تازہ ترین
جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی بے چینی،معاشی بدحالی کے لئے ذمہ داران کوتاریخ کبھی معاف نہیں کرسکتی:بیگم خالدہ شاہ
عوامی نیشنل کانفرنس کی مجلس عاملہ کا اجلاس
وسیع تر مفادات کے تحفظ کیلئے مشترکہ پلیٹ فارم ناگزیر
خبراردو:-
سرینگر:عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے وسیع تر مفادات کے تحفظ کیلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم ناگزیر ہے
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی بے چینی اورمعاشی بدحالی کے لئے ذمہ داراں کوتاریخ کبھی معاف نہیں کرسکتی ہے۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں و کشمیر عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر خالدہ شاہ نے اپنے صدر دفتر پر عوامی نیشنل کانفرنس کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی بے چینی اور معاشی بدحالی کے لئے ذمہ داراں کوتاریخ کبھی معاف نہیں کرسکتی یہاں کے مجبور و مقہور لوگوں کی بے بسی سے لطف اندوز ہونے والے بی جے پی اور آر ایس ایس کے آلہ کاروں سے پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ اس ستم رسیدہ قوم کی آنے والی نسلوں کے لئے کونسی نئی مصیبتیں کھڑا کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ کے ساتھ پیوستہ موجودہ سیاسی حالات اور اقتصادی بحران کے محرکات اور اسباب کی نشاندہی کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماتیں چھوٹے موٹے باہمی اختلافات کو بھول کر قوم کے وسیع تر مفادات کے تحفظ کیلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں اور اپنی کھوئی ہوئی قومی شناخت اور ملی تشخص کو آبر و مندانہ طریقے سے باز یافت کرنے کی ٹھوس کوشیش کریں۔
اجلاس میں صوبہ جموں سے تعلق رکھنے والے کئی ایک صوبائی وضلعی عہدیداراں نے صوبائے صدر جموں سردار گھیان سنگھ کی قیادت میں ٹیلی موا صلاتی سہولیت کے ذریعے شمولیت کر کے ایسے ہی دوسرے اجلاس کو جموں میں منعقد کرانے کے لئے صحابہ صدر سے منظوری لی ۔
گپکار ڈیکلریشن کو اس سمت میں سنگ میل قرار دیتے ہوئے پارٹی کے شنیئر نائب صدر جناب مظفر شاہ نے کہا کہ یہ بات بہت ہی حوصلہ افزا ہے کہ گپکار اعلانیہ میں پہلے سے شامل یہاں کی سیاسی جماعتوں کے علاوہ جموں و کشمیر اور لداخ سے مختلف طبقہ ہا فکر کی انجمنوں کے نمائیندگاں بھی اس کارواں میں شامل ہونے کے لئے آگے آ ئے ہیں۔
انہوں نے گپکار اعلانیہ کو فعال اور موثر بنانے کے لئے اپنی پارٹی کی طرف سے مکمل تعاون و اشتراک دینے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 370 اور دفعہ 35 A کی بازیابی کے لئے اس اعلانیہ میں شامل تمام جماعتیں سپریم کورٹ آف انڈیا کے سامنے بحیثیت عرض دھند گان کھڑے ہیں۔انہوں نے یہاں کی معاشی بدحالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے وادی کشمیر 2014 کے تباہ کْن سیلاب سے لیکر آج تک کئی ایک دیگر وجوہات کے بناء پر اقتصادی بربادی کے دلدل میں پھنس گئی ہے۔ سیلاب کے بعد2015 کے ناخوشگوار موسمی حالات 2016,17 کی مکمل ہڑتالیں اور اسکے بعد تاحال کے رواں کرفیو اور لاک ڈاؤں نے یہاں کی معشیت کی کمر توڑ دی ہے۔
