تازہ ترین
دفعہ370کی تنسیخ کے6 ماہ مکمل
3سابق وزرائے اعلیٰ سمیت متعدد لیڈران ہنوز نظر بند
سجاد لون اور وحید پرہ 6مہینے بعد رہا،سب جیل سے گھر پہنچنے کیساتھ ہی لون خانہ نظر بند
سرینگر: دفعہ370کی تنسیخ کے6ماہ مکمل ہونے کے بیچ انتظامیہ نے سیاسی لیڈران کی رہائی کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے پیپلز کانفرنس چیر مین سجاد غنی لون اور پیلز ڈیموکریٹک کے یوتھ لیڈر وحید الرحمان پرا کو ایم ایل اے ہوسٹل سے 6ماہ بعد رہا کیا تاہم پی سی چیرمین سجاد غنی لون کے گھر پہنچتے ہی انہیں دوبارہ خانہ نظربند رکھا گیا۔ تاہم 3سابق وزرائے اعلیٰ سمیت متعدد مین اسٹریم لیڈران ہنوز نظر بند ہیں۔
کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق چھ ماہ کی طویل ترین نظر بندی کے بعد جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے بدھوار کو سیاسی مین اسٹریم لیڈران کی رہائی کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے مزید 2لیڈران کو رہا کردیا۔ معلوم ہوا کہ انتظامیہ نے سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد پیپلز کانفرنس چیرمین سجاد غنی لون اور پی ڈی پی کے یوتھ لیڈر عبدالوحید پرہ کو رہا کردیا۔معلوم ہوا کہ دونوں لیڈران کو سب جیل قرار دیئے گئے ایم ایل اے ہوسٹل سرینگر کے رہا کردیا گیا، تاہم مصدقہ ذرائع سے ملی تفصیلات کے مطابق پی سی چیرمین سجاد غنی لون کے گھر پہنچتے ہی انہیں خانہ نظر بند رکھا گیا۔
انتظامیہ نے گزشتہ برس 5اگست کو جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن دفعہ370کی منسوخی کیساتھ ہی جموں وکشمیرمیں مین اسٹریم لیڈران کو ”احتیاطی“ طور پر خانہ و تھانہ نظر بند کردیا گیا۔ انتظامیہ نے جھیل ڈل کے کنارے واقع سنتور ہوٹل اور ہری نواس کو سب جیل میں تبدیل کرتے ہوئے قریباً 700افراد کو ”احتیاطی“ طور پر نظر بند کیا، تاہم جموں وکشمیر میں حالات معمول آنے کیساتھ ہی سیاسی لیڈران کی رہائی کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس سے قبل گذشتہ 3روز کے دوران7مین اسٹریم لیڈران اور ایک سیول سوسائٹی رکن کو رہا کیا گیا۔
جن لیڈران کو رہا کیا گیا اُن میں محمد یوسف بٹ،مجید لار می،ڈاکٹر محمد شفیع،محمد یوسف بٹ،اعجاز احمد میر اور سیول سوسائٹی رکن شکیل قلندر شامل ہیں۔ادھر دفعہ370کی تنسیخ کے 6ماہ مکمل ہوئے۔تاہم 3سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ،عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی ہنوز نظر بند ہے۔ان کے علاوہ اب متعدد مین اسٹریم لیڈران نظر بند ہیں،جن میں علی محمد ساگر وغیرہ قابل ذکر ہے۔ادھر ذرائع سے معلوم ہوا کہ انتظامیہ آنے والے دنوں میں جموں وکشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو رہا کرنے جارہی ہے،تاہم این سی صدر اور موجودہ رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائی سے متعلق اپنی حتمی فیصلہ لینا باقی ہے۔
دریں اثناپاکستان کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیرمنانا یا گیا ہے جس دوران سرینگر میں تمام کار باری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پرٹریفک جزوی طور چلتا ہے،اس دوران وادی کے ضلع صدر مقامات کے تقریباًتمام علاقوں میں بازار کھلے رہے اورکام کاج معمول کے مطابق چلتا رہا ہے
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق پاکستان کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیرمنانے کے سلسلے میں شہر سرینگر میں ہڑتال رہی،جس دوران لالچوک،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ،سرائے بالا،مائسمہ،گاؤ کدل،،جہانگیر چوک،امیرا کدل،لل دید اور شہر خاص علاقوں میں تمام کار باری ادارے بند رہے جس دوران تمام دکانین بند رہے تاہم کچھ علاقوں کی سڑکوں پر ٹریفک معمول کے مطابق چلتا ہے۔ اس دوران کشمیر نیوز سروس کے نامہ نگاروں نے ضلع صدر مقامات سے اطلاع دی ہے،کہ کپواڑہ،بانڈی پورہ،گاندر بل،جنوبی کشمیر،اننت ناگ،کولگام اور شوپیان میں تمام کار باری ادادرے سرکاری و غیر سرکاری دفاتر کھلے رہنے کے علاوہ سڑکوں سے معمول کا ٹریفک چلتا ہے۔ تاہم کئی مقامات پر فورسز کی اضافے نفری کو گشت کر تے ہوئے دیکھا گیا ہے۔خیال رہے پاکستان5فروری کو ہر سال یوم یکجہتی کشمیر کے طور مناتے ہیں جس دوران پورے پاکستان میں تقریبات کے علاوہ سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے۔(کے این ایس)
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
