تازہ ترین
کورونا میں رمضان، مسلمانوں کےلئے ایک بڑا امتحان
کورونا وائرس کی وبا دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے، کیونکہ اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں سے تین اس وبا کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں ، جن میں نماز، روزہ اور حج شامل ہیں ۔
رمضان مسلمانوں کے لیے مذہبی طور پر انتہائی اہمیت کا مہینہ ہے، جس میں مساجد میں بھی عام دنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمازی دکھائی دیتے ہیں ، جب کہ تراویح کے خصوصی اجتماعات بھی منعقد کیے جاتے ہیں ۔ بعض مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس وبا کی وجہ سے جاری بندشوں سے بنیادی اسلامی شعار متاثر ہو رہے ہیں ۔ کئی مسلم اکثریتی ممالک میں موجودہ صورت حال میں تمام طرح کے اجتماعات روک دیے گئے ہیں ، جب کہ وہاں فرض نمازوں کی باجماعت ادائیگی پر پابندی ہے اور مساجد بند کی جا چکی ہیں ۔
سعودی حکومت مسلمانوں کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ میں عمومی اجتماعات پر پابندی عائد کر چکی ہے، جب کہ اب رمضان بھی خطرے کی زد میں ہے، جو زیادہ تر ممالک میں اپریل کی تئیس تاریخ سے شروع ہونا ہے ۔ اس دوران دارالعلوم دیوبند سے وابستہ مفتیان کرام نے رمضان المبارک کے حوالہ سے شرعی ہدایات جاری کر کے کہا ہے کہ لاک ڈاءون کے سبب نمازوں کی ادائیگی اور نماز جمعہ کی ادائیگی سے متعلق جو ہدایات دی جا چکی ہیں ان پر عمل جاری رکھیں اور کوئی ایسا نیا کام نہ کریں جو پریشانی کا سبب بن جائے ۔
واضح رہے کہ ملک میں نافذ لاک ڈاءون اور کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے نافذ سماجی فاصلہ کے سبب امت مسلمہ کو درپیش مسائل پنچ وقت کی نماز اور چند یوم کے بعد ماہ رمضان المبارک کا آغاز ہو جانے، نیز نماز تراویح، اعتکاف اور نماز عید الفطر کی ادائیگی جیسے مواقع تناظر میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے مفتیان کرام اور علمائے حضرات سے رہنما ہدایات جاری کرنے کی استدعا کی تھی ۔ مفتیان کرام نے جواباً تحریر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کی مہلک بیماری کے سبب لاک ڈاءون 3مئی تک نافذ ہے اور اسی درمیان رمضان المبارک کا بھی آغاز ہو رہا ہے، جو مسلمانوں کے لئے انتہائی خیر و برکت کا مہینہ ہے ۔ مفتیان کرام نے آئندہ 24 اپریل کو ماہ رمضان کا چاند دیکھنے کا اہتمام کرنے کے ساتھ مرکزی ہلال کمیٹیوں دارالعلوم دیوبند اور دیگر مراکز کو رویت کی اطلاع دینے کی اپیل کرتے ہوئے لغویات سے بچنے کی ہدایت جاری کی ہے ۔
مفتیان کرام نے کہا ہے کہ روزہ چونکہ اسلام کا ایک اہم فریضہ اور رکن ہے اس لئے تمام مسلمانان روزوں کاخاص خیال کریں ۔ البتہ جو افراد کسی عذر یا بیماری کے سبب روزہ رکھنے سے قاصر ہوں وہ معتبر مفتیان کرام سے مسئلہ معلوم کرکے عمل کریں ۔ پانچوں وقت کی نماز کی ادائیگی کے سلسلہ میں مفتیان کرام کا کہنا ہے کہ لاک ڈاءون کے سبب نمازوں کی ادائیگی اور نماز جمعہ کی ادائیگی سے متعلق جو ہدایات دی جاچکی ہیں ان پر عمل جاری رکھا جائے اور کوئی ایسا نیا کام نہ کیا جائے جو پریشانی کا سبب بن جائے بلکہ حالات کی نزاکت کے تناظر میں مسجدوں میں جماعت کی ادائیگی کے لئے امام و اموذن کے علاوہ جن افراد کو متعین کیا ہو صرف وہی مسجد میں نماز با جماعت کی پابندی کریں ۔ اس کے علاوہ باقی افراد اپنے گھروں میں پابندی سے نماز اداکریں ۔
