تازہ ترین
آج کا سنگ باز کل کا جنگجو، کشمیری مائیں بال بچوں کی فکر کریں : لفٹنٹ جنرل ایس ایس ڈھلون
خبراردو: فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کی مشترکہ پریس کانفرنس میں 15ویں کور کے کمانڈر لفٹنٹ جنرل سربجیت سنگھ ڈھلون نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ کشمیر میں حالات کو بگاڑنے کیلئے امر ناتھ یاترا کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
فوج، سی آر پی ایف اور پولیس نے جمعرات کو 15ویں کارپس کمانڈ کے ہیڈکوارٹر پر بلائی گئی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا کہ حد متارکہ پر حالات پرامن ہے۔ 15ویں کور کے کمانڈر لفٹنٹ جنرل سربجیت سنگھ ڈھلون نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ کشمیر میں حالات کو بگاڑنے کیلئے اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیرمیں غیر یقینی اور کشیدہ صورتحال کو جاری رکھنے کیلئے کشمیر میں حالات کو خراب کرنا چاہتا ہے۔ فوجی آفیسر کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر میں امن کی فضا کو مکدر بنانے کیلئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوا ہے تاہم انہوں نے گزشتہ دنوں سے حد متارکہ پار جاری آر پار کی گولہ باری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال پرامن ہے۔انہوں نے بتایا کہ وادی میں جنگجوؤں کی طرف سے خطرات ہنوز برقرار ہے۔
جگہ جگہ بارودی سرنگوں کا خطرہ عیاں ہے تاہم سیکورٹی فورسز اس طرح کی کارروائیوں کو ڈیل کرنے کی خاطر مسلسل تلاشی کارروائیاں عمل میں لارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فورسز کی جانب سے جنوبی کشمیر کے شوپیان علاقے میں تلاشی کارروائیاں جاری ہیں جہاں پر جنگجو نے فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔لفٹنٹ جنرل ایس ایس ڈھلون کا کہنا تھا کہ تلاشی کارروائی کے دوران یہاں سے ایک سرنگ برآمد کی گئی جس پر پاکستانی فیکٹری کا نام ثبت تھا۔انہوں نے بتایاکہ امرناتھ یاترا کے روایتی راستے پر فورسز نے تلاشی کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں دیگر نوعیت کا اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیاجن میں امریکی ساخت M-24انساس رائفل اور پاکستان کی جانب سے بنائی گئی بارودی سرنگ بھی شامل ہیں۔اس دوران فوجی آفیسر نے بتایا کہ 83فیصد جنگجو سنگ باری میں ملوث رہے ہیں۔ فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان امرناتھ یاترا کو نشانہ بنانے کی غرض سے کشمیر میں حالات کو خراب کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے تلاشی کارروائی کے دوران شوپیان علاقے سے امریکی سخت سنائپر اور پاکستان کی تیار کردہ بارودی سرنگ کو برآمد کیا۔
لفٹنٹ جنرل ایس ایس ڈھلون نے کہا کہ کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو بگاڑنے کی پاکستان کو قطعی طور پر اجازت نہیں دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ امن کی صورتحال کو بگاڑنے کیلئے پاکستان کا ہر قدم ناقابل برداشت ہے جس کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ حد متارکہ پر اگر چہ کئی دنوں سے آرپار کی گولہ باری جاری ہے تاہم مجموعی طور پر یہاں صورتحال قابو میں ہے کیوں کہ پاکستان کی طرف سے دراندازی کی کوششوں کا فورسز بھر پور طریقے سے جواب دے رہے ہیں۔ پاکستان اس تاک میں بیٹھا ہے کہ وہ دراندازوں کو اس پار دھکیلنے میں لگا ہوا ہے تاہم سرحدوں پر تعینات فوج الرٹ ہے اور پاکستان کی طرف سے کی جارہی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔فوجی آفیسر نے بتایا کہ شوپیان علاقے سے جو بارودی مواد برآمد کیا گیا اُسے تحقیقات کیلئے ماہرین کے سپرد کیا گیا ہے۔پاکستان کشمیر میں امن کی فضا کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے۔ ہم عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ امن کی فضا کو بگاڑنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ تلاشی کارروائی کے دوران فورسز نے پاکستان ساخت بارودی سرنگوں کو بھی برآمد کیا جس یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ کشمیر میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کیلئے پاکستانی فوج جنگجوؤں کوہر ممکن تعاون فراہم کررہی ہے تاہم انہوں نے جگہ کے نام کا خلاصہ نہیں کیا۔
ادھر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جموں وکشمیر میں مجموعی طور پر سرگرم جنگجوؤں کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کیساتھ ساتھ جموں صوبے میں بھی اب سرگرم جنگجوؤں کی تعداد کم ہوتی نظر آرہی ہے۔فورسز کی اضافی تعیناتی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ ہمیں خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جنگجو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں عمل میں لاسکتے ہیں۔اسی لیے ہم نے کشمیر کے اندر فورسز کی اضافی نفری کو طلب کرلیا۔اس کے علاوہ ہمیں کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی پر پہلے سے تعینات فورسز اہلکاروں کو کچھ وقت آرام کیلئے بھی مہیا کیا جانا چاہیے، اور یہ سلسلہ معمول چلتا رہتا ہے۔اضافی فورسز کی تعیناتی سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دلباغ سنگھ نے بتایا کہ پہلے سے موجود فورسز اہلکاروں کو کچھ وقت آرام کیلئے درکار ہے، جن کی جگہ دوسری نفری کو تعینات کیا جارہا ہے تاکہ سیکورٹی گرڈ میں کسی طرح کی کمی واقع نہ ہو۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس سوائم پرکاش پانی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ فورسز نے پلوامہ اور شوپیان علاقوں میں جنگجوؤں نے 10مرتبہ آئی ای ڈی دھماکے کئے۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ اور شوپیان علاقوں میں جنگجوؤں نے سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنائے جانے کی غرض سے 10مرتبہ زیر زمین دھماکے کئے۔
پریس کانفرنس کے دوران فورسز کے اعلیٰ حکام نے ماؤں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آج کا سنگ باز نوجوان کل کا جنگجو ہوسکتا ہے لہٰذ ااپنے بال بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ فورسز کمانڈروں کا کہنا تھا کہ ”ہم نے کشمیر میں جاری دہشت گردی کا گہرائی سے جائزہ لیا، 83فیصدی مقامی نوجوان جنہوں نے بندوق اور تشدد کا راستہ اختیار کیا، ان کا ماضی سنگ بازی میں ملوث رہا ہے، لہٰذا ہم کشمیری ماؤں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو خصوصی خیال رکھیں، انہیں سنگ بازی جیسی کارروائی سے باز رکھیں، کیوں کہ آج کا سنگ باز نوجوان کل کا دہشت گرد ہوگا“۔انہوں نے کہا کہ نوجوان 500روپے کے عوض سنگ باری کرتا ہے اور کل یہی نوجوان دہشت گرد بن جاتا ہے۔پریس کانفرنس سے آئی جی سی آر پی ایف ذوالفقار حسن کا کہنا تھا کہ امسال امرناتھ یاترا میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا تاہم سخت خطرات کے باوجود ہم نے یاترا کو پرامن طریقے پر منعقد کرنے کیلئے کئی اقدامات اُٹھائے۔ جنگجوؤں کی جانب سے یاترا میں خلل ڈالنے کیلئے کئی کوششیں کی گئیں لیکن فورسزکی مشترکہ کارروائیوں، ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوام کے تعاون کے نتیجے میں اس طرح کی کارروائیاں ناکام ہوئیں
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