حکومت کی طرف سے ریلیف اور باز آباد کاری کے کھوکھلے دعوؤں کو رد کرتے ہوئے مظفر شاہ نے کہا کہ سرکار کی محض کاغذی جمع خرچ سے متاثرہ آبادی کا کوئی بھلا نہیں ہو سکتا ہے۔بلکہ حکومت ہند کی گذشتہ سال بے جا اور غیر منصفانہ اقتصادی ناکہ بندی کے نتیجے میں یہاں وادی کشمیر میں ہوئے ہزاروں کروڑوں روپیہ کے ہوئے مال نقصان کی ادائیگی کرکے۔دفعہ 370 اور 35 A کی اہمیت افادیت اور اسکی آئینی صفحات میں موجودگی یا عدم موجودگی کے بارے میں منفی سوچ رکھنے والے اورکج بحث کرنے والے مہاپرشوں سے مظفر شاہ صاحب نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حقیرمفاد کے حصول کیلئے اپنی آنیوالی نسلوں کے مستقبل کو داؤ پرنہ لگائیں بلکہ ایک مثبت سوچ کے ساتھ تاریخی حقئیق کا طرف دار بن کر سامنے آئے۔
5 اگست 2019 کو ہندوستاں کے وزیر اعظم،وزیر داخلہ اور منسٹرآف سٹیٹ ڈاکٹر جتندر سنگھ نے دفعہ 370 اور 35 A کی منسوخی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں تاریخی حقائیق کوتوڑ مروڑ کے رْخ بدل کر پیش کیا اور قانونی ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنی سیاسی بالا دستی کا مظاہرہ کرکے اسے غیر آئینی طور منسوخ کر وایا۔ اس تمام غیر آئینی طریقہ کار کیخلاف عوامی نیشنل کانفرنس گزشتہ سال قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ سیاسی جْدوجہد کا آغاز کرکے اس دفعہ کے حوالے سے ایک قابل فہم آئینی اور تاریخی دستاویز مرتب کرکے جموں و کشمیر کے عوام کی طرف سے بطور ایک ’تحریک استحقاق‘ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ،پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور اْن کے دیگر ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ دیگر جزب مخالف کے ممبران پارلیمنٹ کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سر براہی میں جناب غلام نبی آزاد کی تائید و حمایت کیساتھ پیش کیا گیا جسکے خاطر خواہ مطلوبہ نتائج تاحال برآمد نہ ہوئے۔
لہذا آنے والے مون سون سیشن میں اس معاملے کو پھر سے پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے کی کوشش میں تمام حذب اختلاف کے ممبران کو5 اگست 2019 کے غیر جمہوری فیصلہ کو رد کروا کر آئین اور آئین سازوں کی لاج رکھنے کی استد عا کیگئی۔میٹنگ میں پارٹی صدر محترمہ خالدہ شاہ صاحبہ اور سنیئر نائب صدر مظفر شاہ صاحب کی ایک سال تک کی غیر قانونی خانہ نظر بندی کے خلاف جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ میر محمد شفع نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کیخلاف مجاز عدالت کے سامنے ہر جانہ کیلئے تحت قواعد جانے کا اعلان کیا۔
انہوں نے بی جے پی جموں و کشمیر یونٹ صدر رویندر رینہ کے خلاف اْن کے ورکنگ کمیٹی جموں میں دئے گئے حالیہ غیر جمہوری اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کے خلاف قومی انسانی حقوق کمشن کے علاوہ اقلیتی کمشن کے سامنے اٹھانے کا اظہار کیا۔اْنہوں نے مذید کہا کہ اگر سپریم کورٹ آف انڈیا نے دفعہ 370/35 A کے تعلق سے بروقت دائر کی گئی ہماری پٹیشن کو طوالت میں نہ ڈال کراسکی اہمیت کو سنجیدگی سے لیکر ایک ’اسٹیٹس کو’دیا ہوتا تو شاید حکمران ٹولے کو طاقت کے بل بوتے پر پارلیمنٹ کے زریعہ اسے منسوخ کرنے کا موقعہ نہیں ملتا ۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
