تازہ ترین
ملک گیر کورونا لاک ڈاءون کا تیسرا مرحلہ جاری
ملک گیر لاک ڈاؤن کا تیسرا مرحلہ اب جبکہ17مئی کو ختم ہونے جارہا ہے اور چوتھے مرحلے سے متعلق مرکزی حکومت کے اعلان ابھی انتظار ہے۔تاہم وادی کشمیر میں اب صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا اور شہریوں نے گھروں سے باہر آنا شروع کردیا،جس دوران پولیس کو شہریوں کو یہ سمجھا تے ہوئے دیکھا گیا کہ لاک ڈاؤن کی پاسداری اور سماجی دوری ہی کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے لازمی ہے،تاہم عام لوگ سوال اٹھا نے لگے کہ لاک ڈاؤن آخر کب تک؟۔اس دوران وادی ہر طرح کی عوامی،تجارتی، کاروباری اور ٹرانسپورٹ سر گرمیوں کا پہیہ مکمل طور پر جام ہے جبکہ زندگی کی رفتار منجمد ہو کر رہ گئی جبکہ مسلسل چھٹے روز بھی موبائیل انٹر نیٹ سروس بند رہی۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق سوموار کو جب معمول کے مطابق انتظامی سرگرمیاں بحال ہوئیں اور سیول سیکریٹریٹ اور اسکے منسلک دفاتر کے ملازمین ڈیوٹی کیلئے گھروں سے اپنی نجی گاڑیوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کا سہا را لیکر گھروں سے باہر آئے،تو عام لوگوں نے بھی روزمرہ کے معاملات اور مصروفیات میں مشغول ہونے کیلئے گھروں سے موٹر سائیکلوں اورنجی گاڑیوں میں سوار ہو کر باہر نکلے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سیول لائنز میں ٹریفک جام کی لمبی لمبی قطاریں لگنا شروع ہوگئیں اور پولیس کو گھروں سے باہر قدم رکھنے والے افراد سے نمٹنے اور اُنہیں سمجھانے میں کافی پاپڈ بیلنے پڑے۔سٹی رپورٹر کے مطابق دارالحکومت سرینگر میں پولیس نے کورونا لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے اور لوگوں کی آزاد نقل وحرکت روکنے کیلئے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی ہیں جبکہ ناکے بھی لگائے ہیں۔علاوہ ازیں ریڈ زونز کیساتھ ساتھ دیگر علاقوں کی رابطہ سڑکیں بھی خار دار تاروں سے سیل کردی ہیں۔وادی کشمیر میں گزشتہ54دنوں سے کورونا لاک ڈاؤن جاری ہے جسکی وجہ سے شہر ودیہات میں ہر طرح کی دکانیں،کاروباری ادارے،تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ ہر طرح کا ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔
لاک ڈاؤن کو سختی عملا نے کیلئے پولیس و فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔مسلسل اور بغیر کسی برمی جاری سخت ترین لاک ڈاؤن سے لوگ آب اُکتانے لگے اور وہ گھروں سے باہر آنے لگے۔یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ پہلے7ماہ تک گذشتہ برس سیکیورٹی لاک ڈاؤن کا سامنا رہا اور اب کورونا لوک ڈاؤن کے دو ماہ ہونے لگے۔ان کا کہناتھا کہ ملک گیر لاک ڈاؤن اور کشمیر کے لاک ڈاؤن میں آسمان زمین کا فرق ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ملک گیر لاک ڈاؤن اور کشمیر کے لاک ڈاؤن میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک گیر لاک ڈاؤن محض دو ماہ کیلئے ہے جبکہ ہم (کشمیری)پہلے ہی 7اور اب یہ2ماہ سے لاک ڈاؤن سے جھوج رہے ہیں۔محمد اسلم ملک نامی شہری نے بتایا ’بیٹا دو ماہ ہوگئے،جب کمائی کچھ نہیں،کھائیں گے کیا؟کچھ سمجھ میں نہیں آتا،بیماری نہیں تنگ دستی ستانے لگی‘۔
