تازہ ترین
وادی کشمیر میں جون کے پہلے ہفتے میں اسکول کھلنے کا امکان
جموں وکشمیر حکومت ممکنہ طور پر جون کے پہلے ہفتے میں اسکولوں کو دوبارہ کھولنے جاری ہے،تاکہ مزید تعلیمی نقصان سے بچا جاسکے۔جموں وکشمیر کے پرنسپل سیکر یٹری،اسکول ایجوکیشن ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے کہا ہے کہ حکومت نے اس ماہ کے آخر تک اسکولوں کی تزئین و آرائش مکمل کرنے اور جون سے کلاسز شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے ٹیو شن فیس وصول کریں گے،تاہم فیس میں چھوٹ پر حتمی فیصلہ انتظا میہ ہی لے گی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر کی حکومت نے واضح اشارہ دیا ہے کہ جون کے پہلے ہفتے میں وادی کشمیر کے بند پڑے اسکولوں کو دوبارہ کھولا جائیگا۔ وادی کشمیر سے شائع ہونے انگریزی روزنامہ کیساتھ بات کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے پر نسپل سیکریٹری ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے کہا ہے کہ ہم منصوبہ ترتیب دے رہے ہیں جون کے پہلے ہفتے میں اسکول دوبارہ کھل جائیں تاکہ اسکولی بچوں کو مزید تعلیمی نقصان سے بچا جاسکے۔
ان کا کہناتھا کہ ورچیول کلاسز،ٹیلی کلاسز اور ریڈ یو کلاسز اسکول کھلنے تک جاری رہیں گے۔ ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے کہا کہ حکومت نے 60ہزار کتا بیں اور 1200ٹیبلٹس بشمول آف لائن لورڈڈ ویڈ لیکچرس طلبہ میں تقسیم کئے۔ان کا کہناتھا کہ جن طلبہ کے پاس سمارٹ فونز تک رسائی نہیں ہے،اُن تک ضرورت کے مطابق پڑھائی سے متعلق مواد پہنچایا گیا۔ اس دوران ایک سرکاری حکمنا مہ بھی جاری ہوا،جس کے مطابق جموں وکشمیر کے پرنسپل سیکر یٹری،اسکول ایجوکیشن ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے سبھی تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ہدایت دی ہے کہ سبھی اسکولی عمارات کی تزئین و آرائش کھولنے سے قبل ہی مکمل کریں۔آر ڈر میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں کی عمارات کی تزئین وآرائش بجٹ2020-21میں مختص رکھے گئے تجدید ومرمت اور بحالی فنڈ کی جائیگی۔محکمہ تعلیم کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ انٹر نیٹ رفتار کم ہونے کی وجہ سے اسکولوں کو دوبارہ کھولا جارہا ہے،تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا،تاہم کووڈ۔19کی صورتحال کیسی پیدا ہوتی ہے،اُس پر سب کچھ انحصار ہے۔
پرویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر،جی این وار نے کہا کہ طلبہ کے مستقبل پر سیاہ بادل منڈ لا رہے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ4۔جی انٹر نیٹ اب خواب بن گیا ہے،اسکول کھولنے اور حکومتی اقدام کی حمایت کرنایا تعاؤن دینے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ان کا کہناتھا کہ کووڈ۔19صورتحال کو ملحوظ نظر رکھ کر رہنما خطوط پر عمل در آمد کرکے ہم نے اسکولز کھولنے کے منصو بے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ان کا کہناتھا ’اسکول مرحلہ وار بنیادوں پر کھلیں گے اور کلاسز ترتیب وار ہونگے،طلبہ کو اسکولوں میں جمع ہونے کی اجازت نہیں دی جائیگی،طلبہ کی صحت پہلی ترجیح رہے گی،ہر ایک کلاس میں عام سنیٹائزر ہوگا اور اسکولوں کو سماجی دوری اختیار کر نے کیلئے کہا جائیگا‘۔یاد رہے کہ وادی کشمیر میں 7مارچ کو حکومت نے ایک آرڈر جاری کیا،جسکے تحت پہلے پرائمری اور بعد ازاں مڈل وہائی اور ہائر اسکینڈری کے سبھی تعلیمی اداروں کو تاحکم ثانی بند رکھنے کے احکامات صادر کئے گئے۔
یہ احکامات عالمی وبا پھیلنے کے خد شات کے پیش نظر اٹھائے گئے۔ادھر ایک ٹوئیٹ میں جموں وکشمیر کے پرنسپل سیکر یٹری،اسکول ایجوکیشن ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے کہا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے ٹیوشن فیس وصول کریں گے،انتظامیہ کو ٹیوشن فیس میں چھوٹ کرنے کا حتمی فیصلہ لینے دیں‘،جموں وکشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن (بوس) کو موجودہ اسکولوں کی مستقل رجسٹریشن کرنے کی اجازت دی گئی،نجی اسکول ایسوسی ایشنز کو ایس ای ڈی کمیٹیوں میں نمائندگی دی گئی،تمام غیر ضروری این او سی ازکو ختم کیا جاتا ہے‘۔
