تازہ ترین
سرینگر ،اننت ناگ میں 2سی آر پی ایف افسران کی خود کشی
کشمیر میں سینٹرل ریزوپولیس فورس (سی آر پی ایف) کے سب انسپکٹر سمیت2افسران نے الگ الگ واقعات میں سرکاری رائفلوں سے خود کو گولی مار کر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا۔ مہلوک افسر نے خودکشی سے متعلق نوٹ بھی لکھا جس میں اس نے لکھا تھا ’مجھے ڈر ہے،میں کورونا وائرس میں مبتلاء ہوں‘۔سی آر پی ایف کے ترجمان نے بتایا کہ حتمی رپورٹ آنے تک کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ادھر سی آر پی ایف کے سپیشل ڈائریکٹر جنرل نے خود کشی کے واقعات کو بد قسمتی سے تعبیر کیا اور کہا ’اس کی تحقیقات کی جائے گی کہ جوان انتہائی سنگین قدم کیوں اٹھاتے ہیں؟‘۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق سی آر پی ایف اہلکاروں کے خود کشی کے واقعات سرینگر اور اننت ناگ اضلاع میں پیش آئے جہاں 2افسروں نے انتہائی سنگین قدم اٹھاتے ہوئے اپنی زند گیوں کا خاتمہ کیا۔خود کشی کا پہلا واقعہ منگلوار کی علی الصبح جنوبی ضلع اننت ناگ میں پیش آیا،جہاں 96بٹالین سی آر پی ایف سے وابستہ سب انسپکٹر فتح سنگھ ولد عیدان سنگھ ساکنہ جیسلمیر راجستھان نے خود کو گولی مار کر خود کشی کی۔مذکورہ فوت شدہ افسر نے خود کشی سے قبل خود کشی نوٹ لکھا جس میں انہوں نے کہا تھا ’مجھے ڈر ہے،مجھے کورونا ہے‘۔مہلوک سی آر پی ایف افسر آکورہ مٹن اننت ناگ میں واقع کیمپ میں تعینات تھا۔سنگھ نے جونہی اپنے آپ گولی چلائی جسکی آواز اُسکے ساتھیوں نے سنی وہ فوراً جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔
جہاں انہوں نے اپنے ساتھی کو خون میں لت پت پایا۔بتایا جاتا کہ اُسے زندیکی اسپتال منتقل کیا گیا،جہاں ڈاکٹر وں نے اُسے مردہ قرار دیا۔پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ سنگھ نے مرنے سے قبل ایک خود کشی نوٹ لکھا ہے،جس میں اس نے لکھا تھا ’میرے جسم کو کوئی نہ چھوئے،مجھے ڈر ہے،میں کورونا میں مبتلاء ہوں‘۔ان کا کہناتھا کہ مزید تحقیقات کیلئے مقدمہ درج کیا گیا۔اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) آکورہ مٹن پولیس اسٹیشن جاذب احمد نے بتایا کہ کووڈ۔19پروٹوکول کو اس واقعہ کے حوالے سے اپنایا جارہا ہے۔کورونا جانچ کیلئے نمونے حاصل کئے گئے جبکہ پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا۔ادھر سی آر پی ایف ترجمان،پنکج سنگھ نے بتایا کہ رپورٹ سے معلوم ہوگا کہ آیا مہلوک افسر کورونا پازیٹیو تھا یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ دن بھر کی ناکہ پارٹی کیساتھ ڈیوٹی انجام دینے کے بعد وہ واپس یونٹ میں آیا تھا۔
ابھی تک اُس کے کووڈ وائرس میں مبتلاء ہونے کے شواہد نہیں ملے،حتمی رپورٹ کا انتظار کر نا ہوگا،تفصیلات میڈیا سے شیئر کی جائیں گی۔خود کشی کے دوسرے واقعے میں سرینگر میں ایک سی آر پی ایف اہلکار نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔معلوم ہوا ہے کہ کرن نگر سرینگر میں سی آر پی ایف کے ہی ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے بھی منگل کی صبح اپنی ہی بندوق سے اپنی زندگی خاتمہ کردیا۔سری نگرمیں مقیم سی آر پی ایف کے ترجمان پنکج سنگھ نے بتایا کہ سی آر پی ایف کی49 ویں بٹالین سے وابستہ سب انسپکٹر نے اپنی ہی بندوق سے اپنی زندگی تمام کردی۔
انہوں نے مہلوک افسر کی شناخت بنگالی بابو ساکن گوالیار مدھیہ پردیش کے بطور کی۔سی آر پی ایف کے سپیشل ڈائریکٹر جنرل ذولفقار حسن نے بتایا کہ2جوانوں کی جانب سے منگلوار کو اٹھائے گئے انتہائی سنگین قدم قابل افسوس اور بدقسمتی ہے۔انہوں نے کہا ’ہم سنگین قدم اٹھانے کی وجوہات کے حقائق کو جاننے کی کوشش کریں گی‘۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ و ادی کشمیر میں تعینات فوج،نیم فوجی اور پیرا ملٹری فورس کے اہلکار وں میں خود کشی کے واقعات میں کافی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