ان کا کہناتھا ’عیال کو صرف تسلیاں ہی دینی پڑ رہی ہیں،ماہ رمضان،نہ مساجد میں عبادت اور نہ ہی گھروں میں سکون،عید الفطر کی رونقیں بھی ماند،حکومت وبا سے بچنے کے تدابیر تو بتاتی ہے لیکن زندگی کو کیسے بچائیں،اس کا کوئی حل نہیں بتاتی‘۔محمد یونس نامی شہری نے بتایا ’پولیس کا رویہ بھی مایوس کن ہے،دودھ،روٹی،سبزی اور دیگر اشیا ء ضروریہ زندگی کی چیزیں خریدنے کیلئے بازا ر کا رخ کر نا ہے،پولیس نہ جانے کیوں یہ سب کچھ سمجھنے سے قاصر ہے،جیسے وہ اس سماج کا حصہ نہیں اور خلائی مخلوق ہے‘۔ریاض احمد نامی ایک نوجوان نے بتایا ’محلے کی دکانیں تو صبح و شام چند گھنٹوں کیلئے کھولنی چاہئے،تاکہ ضروری چیزوں کی خریداری کی جاسکے،لیکن پولیس ایسے تعاقب کرتی ہے،جیسے گھر سے با ہر قدم رکھنے والے سنگباز اور ملی ٹنٹ ہے،پولیس ہر معاملے کو سیکیورٹی زاوے میرا مطلب ہے کہ ملی ٹنسی کی عینک سے دیکھتی ہے جبکہ اس وقت صورتحال بالکل مختلف ہے‘۔زندگی کی83بہاریں دیکھ چکے تجربہ کار اور ذی حس دماغ کے مالک عبدالرشید خان نے بتایا ’لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت وبا تب تک نہیں آتی جب تک اُسے نہ بلا یا جائے،اللہ تعلی کی ناراضگی اسی صورت میں نظر آتی ہے،آج خود کو سپر پاؤ ر(عظیم عالمی طاقت) سمجھنے والا ملک امریکا اور اس ملک کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بے بس اور لاچار ہے اور اسکی فیسٹریشن خوب نظر آتی ہے‘۔انہوں نے کہا ’قدرت کے سامنے کسی کی نہیں چلتی ہے،اس نے واضح کیا ہے کہ میرے حکم کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا،کیوں سچ ہے نا؟
لاک ڈاؤن نے ثابت کیا نا۔۔۔تاہم راستے بھی متعین کئے،ہمیں احتیاط سے کورونا کے خلاف جنگ لڑنی چاہئے اور زندگی کے معاملات کو بحال کرنا چاہئے،کیونکہ زندگی کو آخر کب تک از خود منجمد رکھا جاسکتا ہے؟‘۔ادھر مولا نا آزاد روڑ اور دیگر کئی روڈس پر نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی بھاری تعداد شہر میں الگ ہی سماں دیکھنے کو ملا۔ایسا لگ رہا ہے کہ عرفہ ہے اور لوگ خریداری کیلئے گھروں سے باہر آئے ہیں جسکی وجہ سے یہاں لمبی لمبی گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور پولیس لوگوں کو گھروں میں بیٹھنے کیلئے سمجھا رہی تھی۔اس دوران کئی مقامات شہریوں اور پولیس کے درمیان نوک جھونک او تکرار بھی ہوئی۔پولیس گھروں سے باہر آئے شہریوں کو یہ بھی سمجھا رہی تھی کہ کورونا وائرس مہلک مرض ہے اور یہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہورہی ہے،لہٰذا اس وقت سماجی دوری اختیار کرنا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس دوران لوگوں نے بتایا کہ طویل ترین لاک ڈاؤن کے باوجود کورونا وائرس کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ زنجیر نہیں ٹوٹی۔اس دوران مسلسل چھٹے روز نھی وادی کشمیر میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات منقطع رہے۔یہ سروس گذشتہ بدھ حزب کمانڈر ریاض نائیکو کی ساتھی سمیت جاں بحق ہونے کیساتھ بند کر دی گئی تھی جبکہ وادی میں موبائیل کالنگ بھی معطل رکھی گئی،تاہم تین روز بعد اُسے بحال کردیا گیا،لیکن انٹر نیٹ کی بند ش ہنوز برقرار ہے۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
دنیا6 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
دنیا6 days agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
ہندوستان5 days agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
پاکستان1 week agoسابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل
