تازہ ترین
ملک گیر کورونا لاک ڈاءون کا تیسرا مرحلہ جاری
ملک گیر لاک ڈاؤن کا تیسرا مرحلہ اب جبکہ17مئی کو ختم ہونے جارہا ہے اور چوتھے مرحلے سے متعلق مرکزی حکومت کے اعلان ابھی انتظار ہے۔تاہم وادی کشمیر میں اب صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا اور شہریوں نے گھروں سے باہر آنا شروع کردیا،جس دوران پولیس کو شہریوں کو یہ سمجھا تے ہوئے دیکھا گیا کہ لاک ڈاؤن کی پاسداری اور سماجی دوری ہی کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے لازمی ہے،تاہم عام لوگ سوال اٹھا نے لگے کہ لاک ڈاؤن آخر کب تک؟۔اس دوران وادی ہر طرح کی عوامی،تجارتی، کاروباری اور ٹرانسپورٹ سر گرمیوں کا پہیہ مکمل طور پر جام ہے جبکہ زندگی کی رفتار منجمد ہو کر رہ گئی جبکہ مسلسل چھٹے روز بھی موبائیل انٹر نیٹ سروس بند رہی۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق سوموار کو جب معمول کے مطابق انتظامی سرگرمیاں بحال ہوئیں اور سیول سیکریٹریٹ اور اسکے منسلک دفاتر کے ملازمین ڈیوٹی کیلئے گھروں سے اپنی نجی گاڑیوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کا سہا را لیکر گھروں سے باہر آئے،تو عام لوگوں نے بھی روزمرہ کے معاملات اور مصروفیات میں مشغول ہونے کیلئے گھروں سے موٹر سائیکلوں اورنجی گاڑیوں میں سوار ہو کر باہر نکلے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سیول لائنز میں ٹریفک جام کی لمبی لمبی قطاریں لگنا شروع ہوگئیں اور پولیس کو گھروں سے باہر قدم رکھنے والے افراد سے نمٹنے اور اُنہیں سمجھانے میں کافی پاپڈ بیلنے پڑے۔سٹی رپورٹر کے مطابق دارالحکومت سرینگر میں پولیس نے کورونا لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے اور لوگوں کی آزاد نقل وحرکت روکنے کیلئے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی ہیں جبکہ ناکے بھی لگائے ہیں۔علاوہ ازیں ریڈ زونز کیساتھ ساتھ دیگر علاقوں کی رابطہ سڑکیں بھی خار دار تاروں سے سیل کردی ہیں۔وادی کشمیر میں گزشتہ54دنوں سے کورونا لاک ڈاؤن جاری ہے جسکی وجہ سے شہر ودیہات میں ہر طرح کی دکانیں،کاروباری ادارے،تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ ہر طرح کا ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔
لاک ڈاؤن کو سختی عملا نے کیلئے پولیس و فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔مسلسل اور بغیر کسی برمی جاری سخت ترین لاک ڈاؤن سے لوگ آب اُکتانے لگے اور وہ گھروں سے باہر آنے لگے۔یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ پہلے7ماہ تک گذشتہ برس سیکیورٹی لاک ڈاؤن کا سامنا رہا اور اب کورونا لوک ڈاؤن کے دو ماہ ہونے لگے۔ان کا کہناتھا کہ ملک گیر لاک ڈاؤن اور کشمیر کے لاک ڈاؤن میں آسمان زمین کا فرق ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ملک گیر لاک ڈاؤن اور کشمیر کے لاک ڈاؤن میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک گیر لاک ڈاؤن محض دو ماہ کیلئے ہے جبکہ ہم (کشمیری)پہلے ہی 7اور اب یہ2ماہ سے لاک ڈاؤن سے جھوج رہے ہیں۔محمد اسلم ملک نامی شہری نے بتایا ’بیٹا دو ماہ ہوگئے،جب کمائی کچھ نہیں،کھائیں گے کیا؟کچھ سمجھ میں نہیں آتا،بیماری نہیں تنگ دستی ستانے لگی‘۔