دنیا
یوکرین بڑے پیمانے کے ڈرون حملوں کے ساتھ روس کے روستوف علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے
ماسکو، ایک وسیع پیمانے کے یوکرینی ڈراون حملے میں روس کے جنوبی علاقے روستوف میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ بعض رہائشی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔
ورنر یوری سلوسار نے ٹیلیگرام پر تصدیق کی کہ ‘ دشمن کے شدید حملے میں سات افراد زخمی ہوئے’ اور بتایا کہ چار زخمیوں کو صوبائی دارالحکومت کے اسپتال میں زیرِ علاج لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے حملے کے بعد ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے۔
ضلع پرو لیتارسکی میں گرنے والے ڈراو ن کے ٹکڑوں نے دو بلند رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد ہنگامی خدمات نے رہائشیوں کو عارضی پناہ گاہ میں منتقل کیا۔
اکسائیسکی ضلع میں حکام نے ایک گودام سے ڈراون کے ٹکڑے برآمد کیے اور قریبی جنگل کی پٹی میں آگ بھڑکنے کی اطلاع دی۔
باگایفسکی ضلع میں نجی مکانات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سلوسار نے خبردار کیا کہ ڈراونز کا خطرہ برقرار ہے اور رہائشیوں کو گھر کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
یوکرین نے تاحال اس حملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے:پیزشکیان
تہران، صدرِایران مسعود پزیشکیان نے اپنے ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات کا سرکاری ٹیلی ویژن پر جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے بارے میں کی گئی بات چیت میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ‘معاہدہ شدہ نقشے کی بنیاد پر’ دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا، ‘موجودہ مذاکراتی عمل میں ہرمز کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا۔ اس روڈ میپ کو ایران کے رہنما آیت اللہ مُجتَبٰی خامنہ ای کے سامنے پیش کیا گیا اور پاسدارانِ انقلاب، فوجی قوتیں اور مذاکراتی ٹیم میں شامل ہمارے بھائیوں نے بھی اسے منظور کیا۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘اگر یہ راہداری اسی دائرہ کار کے تحت کھولا جائے تو امریکہ کو بھی اپنے وعدے پورے کرنے چاہییں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو بحری محاصرے اور پابندیوں کو ختم کرنا، ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنا اور اسرائیل پر زور ڈالنا چاہیے کہ وہ لبنان میں اپنے اقدامات روک دے۔
پزیشکیان نے کہا، ‘آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عمل اسلام آباد مفاہمت نامہ میں بیان کردہ اور مخالف فریقین کے قبول کردہ دائرہ کار کے مطابق ہے اور اسے نافذ ہونا چاہیے۔’
اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے پزیشکیان نے کہا، ‘ہمیں اپنے محبوب اور شہید سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے نظریات کی بنیاد پر سفارتکاری کو مضبوط کرنا چاہیے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہیے، اگرچہ ان تعلقات میں ہم آہستگی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘ایران کے زیادہ تر ہمسائے اسلامی ممالک ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ ایک مشترکہ زبان تلاش کرنی چاہیے، اور خطے کی سلامتی کو مل کر یقین دہانی کرانی چاہیے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے بات چیت اور باہمی رابطہ ضروری ہے۔ ہم پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، مصر، آذربائیجان اور ترکمانستان کے ساتھ ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے زمین تیار ہے، ہمیں صرف اپنے نقطہ نظر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
