تازہ ترین
دنیا بھر میں کورونا وائرس کےکیسز کی تعداد 10 لاکھ سے متجاوز، ہلاکتیں 50ہزار سے زائد
امریکا میں ایک روز میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ ہونے کے بعد دنیا بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ ہلاکتیں 50 ہزار سے زائد ہوچکی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس وبا کی معاشی لاگت دن بدن بڑھ رہی ہے، نئے اعداد و شمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ ہفتے 66 لاکھ 50ہزار امریکیوں نے بے روزگاری سے فائدہ اٹھانے کی اسکیم پر اندراج کرایا تھا جبکہ مارچ کے آخری 2 ہفتوں میں ملازمت سے محروم افراد کی تعداد ایک کروڑ ہوگئی۔
ساتھ ہی ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ مذکورہ صورتحال مزید خراب ہوگی۔
پینتھن میکرو اکنامکس کے آئین شیفرڈسن کا کہنا تھا کہ ’اس کے لیے کوئی الفاظ نہیں ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مارچ اور اپریل کے درمیان ملازمت سے نکالنے جانے والوں کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے 2 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے‘۔
ادھر مالیاتی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پیش گوئی کی کہ امریکا اور یورپ کی معیشت، کاروبار پر اثرات سرمایہ کاری میں کمی اور بے روزگاری کی شرح میں اضافے سے صارفین کے خرچ میں کمی کی وجہ سے 30 فیصد تک سکڑ جائے گی۔
وہیں دوسری جانب عالمی رہنماؤں نے بحران سے نمٹنے کے لیے بڑی امداد اور پیکجز کا اعلان کیا ہے اور عالمی بینک نے 15 ماہ میں ایک کھرب 60 ارب روپے کا ایمرجنسی کیش جاری کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ
امریکا جو دنیا بھر میں کیسز کا ایک تہائی حصہ رکھتا ہے، وہاں ہلاکتوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں پھیلی وبا سے تقریباً 6 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار ایک سو رہی۔
وائٹ ہاؤس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ سے 2 لاکھ 40 ہزار امریکی اس مرض سے ہلاک ہوسکتے ہیں۔
اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ڈیزاسٹر رسپانس ایجنسی فیما نے امریکی فوج سے لاشوں کو رکھنے کیلئے ایک لاکھ بیگز منگوالیے ہیں۔
مزید برآں امریکی میں اس صورتحال کے بعد 85 فیصد امریکی کسی نا کسی طرح تک گھروں میں رہنے کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔
امریکا میں وبا کے مرکز نیو یارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے عوام سے باہر نکلتے وقت اپنے چہرے ڈھانپنے کی اپیل کی جبکہ امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کہا کہ عوام کے لیے ماسک کے استعمال پر ایک دو روز میں تجاویز جاری کردی جائیں گی۔
اسپین میں تعداد میں کمی
واضح رہے کہ کئی ہفتوں تک اس بحران کا مرکز رہنے والے یورپ میں اب ایسے اشارے سامنے آرہے ہیں کہ وہاں یہ وبا چوٹی کو چھوچکی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو اسپین میں 950 اور برطانیہ میں 569 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔
ادھر اٹلی اور اسپین کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ وہاں اب تک دنیا میں ہونے والی اموات کی نصف تعداد ہلاک ہوئی ہے تاہم ماہرین کا کہنا تھا کہ اب نئے انفیکشننز کی تعداد دونوں ممالک میں کم ہورہی ہے۔
اسپین کے وزیر صحت سلواڈورالا کا کہنا تھا کہ ’ڈیٹا میں دیکھا گیا کہ صورتحال اب مستحکم ہورہی ہے اور وبا سست روی کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے‘۔
وائرس سے سب سے زیادہ بزرگ شہری یا پھر وہ جنہیں پہلے سے کوئی بیماری ہو، متاثر ہوئے ہیں تاہم حالیہ کیسز میں چند ہلاکتیں نوجوانوں کی بھی دیکھی گئیں تاہم 6 ہفتوں کی ایک نوزائدہ بچی کی موت نے تمام عمر کے افراد کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔
اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ہانس کلوگے کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے صرف بزرگ لوگوں کے متاثر ہونے کا تاثر درحقیقت غلط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں اور جوانوں میں متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے چند کو اننتہائی نگہداشت میں رکھا گیا اور چند ہلاک ہوگئے۔
برطانیہ
علاوہ ازیں برطانیہ میں وزیر اعظم بورس جونسن نے ٹیسٹنگ کو بڑی تعداد میں بڑھانے پر زور دیا جبکہ ان کے وزیر صحت نے ایک ہفتے میں ایک لاکھ ٹیسٹ کرنے کا ہدف مقرر کیا۔
بورس جونسن جو خود بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے انہیں حال ہی میں اس وبا کو پھیلنے سے روکنے میں حکومت کی ناکامی پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
روس
دریں اثنا روس میں کیسز کی تعداد ساڑھے 3 ہزار تک پہنچنے پر وہاں کے صدر ولادمیر پیوٹن نے اپریل کے آخر تک ادائیگی کے ساتھ کام نہ کرنے کے ایام میں اضافہ کردیا۔
یہاں یہ واضح رہے کہ روس کے زیادہ تر علاقے اس وقت لاک ڈاؤن میں ہیں۔
یہاں یہ واضح رہے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ ترین ترین سخت اقدامات اٹھانے والا ملک تھائی لینڈ ہے جہاں جمعے سے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تھا۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