ان کا کہناتھا ’عیال کو صرف تسلیاں ہی دینی پڑ رہی ہیں،ماہ رمضان،نہ مساجد میں عبادت اور نہ ہی گھروں میں سکون،عید الفطر کی رونقیں بھی ماند،حکومت وبا سے بچنے کے تدابیر تو بتاتی ہے لیکن زندگی کو کیسے بچائیں،اس کا کوئی حل نہیں بتاتی‘۔محمد یونس نامی شہری نے بتایا ’پولیس کا رویہ بھی مایوس کن ہے،دودھ،روٹی،سبزی اور دیگر اشیا ء ضروریہ زندگی کی چیزیں خریدنے کیلئے بازا ر کا رخ کر نا ہے،پولیس نہ جانے کیوں یہ سب کچھ سمجھنے سے قاصر ہے،جیسے وہ اس سماج کا حصہ نہیں اور خلائی مخلوق ہے‘۔ریاض احمد نامی ایک نوجوان نے بتایا ’محلے کی دکانیں تو صبح و شام چند گھنٹوں کیلئے کھولنی چاہئے،تاکہ ضروری چیزوں کی خریداری کی جاسکے،لیکن پولیس ایسے تعاقب کرتی ہے،جیسے گھر سے با ہر قدم رکھنے والے سنگباز اور ملی ٹنٹ ہے،پولیس ہر معاملے کو سیکیورٹی زاوے میرا مطلب ہے کہ ملی ٹنسی کی عینک سے دیکھتی ہے جبکہ اس وقت صورتحال بالکل مختلف ہے‘۔زندگی کی83بہاریں دیکھ چکے تجربہ کار اور ذی حس دماغ کے مالک عبدالرشید خان نے بتایا ’لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت وبا تب تک نہیں آتی جب تک اُسے نہ بلا یا جائے،اللہ تعلی کی ناراضگی اسی صورت میں نظر آتی ہے،آج خود کو سپر پاؤ ر(عظیم عالمی طاقت) سمجھنے والا ملک امریکا اور اس ملک کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بے بس اور لاچار ہے اور اسکی فیسٹریشن خوب نظر آتی ہے‘۔انہوں نے کہا ’قدرت کے سامنے کسی کی نہیں چلتی ہے،اس نے واضح کیا ہے کہ میرے حکم کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا،کیوں سچ ہے نا؟
لاک ڈاؤن نے ثابت کیا نا۔۔۔تاہم راستے بھی متعین کئے،ہمیں احتیاط سے کورونا کے خلاف جنگ لڑنی چاہئے اور زندگی کے معاملات کو بحال کرنا چاہئے،کیونکہ زندگی کو آخر کب تک از خود منجمد رکھا جاسکتا ہے؟‘۔ادھر مولا نا آزاد روڑ اور دیگر کئی روڈس پر نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی بھاری تعداد شہر میں الگ ہی سماں دیکھنے کو ملا۔ایسا لگ رہا ہے کہ عرفہ ہے اور لوگ خریداری کیلئے گھروں سے باہر آئے ہیں جسکی وجہ سے یہاں لمبی لمبی گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور پولیس لوگوں کو گھروں میں بیٹھنے کیلئے سمجھا رہی تھی۔اس دوران کئی مقامات شہریوں اور پولیس کے درمیان نوک جھونک او تکرار بھی ہوئی۔پولیس گھروں سے باہر آئے شہریوں کو یہ بھی سمجھا رہی تھی کہ کورونا وائرس مہلک مرض ہے اور یہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہورہی ہے،لہٰذا اس وقت سماجی دوری اختیار کرنا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس دوران لوگوں نے بتایا کہ طویل ترین لاک ڈاؤن کے باوجود کورونا وائرس کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ زنجیر نہیں ٹوٹی۔اس دوران مسلسل چھٹے روز نھی وادی کشمیر میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات منقطع رہے۔یہ سروس گذشتہ بدھ حزب کمانڈر ریاض نائیکو کی ساتھی سمیت جاں بحق ہونے کیساتھ بند کر دی گئی تھی جبکہ وادی میں موبائیل کالنگ بھی معطل رکھی گئی،تاہم تین روز بعد اُسے بحال کردیا گیا،لیکن انٹر نیٹ کی بند ش ہنوز برقرار ہے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
