دلی کے اس رویہ سے جموں کشمیر میں مین سٹریم سیاست کے مواقع ختم ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے راستے بند ہوجاتے ہیں کہ جو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کرنے والے ہیں “. انجینئر رشید نے کہا کہ اگر اضافی فورسز کو امن و قانون کے لئے لایا جارہا ہے تو پھر اس دعویداری کا کیا کہ کشمیر کے حالات ٹھیک ہو رہے ہیں اور ملی ٹینسی میں کمی آرہی ہے. انجینئر رشید نے کہا کہ جب جب کشمیر میں اضافی فورسز کی تعیناتی ہوگی ریاست میں بحالی امن کی دعویداریاں ڈھکوسلہ ثابت ہوتی رہیں گی. انہوں نے کہا کہ نریندر مودی، امت شاہ اور راجناتھ سنگھ کو اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ انکے پاس کشمیریوں کو پیش کرنے کے لئے کیا ہے کہ جو وہ گاہے گاہے انہیں مذاکرات کے لئے آمادہ ہونے کیلئے کہتے رہتے ہیں.
عوامی اتحاد پارٹی کے صدر نے کہا کہ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے مین اسٹریم کے سیاستدان ننگا ہوجائیں گے اور انکی جگہ ہمیشہ کیلئے ختم سمجھی جانی چاہئے. انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھاجپا لیڈر شیو راج سنگھ چوہان نے افواہوں کو رد کردیا ہے تاہم مرکزی سرکار کو ٹھوس اور با ضابطہ وضاحت دیکر بے چینی کو دور کرنا چاہیے. انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں موجودہ بے چینی اور ابہام کی صورتحال ہندوستان کیلئے جشن منانے کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ اس پر ہند مخالف عناصر خوب خوشیاں مناتے ہونگے. انجینئر رشید نے کہا کہ جموں اور لداخ کے لوگوں کو دفعات مذکورہ کو کشمیریوں کا مسئلہ نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ انہیں ان دفعات کی اصل اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے کسی بھی پروپیگنڈہ کا شکار ہونے َے بچنا چاہئے. انہوں نے کہا “حیرت ہے کہ کشمیریوں پر قومی مفاد کے خلاف ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے لیکن نئی دلی کی وعدہ خلافی پر کوئی بات نہیں کرتا. وقت وقت کی ہندوستانی حکومتوں نے الحاق کی شرائط کو توڑا ہے لجک. افسوس اس بات کا ہے کہ کشمیریوں پر پاکستان کے پراکسی ہونے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے. دلی والوں کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ مہاراجہ یا الحاق کے لوازمات سے وابستہ رہنے والے کسی اور نے پاکستان سے اجازت نہیں مانگی تھی اور نہ ہی دستاویز الحاق میں وہ شقیں پاکستان نے شامل کروائی تھیں کہ جن پر ابھی ہنگامہ کیا جارہا ہے”.
نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور دیگر جماعتوں کو نئی دلی کے گناہوں میں شریک بتاتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ ان جماعتوں نے ہمیشہ دلی کے منصوبوں کو عملانے کا کام کیا ہے جس کے لئے ان سبھی کو ریاستی عوام سے معافی مانگنی چاہیے. تاہم انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اختلافات کو بھول کر ان سبھی کے اتحاد کا تقاضا کرتے ہیں کہ جو واقعی دفعہ 370 اور 35 A کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں. انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان دفعات کا تحفط مذہب، زبان، ذات اور دیگر عصبیتوں سے بالا ہوکر جموں کشمیر کے سبھی باشندوں کیلئے مساوی اہمیت کا حامل ہے لہٰذا سبھی کو ایک ہوکر ان دفعات کے خلاف ہونے والی سازشوں کے مقابلہ کیلئے تیار ہونا چاہئے.انجینئر رشید نے سرکار کی طرف سے سرینگر گالف کلب کو عام لوگوں کیلئے کھولنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے سرکار سے کہا ہے کہ اگر اس کی نیت صاف ہے تو اسے چاہئے کہ جموں گالف کلب کو بھی عام لوگوں کیلئے اسی طرح کھولا جائے۔
کرپشن کے متعلق گورنر انتظامیہ کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کیلئے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ اگر چہ ہر کشمیری کرپشن کے خلاف جہاد میں سرکار کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہے لیکن جس طرح سے صرف چند اشخاص کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کشمیری سیاستدانوں کی اعتباریت کو ختم کرنا چاہتی ہے۔
انجینئر رشید نے کہا کہ نئی حد بندی کے بارے میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر 2026تک ایسا کرنے میں قانونی پیچیدگیاں حائل ہیں تو اسمبلی انتخابات کے بعد مناسب طریقے سے اسمبلی کے اندر ترامیم کے بعد از سر نو حدبندی کی شروعات کی جا سکتی ہے۔ انجینئر رشید نے مغربی پاکستانی رفیوجیوں کو مہمان قرار دیتے ہوئے اس بات کو دہرایا کہ وہ کسی بھی قیمت پر ریاست کے شہری نہیں بن سکتے اور انہیں ہر حال میں واپس مغربی پاکستان اپنے اپنے گھروں کو بھیجنے کے اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
دنیا6 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
