تازہ ترین
ملک گیر لاک ڈاءون :14روزہ چوتھا مرحلہ شروع
ملک گیر لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلے کے اختتام کیساتھ ہی سوموار کو 14روز ہ چوتھا مرحلہ شروع ہوگیا۔تاہم وادی کشمیر میں کورونا لاک ڈاؤن کے 2ماہ مکمل ہوچکے ہیں اور اب یہ تیسرے مہینے میں داخل ہوچکا ہے۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں سوموار کو مسلسل 61ویں روز بھی کورونا لاک ڈاؤن سختی کیساتھ نافذ رہا۔گزشتہ دنوں کے مقابلے میں لاک ڈاؤن میں مزید سختی لائی گئی۔24گھنٹوں کے دوران 2مریضوں کی موت اور مریضوں کی تعدادمیں مسلسل اضافہ ہونے کے بیچ سوموار کو لاک ڈاؤن میں مزید سختی لائی گئی،تاکہ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔وادی کشمیر میں شمال وجنوب میں معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے۔شہر ودیہات میں ہر طرح کی دکانیں،بازار،تجارتی و کاروباری اداے مرکز بند ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔اس دوران لاک ڈاؤن کو سختی کیساتھ لاگو کرنے کیلئے سڑکوں،پلوں اور چوراہو ں پر پولیس وفورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے جگہ جگہ ناکہ بندی اور تار بندی بھی کی گئی ہے۔گزشتہ دنوں کے دوران شہر کے سیول لائنز میں نجی گاڑیوں میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا جبکہ شہر خاص میں بھی نقل وحرکت میں اضافہ ہی دیکھنے کو ملا۔ادھر ضلع انتظامیہ بڈگام نے سوموار کے روز وسطی کشمیر کے ضلع میں دفعہ144کا نفاذ عمل میں لایا۔یہ اقدام کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے عمل میں لایا گیا ہے۔
اس سلسلے میں ضلع کمشنر بڈگام کی طرف ایک حکمنامہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مہلک وائرس سے پورے ملک کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔آرڈر میں بتایا گیا ہے ضلع کے اندر کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اضافی اقدامات کئے گئے ہیں۔آرڈر میں درج ہے کہ ضلع میں کورونا کے پھیلاؤکو روکنے کیلئے دفعہ144نافذ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی شام 7 بجے سے صبح 7 بجے تک لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حمل پر مکمل پابندی عاید کی گئی ہے۔آرڈر کے مطابق لوگوں کو صرف شدید مجبوری کے تحت ہی کہیں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ آرڈر میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت قانون کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ادھرذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سرینگر سمیت وادی بھردفعہ 144کے تحت حکم امتناعی برقرار ہے۔ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا چوتھا مرحلہ آج(سوموار) سے شروع ہوا۔ مرکزی وزارت داخلہ نے کل ملک میں لاک ڈاؤن کی مدت اِس مہینے کی31 تاریخ تک بڑھانے کا اعلان کیا۔24مارچ سے نافذ لاک ڈاؤن سے ملک میں کووڈ۔19 کو پھیلنے سیروکنے میں کافی مدد ملی ہے۔
البتہ لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں قابل قدر نرمی کی جائیگی۔ مرکزی سرکار نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ریڈ، اورینج اور گرینزون کی حدبندی کی اجازت دے دی ہے۔گھیرا بندی والے علاقے ریڈ اور اورینج زون کے دائرے میں آئیں گے، جبکہ علاقے کا ایک چھوٹا حصہ بفر زون ہوگا۔ گھیرا بندی والے علاقوں میں طبی اور ضروری سامان کی رسد کو چھوڑ کر کسی بھی طرح کی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ وزارت داخلہ نے اْن سرگرمیوں کی ایک فہرست جاری کی ہے، جن پر اگلے14دن تک پورے ملک میں پابندی عائد رہے گی۔سبھی گھریلو اور بین الاقوامی ہوائی سفر، طبی اور دفاعی خدمات کو چھوڑ کر، باقی لوگوں کے لیے لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں بھی بند رہے گا۔ میٹروریل بھی ابھی بند رہے گی۔ اسکول، کالجز، تعلیمی، تربیتی اور کوچنگ ادارے پورے ملک میں بند رہیں گے۔
ہوٹل اور ریستوراں بھی بند رہیں گے، تاہم مسافروں کی آسانی کے لییہوائیاڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بس ڈپو میں کینٹین اور کھانے کے اسٹالز کھولنے کی اجازت ہوگی۔ سنیما ہالز، جم، شاپنگ مال، تفریحی پارک یا ایسی ہی جگہیں جہاں لوگ اکٹھا ہوتے ہوں،پورے ملک میں بند رہیں گی۔ سیاسی، سماجی اور ثقافتی عوامی جلسوں سمیت ہر طرح کے جلسے پر احتیاط کے طور پر پابندی رہے گی۔ عبادت گاہوں اور مذہبی اجتماعات پر سختی کے ساتھپابندی عائد رہے گی۔ شام سات بجے سے صبح سات بجے تک کا رات کا کرفیو31 مئی تک جاری رہے گا۔ریاستیں اور مرکزی انتظام والے علاقے بین ریاستی بس خدماتاور دیگر گاڑیوں کی آمد ورفت دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔بین ریاستی بس خدمات کے بارے میں فیصلہ متعلقہ ریاستوں کی باہمی رضامندی سے کیا جائے گا۔سرکار نے اسپورٹس کمپلیکس اور اسٹیڈیم کھولنے کی بھی اجازتدے دی ہے، لیکن اِن مقامات پر لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔سرکار نے مختلف اداروں اور آجروں پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے زور دیا ہے کہ سبھی ملازمین اپنے موبائل فون پر آروگیہ سیتو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔سرکار نے65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں،حاملہ خواتین اور10 سال سے کم عمر کے بچوں کو صلاح دی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن نافذ رہنے تک اپنے گھروں میں ہی رہیں۔
