تازہ ترین
منسوخی خصوصی پوزیشن کا 109 واں دن ،معمولاتِ زندگی کی رفتار تھم گئی
خبراردو:
نومبر 21:
جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے اور ریاست کو2حصوں میں منقسم کرکے’دویونین ٹریٹریز ‘قرار دئے جانے کے فیصلے کے بعد وادی کشمیر میں پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال نے جمعرات کو اُس وقت اچانک کروٹ بدلی ،جب شہر سرینگرکے سبھی بازاروں میں تذبذب کیساتھ خاموشی چھا گئی ۔دفعہ370کی تنسیخ کے109ویں روز ،21نومبر کو شہر سرینگر کے سبھی بازاروں میں محدود کاروباری سرگرمیاں متاثر رہیں ۔تجارتی مرکز لالچوک کے کم و بیش سبھی بازاروں میں جمعرات کو ہر طرح کے دکان بندرہے ۔سرینگر کے نامہ نگارکے مطابق جمعرات کو شہر خاص کیساتھ ساتھ سیول لائنز بشمول لالچوک میں حسب معمول محدود کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے ہی والی تھیں کہ اچانک دکانات کے شٹر نیچے گرنے شروع ہوگئے ۔ مختلف علاقوں سے جب دکاندار صبح8بجے کے قریب محدود کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کےلئے لالچوک پہنچنے ،تو یہاں انہوں نے عجب صورتحال پائی ۔بیشتر دکاندار وں نے حسب ِ سابقہ صبح 8بجے دکان کھولے ،تو 9بجنے سے قبل ہی تجارتی مرکز لالچوک میں افراتفری اور سراسیمگی کا ماحول قائم ہوا ،جسکے ساتھ ہی دکانات کے شٹر نیچے گرنے شروع ہوگئے ۔
ساڑھے 9بجے تک لالچوک اور اسکے گرد ونواح بازاروں میں آناً فاناً بند ہوگیا اور تاخیر سے پہنچنے والے دکاندار اچانک بدلی صورتحال کو دیکھ کرششدر ہوکر رہ گئے ۔لالچوک کے سبھی مرکزی بازاروں کے دکاندار وں اور تاجروں نے چمہ گوئیوں کے ماحول میں گھروں کی طرف واپسی کی راہ اختیار کی ۔تاہم سیول لائنز کے چند ایک بازاروں میں اکا دکا دکان آدھی شٹر اوپر کیساتھ کھلے رہے ،لیکن دوپہر سے قبل ہی یہ دکان بھی بند ہوگئے ۔بعض دکانداروں نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اُنہیں آج بند کرنے کےلئے کہا گیا ،تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ بند کرنے کےلئے کس نے کہا ۔ایک دکاندار نے بتایا ’ کشمیر میں کب کیا ہوگا ؟اللہ ہی رحم کرنے والا ہے‘ ۔افراتفری اور سرا سیمگی و چمہ گوئیوں کے ماحول میں جمعرات کو لالچوک کے علاوہ سیول لائنز کے دیگر علاقوں میں بازار بند رہے ۔جمعرات کو شہر سرینگر میں مجموعی طور پر محدود کاروباری سرگرمیاں مکمل طور دن بھر کےلئے ٹھپ رہیں ۔بعض بازاروں میں دکانات کے شٹر اوپر اور نیچے کرنے کا عمل دوپہر تک جاری رہا ۔یاد رہے کہ 6نومبر کو موسم کی پہلی برفباری کے بعد واد ی میںآہستہ آہستہ معمولات زندگی بحالی کی طرف گامزن ہونے لگے تھے ۔صبح8سے لیکردوپہر2بجے یا اڑھائی بجے تک محدود کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی تھیں جسکے نتیجے میں بازاروں میں غیر معمولی چہل پہل اور رونق نظر آرہی تھی جبکہ پبلک اور نجی ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی سے جگہ جگہ ٹریفک جام بھی دیکھنے کو ملتے تھے ۔تاہم جمعرات کو معمولات ِ زندگی کی تیز گام ہونے والی رفتار تھم گئی جبکہ دیگر سرگرمیوں کی نبض بھی رُخ گئی ۔نامہ نگار کے مطابق شہر خاص کے انتہائی مصروف ترین بازار ’گاڑھ کوچہ زینہ کدل ‘میں بدھ کی شام ساڑھے 7بجے کے قریب آگ کی ایک واردات میں 3دکان خاکستر ہوئے ۔پولیس نے اس واقعہ کی نسبت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ۔
اس واقعہ کو لیکر بھی شہر خاص میں طرح طرح کی چمہ گوئیاں کی جارہی ہیں ۔ نامہ نگار کے مطابق شہر خاص میں بھی جمعرات کو سیول لائنز کی طرح کی صورتحال نظر آئی ۔ ادھر سیول لائنز کے مگرمل باغ میں سی آر پی ایف کی گاڑی پر پتھراﺅ کیا گیا جس دوران فورسز کی بھاری جمعیت نے پتھراﺅ کرنے والے نوجوانوں کا تعاقب کیا ۔ اس تعاقب کے دوران سی آر پی ایف نے ایک کمسن لڑکے کو اپنے ساتھ لیا ۔ اس دوران یہاں کچھ دیر کیلئے افرا تفری کا ماحول بھی پیدا ہوا ۔ ادھر شہرخاص میں بدھ کو اچانک بند ہوا تھا اور جمعرات کو مسلسل دوسرے روز بھی یہاں بند کے نتیجے میں معمولات ِ زندگی بحال نہ ہوسکے ۔ جامع مسجد مار کیٹ اورقدیم بازار مہاراج گنج کے ساتھ ساتھ شہر خاص میں جمعرات کو سبھی بازار بند رہے ۔بند کے نتیجے میں پورے شہر میں جمعرات کو محدود کاروباری و دیگر سر گرمیاں ٹھپ رہیں ۔شہر خاص کے بعض بازاروں میں صبح کے وقت دکان کھلے تھے ،تاہم دس بجنے سے قبل ہی یہاں بھی دکانات کے شٹر نیچے آئے ۔ایک دکاندار نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے اُنہیں بند کرنے کےلئے کہا ۔اس دوران پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معمولات زندگی میں رخنہ ڈالنے کےلئے خوف کا ماحول قائم کیا جارہا ہے جسکی ہر گز اجازت نہیں دی جائیگی ۔
ان کاتھا کہ خوف کا ماحول قائم کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائیگی ۔ادھر شہر میں نجی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی جاری رہی ،تاہم بعد دوپہر اس میں بھی کمی دیکھنے کو ملی ۔اس دوران جنوبی کشمیر کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اننت ناگ اور کولگام میں دن بھر کاروباری و دیگر سرگرمیاں جاری رہیں ۔نامہ نگار کے مطابق شوپیان اور پلوامہ میں محدود کاروباری سرگرمیاں دیکھنے کو ملی ۔شمالی کشمیر کے نامہ نگار نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے تینوں اضلاع کپوارہ ،بارہمولہ اور بانڈی پورہ میں معمول کی سرگرمیاں جاری رہیں ۔شمال وجنوب نامہ نگاروں کے مطابق نجی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں بھی جمعرات کو معمول کے مطابق جاری رہیں ۔بڈگام اور گاندر بل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہاں بھی کہیں جزوی تو کہیں مکمل طور کاروباری ودیگر سرگرمیاں جا ری رہیں ۔کشمیر چیمبر اینڈ کامرس کا کہنا ہے کہ کشمیر کی معیشت پر غیر یقینی صورتحال کے نتیجے میں منفی اثرارت مرتب ہورہے ہیں ۔
مذکورہ ادارے کے نمائندے کے مطابق کشمیر کو روزانہ بند کی وجہ سے125کروڑ روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اب تک کشمیر کو 13ہزار625کروڑ روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔دریں اثناءکشمیر میں 109ویں روز بھی انٹر نیٹ کی بند ش ،ایس ایس یم پر پابندی اور پری ۔پیڈ موبائیل فون سروس منقطع رہنے کی روایت برقرار رہی ۔ادھر 3سابق وزرائے اعلیٰ سمیت50سے زیادہ مین اسٹریم لیڈران نظر بند ہیں ۔واضح رہے کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے بدھ کو ایوان بالا (راجیہ سبھا ) میں کشمیر کی صورتحال پر بحث کے دوران کہا تھا کہ کشمیر میں حالات مکمل طور نار مل ہیں ۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
