تازہ ترین
کتے، بلیاں اور بطخیں بھی کورونا کا شکار بن سکتی ہیں، تحقیق
کورونا وائرس کے مرکز سمجھے جانے والے ملک چین کے ماہرین کی جانب سے کی گئی حالیہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے گھریلو جانور بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
یہ خدشہ پہلے ہی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کورونا وائرس سے نہ صرف انسان بلکہ جانور بھی متاثر ہوسکتے ہیں اور اب اس حوالے سے چینی ماہرین کی جانب سے کئی گئی تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی کہ جانور بھی وبا کا شکار بن سکتے ہیں۔
چین کے شہر ہاربن میں موجود جانوروں کی بیماریوں پر تحقیق کرنے والے ادارے ہاربن ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کی جانب سے کم تعداد کے جانوروں پر کی جانے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ کورونا وائرس بلیوں، کتوں، سور، بطخوں اور مرغے و مرغیوں کو بھی ہوسکتا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین نے بلیوں، بطخوں اور کتوں سمیت دیگر جانوروں کو کورونا وائرس کے انفیکشن کے ہائی ڈوز انجیکشن لگائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان میں وبا کی کتنی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور جانور اس سے کس قدر متاثر ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ انجیکشن لگانے کے بعد بلیوں، مرغے و مرغیوں، سور، بطخوں اور کتوں میں کورونا وائرس کی علامات پائی گئیں، تاہم ان میں مذکورہ وبا کی علامات شدید نہیں تھیں۔
ماہرین کے مطابق بلیوں کو بھی ایک دوسرے سے کورونا وائرس لگ سکتا ہے اور وہ اچھی خاصی بیمار بھی ہوسکتی ہیں، تاہم بلیوں کے مالکان کو پریشان ہونی کی ضرورت نہیں کیوں کہ وہ انسانوں کی طرح شدید بیمار نہیں ہوں گی۔
اسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا کہ کتوں میں بھی کورونا وائرس منتقل ہو سکتا ہے مگر وہ بلیوں کے مقابلے کم بیمار ہوسکتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ ان میں شدید علامات بھی ظاہر نہ ہوں۔
چینی ماہرین کا کہنا تھا کہ چوں کہ کورونا کے سارس وائرس نے بھی جانوروں کو متاثر کیا تھا، اس لیے نیا نوول کوڈ 19 وائرس بھی جانوروں کو متاثر کر سکتا ہے۔
چینی ماہرین کی جانب سے جانوروں کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی مذکورہ تحقیق ایک ایسے وقت میں کی گئی جب کہ یورپی ملک بیلجیم سے یہ خبر آئی تھی کہ وہاں پر مالک کے کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد ایک بلی بھی بیمار پڑ گئی۔
گزشتہ ماہ مارچ میں لائیو سائنس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیلجیم میں مالک میں کورونا جیسی علامات ظاہر ہونے کے بعد ان کی بلی میں بھی کورونا جیسی علامات پائی گئیں اور اسے بھی سانس لینے میں تکلیف سمیت دیگر مشکلات درپیش آئیں۔
بلی کی جانب سے الٹی کرنے سمیت دیگر مسائل کا شکار ہونے کے بعد اس کے مالک نے ڈاکٹرز سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد ماہرین نے بتایا تھا کہ بلی بھی کورونا کا شکار ہوگئی ہے۔
بیلجیم کی بلی کے کورونا میں متاثر ہونے کے بعد دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ مذکورہ بلی دنیا کا وہ پہلا جانور ہے جسے کسی انسان نے بیمار کیا۔
بیلجیم میں بلی کے بیمار پڑنے کے بعد چینی ماہرین نے تحقیق کی تو اس میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ بلیاں، کتے، بطخیں اور دیگر گھریلو جانور بھی کورونا کا شکار ہو سکتے ہیں۔
چینی ماہرین نے جانوروں کے مالکان کو تسلی دی کہ وہ اپنے پالتو جانوروں کے بیمار پڑنے پر پریشان نہ ہوں کیوں کہ ان میں کورونا کی شدید علامات نہیں پائی جاتیں اور وہ کچھ عرصہ زیر علاج رہنے کے بعد ٹھیک ہو سکتے ہیں۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
