تازہ ترین
وہ غریب ممالک جو اب تک کورونا سے محفوظ ہیں
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 2 اپریل کو دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 10 لاکھ سے سے بڑھ جانے پر تشویش کا اظہار کرتےہوئے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ وبا سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے سے روابط بڑھانے سمیت خاطر خواہ اقدامات بھی کریں۔
کورونا وائرس سے 3 اپریل کی صبح تک دنیا کے 181 ممالک، ریاستیں و جزائر متاثر ہو چکے تھے اور اس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 10 لاکھ 16 یزار سے زائد ہو چکی تھی، جب کہ ہلاکتیں بھی بڑھ کر 53 ہزار سے زائد ہو چکی تھیں۔
کورونا وائرس سے جہاں پر امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، سوئٹزرلینڈ، بھارت، اٹلی و اسپین جیسے امیر و ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہیں، وہیں دنیا کے چند غریب و دیگر بیماریوں کے شکار ممالک 3 اپریل کی صبح تک محفوظ تھے۔
ایسے ممالک میں مشرق وسطیٰ ملک یمن، افریقی ملک جنوبی سوڈان، لیسوتھو، کومروس اور ساؤ ٹوم اینڈ پرنسائپ جیسے غریب، مقروض اور دیگر بیماریوں کے شکار ممالک شامل تھے۔
علاوہ ازیں شمالی کوریا کی حکومت نے بھی 2 اپریل کو دعویٰ کیا تھا کہ تاحال ان کے ملک میں کورونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
اگرچہ تاحال یہ بات واضح نہیں ہو سکی ہے کہ مذکورہ غریب و بیماریوں کے شکار ممالک میں کورونا کا کوئی کیس کیوں رپورٹ نہیں ہوا، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ وہاں پر کورونا کے ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے ہوں گے۔
کورونا وائرس کے اعداد و شمار کے آن لائن میپ کے مطابق 3 اپریل کی صبح افریقی ملک ملاوی نے بھی پہلے تین کیسز کی تصدیق کی جب کہ وسطی افریقی ملک سیری لیونے نے بھی 2 اپریل کی صبح کو پہلے کیس کی تصدیق کی۔
افریقن نیوز کے مطابق 2 اپریل تک ملاوی سمیت براعظم کے کم سے کم 5 غریب ممالک میں کورونا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا مگر 3 اپریل کو حکومت نے تین کیسز کی تصدیق کی۔
اسی طرح وسطی افریقی ملک نے سیری لیونے نے بھی 2 اپریل کو پہلے کیس کی تصدیق کی، تاہم اب بھی جنوبی سوڈان، لیسوتھو ،کومروس اور ساؤ ٹوم اینڈ پرنسائپ جیسے ممالک کورونا وائرس سے محفوظ ہیں۔
مذکورہ افریقی ممالک مین 3 اپریل کی صبح تک کورونا کا کوئی بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا جب کہ افریقہ بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 70 ہزار کے قریب جا پہنچی تھی اور وہاں کے 50 سے زائد ممالک اس وبا سے متاثر ہوچکے تھے۔
مذکورہ غریب اور بیماریوں کے شکار افریقی ممالک کی طرح خانہ جنگی، قحط سالی اور دیگر بیماریوں کے شکار ملک یمن میں بھی 3 اپریل تک کوئی کیس رپورٹ نہین ہوا تھا جب کہ اس کے پڑوسی ممالک سعودی عرب اور عمان میں ڈیڑھ ماہ قبل ہی کورونا کیسز کی تصدیق کی گئی تھی۔
یمن کی طرح ایشیائی ملک شمالی کوریا سے بھی کورونا کے کسی کیس کی تصدیق نہیں کی گئی اور وہاں کی حکومت نے 2 اپریل کو دعویٰ کیا کہ ان کا ملک اب تک وبا سے محفوظ ہے، لیکن عالمی برادری کو شمالی کوریا کے دعوے پر شدید تحفظات ہیں۔
ایشیائی ملک منگولیا، تیمور اور لاؤس میں بھی خطے کے دیگر ممالک سے کم سے کم 2 ماہ بعد کیسز سامنے آئے تھے
لاؤس، تیمور، منگولیا اور میانمار نے گزشتہ ماہ مارچ کے وسط میں اپنے ہاں پہلے کیسز کی تصدیق کی تھی جب کہ ان ممالک کے پڑوسی ممالک میں فروری کے وسط میں ہی کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے تھے، تاہم ان ممالک میں اب بھی کورونا کے مریضوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔
تین اپریل تک منگولیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 14 تک جا پہنچی تھی جب کہ وہاں پہلے مریض کی تصدیق مارچ کے وسط میں کی گئی تھی اور وہاں تاحال کوئی بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔
اسی طرح میانمار میں مریضوں کی تعداد 3 اپریل تک 20 تک جا پہنچی تھی اور وہاں بھی پہلے کیس کی تصدیق مارچ کے وسط میں کی گئی تھی، لاؤس میں 10جب کہ تیمور میں تاحال ایک ہی کیس سامنے آ سکا ہے اور وہاں مذکورہ کیس مارچ کے وسط میں ہی سامنے آیا تھا۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
