ہندوستان
ہر شخص کو ویکسین فراہمی حکومت کی ترجیح، لیکن وقت متعین نہیں: پی ایم مودی
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ حکومت کووڈ ویکسین تیار کرنے کے عمل پر کڑی نگرانی کر رہی ہے اور تمام شہریوں کو اسے آسانی سے میسر کرانا ان کی ترجیح ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ویکسین کب تک دستیاب ہو پائے گی۔
پی ایم مودی نے کہا کہ جس طرح کووڈ کے خلاف مہم میں ہر شخص کی زندگی کو بچانا حکومت کی ترجیح رہی ہے، اب بھی اس کا زور ویکسین فراہم کرکے ہر شخص کی جان بچانے پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کے منفی اثرات کے بارے میں افواہیں پھیلائی جاسکتی ہیں لہذا سرکاری مشینری اور باقی سب کو مل کر لوگوں کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کرنا ہوگا۔
مختلف ریاستوں میں کووڈ انفیکشن میں اضافہ کے پیش نظر، پی ایم مودی نے آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ آٹھ متاثرہ ریاستوں اور مرکزی علاقوں کے وزرائے اعلی سے ایک میٹنگ کی۔ اجلاس میں کووڈ انفیکشن کی صورتحال، اس سے نمٹنے کے لئے تیاری اور انتظامیہ سے خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا۔ نیز لوگوں کو ویکسین کی فراہمی، تقسیم اور فراہمی جیسے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ویکسین تیار کرنے کے عمل پر کڑی نگرانی کر رہی ہے اور اس سلسلے میں ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ عالمی ریگولیٹرز، دوسرے ممالک، کثیرالجہتی اداروں اور بین الاقوامی کمپنیوں سے بھی رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ویکسین تمام سائنسی معیار پر کھرا اترے۔ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ شروع سے ہی ہر فرد کی زندگی کو بچایا جائے اور ویکسین ہر شہری تک پہنچنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو یہ یقینی بنانے کے لئے ہر سطح پر مل کر کام کرنا ہوگا کہ ویکسین مہم آسان، منظم اور مستقل رہے۔ پی ایم مودی نے آج جن ریاستوں کے ساتھ وزرائے اعلیٰ نے بات کی ان میں ہریانہ، دہلی، چھتیس گڑھ، کیرالہ، مہاراشٹر، راجستھان، گجرات اور مغربی بنگال شامل ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ریاستوں کے ساتھ مل کر ویکسین کے بارے میں ترجیح دی جارہی ہے۔ ان کے ساتھ اضافی ذخائر پر بھی تبادلہ خیال ہوا ہے۔ انہوں نے وزرائے اعلی سے بہتر نتائج کے لئے ریاستی سطح کی اسٹیئرنگ کمیٹی اور ریاستی اور ضلعی سطح کے ٹاسک فورسز کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
پی ایم مودی نے ریاستوں کو متنبہ کیا کہ ویکسین کے بارے میں بہت سی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں اور اس کے منفی اثرات کے بارے میں مزید افواہیں بھی پھیلائی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بیداری پھیلاتے ہوئے ایسی افواہوں پر قابو پانا ضروری ہے۔ اس میں سول سوسائٹی، این سی سی اور این ایس ایس طلباء اور میڈیا کی مدد لی جاسکتی ہے۔
کووڈ انفیکشن کی حالت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ملک نے ہمت اور مستقل کوششوں کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا اور صحت یابی اور اموات کے معاملے میں ہندوستان زیادہ تر ممالک سے بہتر ہے۔ ٹسٹ اور علاج کے نیٹ ورک کی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کیئرز فنڈ پر اسپتالوں میں آکسیجن کی دستیابی کو یقینی بنانے پر زور دیا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ، اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں کو آکسیجن کی تیاری میں خود کفیل بنانے کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آکسیجن کے 160 نئے پلانٹس لگانے کا عمل جاری ہے۔
پی ایم مودی نے کہا کہ کووڈ کی جانچ کے لئے آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کی تعداد میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے گھروں میں زیر علاج مریضوں کی بہتر نگرانی، صحت مراکز میں تمام سہولیات کی فراہمی اور دیہات میں وائرس سے متعلق آگاہی مہم چلانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اموات کی شرح کو ایک فیصد سے نیچے لانے اور سب کو ویکسین فراہم کرنے پر زور دیا جانا چاہیے۔