انشاء اللہ انہیں مسجد میں ہی نماز پڑھنے کے اجر و ثواب ملے گا ۔ مفتیان کرام نے یہ بھی اپیل کی ہے کہ حسب سابق تمام صاحب حیثیت افراد مساجد کا تعاون جاری رکھیں ۔ مفتیان کرام نے نماز تراویح سے متعلق کہا ہے کہ نماز تراویح رمضان المبارک کی خاص عبادت ہے اور ہر مرد عورت پر سنت موکدہ ہے اس لئے نماز تروایح کا خاص اہتمام کیا جائے، لیکن مساجد میں لاک ڈاءون کے سبب چار پانچ افراد سے زیادہ شامل نہیں ہو سکتے، لہٰذا سماجی فاصلہ کا لحاظ رکھتے ہوئے گھروں میں نماز تراویح کا اہتمام کیا جائے اور حتی الامکان ہر مسجد میں ختم قران پاک کا نظم کیا جائے اور سامع کا بھی انتظام کیا جائے ۔
اس کے علاوہ اگرحافظ قرآن میسر ہو تو گھروں میں ادا کی جانے والی نماز تراویح میں پورا قرآن سنا جائے، بصورت دیگر اَلَمَ تَرَ کَیفَ سے تراویح پڑھی جائے ۔ مفتیان کرام نے نماز تراویح سے متعلق یہ ہدایت بھی جاری کی ہے کہ حافظ قرآن کو مسجد میں یا مسجد کے کسی قریبی مکان میں رکھا جائے اور دور دراز سے روزانہ مسجد میں آنے سے بچا جائے، اگر یہ صورت ممکن نہ ہو تو مسجد میں بھی اَلَمَ تَرَ کَیفَ سے ہی نماز تراویح اداکی جائے ۔ مفتیان کرام نے بذریعہ ماءک گھروں یا فلیٹس میں رہ کر نماز پنج گانہ یا تراویح میں شرکت سے منع کیا ہے ۔ اسی طرح حرمین شریفین یا دیگر مساجد کی لائیو نماز کی اقتدا کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے ۔
اسی طرح مفتیان کرام نے اس بات پر بھی تنبیہ کی ہے کہ تراویح میں 6 یا10دنوں میں کلام پاک پورا نہ کیا جائے، بلکہ روزانہ ایک یا سوا پارہ پڑھنے کا اہتمام کیا جائے، حافظ خواتین کے لئے کہا گیا ہے کہ چونکہ خواتین امامت نہیں کرسکتیں ، تاہم وہ تنہا اپنی تراویح میں قرآن کریم پڑھ سکتی ہیں ۔ مفتیان کرام نے کہا ہے کہ جو حضرات موجودہ صورتحال کی وجہ سے تراویح میں قرآن نہ سن سکیں وہ مایوس نہ ہوں انہیں اپنی نیت کے سبب انشاء اللہ پورا ثواب ملے گا ۔ مفتیان کرام نے افطار وسحر کے اوقات سے متعلق کہا ہے کہ افطار اور ختم سحری کا اعلان حسب سابق مساجد سے کیا جائے لیکن مساجد وغیر میں افطار کا نظم نہ کیا جائے، صرف امام و موذن اور نماز کے متعین افراد مسجد میں روزہ افطار کریں ، اسی طرح افطار پارٹی وغیرہ کے انعقاد سے بھی احتراز کیا جائے ۔
رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے سے متعلق مفتیان کرام نے کہا ہے کہ چونکہ اعتکاف سنت موکدہ علی الکفایہ ہے، اس لئے اگر پورے محلہ سے کسی نے اعتکاف نہ کیا تو تمام اہل محلہ کو ترک سنت کا گناہ ہوگا، لہٰذا محلہ کی مسجد میں متعینہ با جماعت نماز ادا کرنے و الا کوئی ایک فرد اعتکاف کر لے ۔ خواتین گھر کے کسی حصہ میں اعتکاف کرسکتی ہے البتہ مردوں کے لئے مسجد شرط ہے ۔ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں گھر پر رہ کر ہی شب قدر میں اذکار اور دعاءوں کے اہتمام کیا جائے ۔
مفتیان کرام نے لاک ڈاءون کے سبب رمضان کے مہینہ میں بھی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لئے وہی طریقہ اپنانے کی اپیل کی جس کا اعلان انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا ہے ۔ نیز انہوں نے بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے سے پرہیز اور صبر وتحمل سے کام لینے کی تلقین کی ۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