ادھر ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے نے مرکزی حکومت اور ریاستوں کو لاک ڈاون جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ہندوستان میں دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاون مزید 14 دنوں کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ لاک ڈاون کا چوتھا مرحلہ ہے جو پیر کے روز یعنی18 مئی سے شروع ہو گیا اور31 مئی کو ختم ہو گا۔ اس پورے معاملے پر سی این بی سی ٹی وی۔18 کے ساتھ خاص بات چیت میں پی وی آر کے چیئرمین اور ایم ڈی اجئے بجلی نے بتایا کہ15 جون کے آس پاس شاپنگ مال کھل سکتے ہیں۔ اس کے ایک۔ دو ہفتے بعد سنیما ہال کو کھولنے کی منظوری بھی دی جا سکتی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ مارچ کے آخر سے ملک کی سبھی جگہوں پر شاپنگ ہال اور سنیما ہال بند ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے نے مرکزی حکومت اور ریاستوں کو لاک ڈاون جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
اس کے بعد وزارت داخلہ نے نئے رہنما خطوط جاری کر دئیے۔ اس کے مطابق، سنیما ہال، شاپنگ مال، جم، سوئمنگ پول، انٹرٹینمنٹ پارک، تھئیٹر، آڈیٹوریم اور اسمبلی ہال بند رہیں گے۔اجے بجلی آگے کہتے ہیں کہ سنیما ہال میں بیٹھنے کے لئے کچھ تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ جیسے فیملی اینڈ گروپ کو ایک ساتھ بٹھایا جائے گا۔ وہیں، دوسرے لوگوں کو بٹھانے کے لئے کچھ دوری رکھی جائے گی۔ لاک ڈاون کے بعدجلدی۔ جلدی فلمیں ریلیز ہو سکتی ہیں۔ وہیں، سبھی لوگوں کے لئے او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر فلمیں ریلیز کرنا آسان کام نہیں ہے۔
ہندوستان
نہرو-گاندھی خاندان نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی: بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس پر لوٹ مار، سماج میں تقسیم اور ہندوستانی مذہب و ثقافت کے تئیں نفرت رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس خاندان (گاندھی خاندان) نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اپنے اقتدار کی عمارت کھڑی کی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے جمعہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اقتدار سے باہر رہنے پر پانی سے باہر مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہے اور کسی بھی طرح اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے، ایسی سوچ رکھنے والی کانگریس کی باگ ڈور راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بدقسمتی ملک سے زیادہ کانگریس کے لیے ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کا حق نہ دے کر اپنی سیاسی طاقت قائم کی اور ایک بھی ووٹ نہ ملنے کے باوجود وزیر اعظم بن گئے۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک نے تقسیم کا درد دیکھا، جو انسانی تاریخ کے خونریز ترین ابواب میں سے ایک تھا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ پنڈت نہرو 15 اگست 1947 کو نہیں، بلکہ 2 ستمبر 1946 کو عبوری حکومت کے وزیر اعظم بنے تھے اور ان کے دور میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد محترمہ اندرا گاندھی نے اپنی پارٹی کو تقسیم کرنے کے بعد اپنی طاقت مضبوط کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محترمہ گاندھی نے مسٹر نیلم سنجیو ریڈی سے متعلق صدارتی انتخاب کے دوران اپنے ارکانِ پارلیمنٹ سے کانگریس کے سرکاری موقف کے خلاف ووٹ دینے کو کہا، جس کے نتیجے میں پارٹی تقسیم ہو گئی۔ محترمہ گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں دہلی میں سکھوں کے قتلِ عام کے دوران مسٹر راجیو گاندھی اقتدار میں آئے۔ سکھ مخالف تشدد یکم نومبر 1984 کو شروع ہوا تھا۔ بی جے پی ترجمان نے کہا، ”کانگریس اب اسی تاریخ کو دہلی میں مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ شہر کو 1984 میں دیکھی گئی افراتفری کی یاد دلانا چاہتی ہے۔”
مسٹر گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور ذرائع کے مطابق چمپا (ویتنام کا قدیم نام) میں بھٹک رہے ہیں۔ وہ ملک اور کانگریس، دونوں کے لیے ایک معمہ بن گئے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ریکارڈ شاندار اور کامیابیوں سے بھرپور رہا ہے، جبکہ مسٹر گاندھی کا ریکارڈ کانگریس کے لیے مسائل سے بھرا رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کے اندر کئی طرح کے تجربات کیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یوتھ کانگریس کے انتخابات کو جمہوری بنایا جائے گا، لیکن اس کے بعد پورے ملک نے دیکھا کہ یوتھ کانگریس میں بھیڑ کی حکمرانی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سربراہ اجلاس میں برہنہ مظاہرے کے علاوہ کوئی جمہوری عمل نظر نہیں آیا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ براک اوباما نے اپنی کتاب ‘اے پرامسڈ لینڈ’ میں 2010 میں راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد باب 24 میں لکھا تھا، ”راہل گاندھی میں گھبراہٹ اور ناپختگی جھلکتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے نصاب تو مکمل کر لیا ہو اور اساتذہ کو متاثر کرنے کے لیے بے چین ہو، لیکن اس میں نہ تو اس موضوع پر عبور حاصل کرنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی اس کے لیے جذبہ۔”