کووڈ انفیکشن کے بارے میں لوگوں کے رد عمل کا ذکر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ یہ چار مراحل میں رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں خوف اور افراتفری کا ماحول تھا۔ دوسرے مرحلے میں اس وائرس کے بارے میں شکوک و شبہات تھے اور لوگ یہ بتانے میں ہچکچاتے تھے کہ انہیں یہ انفیکشن ہوگیا ہے۔ تیسرا مرحلہ اعتراف تھا جب لوگوں نے اسے سنجیدگی سے لیا اور دیکھ بھال کی۔ چوتھے مرحلے میں جیسے ہی شفا یابی کی شرح میں اضافہ ہوا، لوگوں نے وائرس سے حفاظت کے بارے میں غلط فہمی پال لی، جس کی وجہ سے غفلت اور انفیکشن میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وائرس کی شدت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا بہت ضروری ہے۔ ریاستی حکومتوں کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو اس کی طرف سنجیدہ بنایا جاسکے۔
اجلاس میں وزرائے اعلیٰ نے وزیر اعظم کی سربراہی میں کووڈ کے خلاف چلائی جارہی مہم کی تعریف کی اور ریاستوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں تعاون پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے یہاں کووڈ کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں اور اس سے نمٹنے کے لئے اٹھائے جارہے اقدامات کا ذکر کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ویکسین کے حوالے سے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔ سنٹرل ہیلتھ سکریٹری راجیش بھوشن نے ایک پریزنٹیشن کے ذریعے کووڈ انفیکشن کی موجودہ صورت حال کی نشاندہی کی۔
ہندوستان
مودی کل وارانسی میں گارمنٹ فیکٹری اور بھونیشور میں ریزرو بینک کے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کریں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کو اتر پردیش اور اڈیشہ کے دورے پر رہیں گے۔
وزیر اعظم وارانسی میں اَروِند لمیٹڈ کی نئی گارمنٹ مینوفیکچرنگ فیکٹری کا افتتاح کریں گے۔ اس کے بعد نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے 94ویں یومِ تاسیس کے موقع پر منعقد ہونے والے ‘ونگز اوور گنگا’ پروگرام میں ایئر فورس ڈے ایریل ڈسپلے-2026 کا مشاہدہ کریں گے۔ اڈیشہ کے بھونیشور میں وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نئے ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے اور اجتماع سے خطاب کریں گے۔
وارانسی میں قائم کی گئی نئی گارمنٹ فیکٹری کا مقصد ملک کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تیاری کے شعبے کو مضبوط بنانا اور علاقے میں صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ جدید مینوفیکچرنگ کے طریقوں پر توجہ مرکوز کرنے والا یہ ادارہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، خاص طور پر خواتین کے لیے۔ عالمی صارفین سے منسلک اس منصوبے کے ذریعے وارانسی میں تیار ہونے والی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچیں گی۔ یہ منصوبہ خواتین کی قیادت میں ترقی اور اتر پردیش میں صنعتی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
وزیر اعظم دوپہر میں وارانسی کے نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے ایریل ڈسپلے-2026 میں مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ ‘ونگز اوور گنگا’ کے موضوع پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام ہندوستانی فضائیہ کی 94ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا جائے گا۔ اس میں دیسی ساختہ لڑاکا طیارہ تیجس، ہلکا لڑاکا ہیلی کاپٹر پرچنڈ، سخوئی-30 اور رافیل لڑاکا طیاروں سمیت ٹرانسپورٹ طیارے حصہ لیں گے۔ ہندوستانی بحریہ اور فوج کے طیارے بھی مشترکہ آپریشنل صلاحیت کا مظاہرہ کریں گے۔
ایئر شو میں ہندوستانی فضائیہ کی اہم مظاہرہ کرنے والی ٹیمیں، سوریہ کرن ایروبیٹک ٹیم اور سارنگ ہیلی کاپٹر ڈسپلے ٹیم بھی حصہ لیں گی۔ مظاہرے کے دوران پرواز کی مہارت، باہمی تال میل اور آپریشنل کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
اس کے بعد مسٹر مودی اڈیشہ کے بھونیشور پہنچیں گے۔ شام کو وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نو تعمیر شدہ ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے۔ ان سہولتوں کو بینک کی کمپیوٹنگ ضروریات پوری کرنے اور بینکاری و مالیاتی شعبے کو محفوظ، مضبوط اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ڈیجیٹل ڈھانچہ فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
ڈیٹا سینٹر کمپلیکس میں چار جدید ترین ڈیٹا سینٹر ہوں گے، جہاں ادائیگی اور تصفیے کے نظام سمیت اہم ڈیجیٹل خدمات چلائی جائیں گی۔ اس سہولت کو اپ ٹائم انسٹی ٹیوٹ کے ٹیئر-4 معیار کی سند حاصل ہوئی ہے، جسے ڈیٹا سینٹر کے بنیادی ڈھانچے اور آپریشنل مضبوطی کے لیے عالمی معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبے میں دنیا کی سب سے بڑی ٹائر-4 سند یافتہ سہولتوں میں شامل ہے۔
بھونیشور میں قائم سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا مقصد سائبر سکیورٹی اور انٹرپرائز ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت، تحقیق اور ماہرین کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ ادارہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبوں سے متعلق جدید ترین ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرے گا۔ ان میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ بینک کے مطابق، یہ دونوں سہولتیں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی رسائی، کارکردگی اور قابلِ اعتماد ہونے کی صلاحیت بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے سابق وزیر اعظم اور اپنے شوہر راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا تھا اور وہ اس ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
محترمہ گاندھی نے اپنی آنے والی خودنوشت کتاب ‘بیلونگ: اے جرنی آف لو’ میں بیان کیے گئے واقعات سے متعلق ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ہفتہ کو بتایا کہ ان دنوں انگلینڈ میں انہیں کھانا بہت خراب لگتا تھا۔ اس وقت آج کی طرح اتنے ریستوراں بھی نہیں ہوا کرتے تھے، اس لیے وہ مسلسل ایسی جگہ تلاش کرتی رہتی تھیں، جہاں انہیں اپنی پسند کا کھانا، خاص طور پر اطالوی کھانا مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی تلاش کے دوران انہیں ایک یونانی ریستوراں کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں کئی طلبہ، خاص طور پر یورپی اور ہندوستانی طلبہ کھانا کھانے جایا کرتے تھے۔ اسی ریستوراں میں ان کی راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ پہلی ملاقات میں ہی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ مسٹر گاندھی ایسے شخص ہیں، جن کے ساتھ وہ زندگی گزارنا چاہیں گی۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ راجیو گاندھی نے بھی ان کے بارے میں ایسا ہی محسوس کیا تھا۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ سب سے پہلے ان دونوں کے ایک مشترکہ دوست نے ان کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد وہ دوست بن گئے اور اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹیوں میں جانے اور سیاحتی مقامات کی سیر کرنے لگے۔ محترمہ گاندھی نے ویلنٹائن پارٹی کا بھی ذکر کیا، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی تھی۔
راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہا کہ وہ بہت پرکشش شخصیت کے مالک تھے، لیکن ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی کی یہی سادگی ان کے دل کو چھو گئی تھی اور وہ ان سے اپنی پہلی ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ووٹر فہرست کی خامیوں کے لیئے سافٹ ویئرکوموردالزام ٹھہرانا ناقابل قبول: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں خامیوں کے تعلق سے الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی منظم سازش کا الزام سافٹ ویئرلگانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں ایک ووٹر کا نام ‘رام نے یادو کو مارا’ اور اس کے والد کا نام ‘مورکھ چندر یادو’ درج ہے۔ اسی طرح ایک ووٹر کے والد کا نام ‘بی کام’ اور ایک دوسرے ووٹر کا نام ‘رام نے شرما کا نام’ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کو درست کرنے کے اعلان کردہ مقصد سے شروع کیے گئے خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل نے ان فہرستوں کی ساکھ کو مزید شکوک و شبہات کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا اور ہریانہ، مہاراشٹر نیز مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں کے انتخابات میں ووٹ چوری کے حوالے سے لوگوں کے شبہات اب یقین میں بدلتے جا رہے ہیں۔ ان کی پارٹی کا واضح موقف ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملی بھگت کرکے انتخابات جیتے ہیں۔ ووٹ چوری کے معاملے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی مسٹر گاندھی پر ذاتی حملے کر رہی ہے۔
کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے، بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے چلائے جا رہے ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے، ووٹر فہرست کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے، مکمل مشین ریڈیبل ڈیٹا عام کرنے اور ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
ہندوستان1 week agoتمل ناڈو اور کرناٹک میں شدید بارش کی وارننگ، جنوبی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان
-
ہندوستان1 week agoیوپی، اتراکھنڈ اور پنجاب انتخابات سے پہلے بی ایس پی کے خلاف ‘فرضی سروے’ کی تشہیر، کارکنان ہوشیار رہیں: مایاوتی