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو کمزور کرنے اور اسے اپنی 140 سالہ تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک پر پہنچانے کے بعد اب مسٹر گاندھی ملک کے اداروں اور نظام کو کمزور کرکے خود کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ ناکام پروڈکٹ کو بار بار لانچ کرنے کے لیے کانگریس نے آج صرف اپنی پارٹی ہی نہیں، بلکہ ملک کے آئینی نظام کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ مسٹر گاندھی کس طرح ناکام پروڈکٹ ہیں، وہ اسے حقائق کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جب دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں ان کا داخلہ ہوا تھا تو وہ قومی سطح کے نشانے باز کھلاڑی کے طور پر داخل ہوئے تھے۔ لیکن اس کے بعد ان کا نشانہ ایسا چُوکا کہ وہ ہر نشانہ چُوکتے چلے گئے۔ یہ ان کی پہلی ناکامی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندانی رواج کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ کا رخ کیا۔ پھر 1996 سے 1999 کے درمیان انہوں نے ایک برطانوی کمپنی میں ملازمت کی، جو بند ہو گئی۔ یعنی آپ سوچئے کہ وہ کتنے اہم پروڈکٹ ہیں کہ جہاں جہاں راہل کے قدم پڑے، وہاں وہاں تباہی مچ گئی۔”
اس کے بعد کانگریس کے بڑے رہنماؤں نے 2014 میں انہیں اپنا غیر اعلانیہ رہنما بنایا اور کانگریس لوک سبھا میں اپنی تاریخ کی اب تک کی سب سے کم نشستوں پر پہنچ گئی۔
مسٹر ترویدی نے کہا، ”مسٹر گاندھی نے پھر ایک اور تجربہ کیا اور کہا کہ ہم خاندانی سیاست ختم کریں گے، لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ کانگریس کی تاریخ میں نہرو-گاندھی خاندان کے تینوں افراد (ماں، بیٹا اور بیٹی) پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔”
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
چین کے تئیں نرمی اور بڑھتے معاشی انحصار پر جواب دیں مودی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی، بڑھتے تجارتی خسارے اور معاشی انحصار پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر ان سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے چین کو مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف ہندوستان اور چین کی سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے دوران انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی کارکردگی کی اس کے ڈائریکٹر جنرل نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ ریاست کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے بعض مقامات ہندوستان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کرنے اور وہاں 60 ہزار میگاواٹ کا ڈیم بنانے کے منصوبے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحولیات اور آبی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جب کہ گزشتہ سال یہ 99 ارب ڈالر تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی صنعتوں کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘میک اِن انڈیا’ اب ‘چین سے درآمد’ میں تبدیل ہوچکا ہے اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کی معاشی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
مسٹر رمیش نے 19 جون 2020 کو چین کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آج بھی اس بیان کی قیمت چکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کا یہ بیان 20 ہندوستانی جوانوں کی شہادت کے بعد سامنے آیا تھا۔
کانگریس لیڈر نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے اس انکشاف کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ لداخ میں چینی دراندازی کے دوران انہیں صرف یہ ہدایت ملی تھی کہ ”جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔” انہوں نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کے وسیع کردار کا انکشاف کیا تھا، جب کہ گزشتہ 25 اگست کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے عوامی طور پر ان انکشافات کی تردید کی تھی۔ مسٹر رمیش نے اس واقعے کے بعد جنرل چوہان کی جانب سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریے سے وابستہ ایک اہم تھنک ٹینک کی سربراہی سنبھالنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ سرحد پر کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں نرمی اور معاشی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار کس طرح کی قوم پرستی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو کھوکھلے دعووں کی نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے معاملے پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
